پیر , 14 اکتوبر 2019

ڈونلڈ ٹرمپ ۔ ایک تجزیہ

(شوکت علی شاہ)

امریکہ کی تاریخ کوئی زیادتی پرانی نہیں ہے۔ 1498 ء کے لگ بھگ ہسپانوی ملاح کولمبس نے اس براعظم پر قدم رکھا اور اسے السلوا ڈور کا نام دیا ۔ کیوبا بھی اس کی دریافت ہے۔ گو اس سلسلے میں کچھ اختلاف رائے بھی ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دریافت کا اصل سہرا مارٹن الونسو پنزان کے سر سجنا چاہئے ناکہ ’’جولاہے کے بیٹے‘‘ کو کریڈٹ دیا جائے۔ (کولمبس ذات کا جلاہا تھا )بہرحال یہ رُتبہ بلند جسے ملنا تھا مل گیا۔ شاہ فرڈی ننڈ اور ملکہ ازابیلا سے مہم جوئی کے لیے خطیر رقم اس نے حاصل کی۔ سول وار کے بعد 1787ء میں جارج واشنگٹن پہلا صدر بنا۔ اس نے امریکہ کو آئین دیا۔ امریکی آئین کی اساس (CHECKS and BALANCES) پر رکھی گئی ہے۔ کچھ یوں گمان ہوتا ہے کہ (FOUNDING FATHERS) فرانسیسی پولیٹیکل فلاسفر مانٹیک کی تعلیمات سے متاثر تھے، جس نے لکھا تھا :

POWER CORRUPTS and ABSOLUTE POWER CORRUPTS ABSOLUTELY. ACCUMULATION OF all POWERS IN ONE HAND. MAY BE THE VERY DEFINITION OF TYRRANY,

تمام اختیارات صدر سینٹ اور عدلیہ کو تفویض کئے گئے۔ جارج واشنگٹن بڑا مقبول صدر تھا۔ باایں ہمہ اس نے تیسری مرتبہ الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت سے ایک روایت پڑ گئی کہ کوئی صدر تیسری مرتبہ الیکشن نہیں لڑے گا۔ یہ روایت صدر روزویلٹ نے توڑ دی۔ اس کی وجہ دوسری جنگ عظیم تھی۔ جب تیسری مرتبہ الیکشن لڑنے پر اُس کی توجہ روایت کی طرف مبذول کرائی گئی تو اس کا استدلال بڑا دلچسپ تھا۔

HORSES IN THE MID STREAM, DO YOU WANT TO CHANGE

چنانچہ وہ تیسری اورچوتھی مرتبہ صدر منتخب ہو گیا۔ زندگی نے وفا نہ کی اور چو تھی ’’ٹرم‘‘ پوری نہ کر سکا۔ نتیجتاً نائب صدر ٹرومین ، صدر امریکہ بن گیا۔ یہ وہی ذاتِ شریف ہے جس کا حکم پر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرایا گیا تھا۔ اس کا دوسرا کارنامہ امریکن وارہیرو اور پیسیفک کمانڈ کے انچارج ڈگلس میک آرتھر کو نوکری سے فارغ کرنا تھا۔ بظاہراً میک آرتھر کا لکھا ہوا خط وجہ تنازعہ بنا جس کی شروعات اس لفظ سے ہوتی تھیں۔ (THESE POLITCIANS) اس کا خیال تھا کہ سیاست دان دوغلے پن کا شکار ہیں۔ (اگر یہی خط ہمارے سیاست دانوں کو لکھا جاتا تو یہ اسے فریم کروا کے ڈرائنگ روم میں لٹکاتے یا حرز جاں بناتے ۔ (گلے کا تعویذ، جو دل کی دھڑکنوں سے براہ راست ٹکراتا ہے)

’’راندہ درگاہ‘‘ میک آرتھر جب امریکہ پہنچا تو اس کا ایک قومی ہیرو کی طرح استقبال کیا گیا۔ امریکن کانگرس نے اسے خطاب کی دعوت دی جہاں پر اس نے یادگار ”OLD SOLDIERS NEVER DIE, THEY FADE AWAY in HISYORY” تقریر کی۔

امریکی صدر ابراہام لنکن کا نام بھی سُنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ اس نے غلامی کی لعنت ختم کی گو بعد میں اسے اس کی بھاری قیمت چُکانا پڑی۔ نسل پرستوں نے اسے قتل کر دیا۔ اس کے شوق اور لگن کا یہ عالم تھا کہ آئین میں ترمیم کے لیے آخری ووٹ نیواڈا کا درکار تھا۔ نیو اڈا جو آجکل جوئے کا گڑھ ہے اس وقت اسکی غربت کا یہ عالم تھاکہ آئین ٹیلکس کرنے کے لیے اس کے پاس چند ڈالر بھی نہ تھے۔ وہ رقم لنکن کو بھیجنا پڑی۔

اسکے بعد کئی صدور آئے۔ طاقتور، کمزور، گمنام ، بد مست، عیاش ، اوباش، خوبرو اور بدصورت لیکن ایک حقیقت نہ بدلی۔ وہ جس کا ذکر ایک تقریب میں صدر TAFT کے حواری نے کیا تھا۔ اس کا تعارف کراتے ہوئے بولا۔ ’’معزز خواتین و حضرات مجھے آج اس شخص کو متعارف کرانے کا شرف حاصل ہوا ہے، جس کی طاقت اور اختیارات کے سامنے یورپ کے سب بادشاہ پانی بھرتے ہیں۔ امریکہ کوجان ۔ ایف کینیڈی جیسا صدر نصیب ہوا ہے جو رنگین مزاج ہونے کے باوصف عزم و ہمت کا استعارہ تھا۔ اس نے روس کی طاقت کا بھرم بحرہِ کریبئین میں کھول کر رکھ دیا۔ روس کے ایٹمی ہتھیاروں سے لدے جہازوں کو واپس جانا پڑا۔ وہ اپنی منزل کیوبا نہ پہنچ سکے۔ کینیڈی کئی اعتبار سے خوش قسمت تھا۔ ایک تو اس کی بیوی جیکی اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھی اوردوسرا مارلن منرو سے معاشقہ بھی کم از کم اس کی زندگی میں طشت ازبام نہ ہوسکا۔ جب بھی جیکولین گھر سے باہر ہوتی ، ماڈل ایکٹریس مارلن منرو وائیٹ ہائوس کے اندر پائی جاتی۔ میڈیا میں اتنی سونگھنے کی صلاحیت نہ تھی جتنی (SNIFFING POWER) کلنٹن کے دور میں آئی۔ مانیکا لیونسکی کا اسکینڈل کھل کر سامنے آیا اور وہ (IMPEACH) ہوتے ہوتے بچا۔ گناہِ بے لذت ! ہلیری جیکی سے زیادہ شدت پسند نکلی۔ جیکی نے تو محض لعنت ملامت کی تھی، اس نیک بخت نے تو باقاعدہ ایش ٹرے اٹھا کر دے مارا جس سے صدر صاحب کا ماتھا گلنار ہو گیا اور کئی منطقے اُبھر آئے۔

امریکی صدارتی الیکشن میں تین قسم کے امیدوار ہوتے ہیں۔ ’’فیورٹ سنز ‘‘ منطقی امیدوار اور ڈارک ہارسز۔‘‘ فیورٹ سنز تو نیشنل ہیروز ہوتے ہیں جیسے جارج واشنگٹن اور جنرل آئیزن ہاور تھے۔ آئیزن ہاور بھی ’وار‘ ہیرو تھا ایٹلانٹک کمانڈ کا انچارج۔ جنگ جیت کر وہ ہیرو بن گیا۔ ہرچند کہ میک آرتھر ایسا نہیں سمجھتا تھا۔ کسی نے آئزن ہاورن کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔ (HE WAS VERY GOOD AT DRAFTING,اس پر میک آر تھرترت بولا YES. YOU HAD TO ONLY TELL HIM WHAT TO DRAFT. تھا۔ وہ ایمانداری سے سمجھتا تھا کہ صدارت اس کا حق تھا۔ یہ یورپی لوگوں کا تعصب تھا۔ جو امریکہ کو پیسیفک نہیں بلکہ ATLANTIC POWER سمجھتی تھیں جسکی کمان آئزن ہاور کے پاس تھی۔ منطقی امیدوار وہ ہوتا ہے جو دوسری بار الیکشن لڑ رہا ہو اور پہلے سے وائیٹ ہائوس میں ہو۔ یا نائب صدر! ڈارک ہارسز میں جمی کارٹر یا حضرت ٹرمپ ٹائپ قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جمی کارٹر تو بہادر شاہ ظفر کے اس شعر کی زندہ تصویر تھا۔

؎جو کسی کے کام نہ آ سکے م میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں

البتہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار گفتار، رفتار اور طرزِ حکمرانی محلِ نظر ہے۔ اس کا ریپبلکن پارٹی کی طرف سے نامزد ہونا اور پھر الیکشن جیت جانا (FREAK OF HISTORY) (تاریخ کی ستم ظریفی تھا۔ مورخ ایک طویل عرصہ تک اس کی جیت کی وجوہ تلاش کرتے رہیں گے۔ اس کے مدِمقابل ایک تجربہ کار خاتون ہلیری کلنٹن تھی جو آٹھ سال تک خاتونِ اول رہی۔ چار سال تک سیکرٹری آف اسٹیٹ کا عہدہ سنبھالے رکھا۔ نیویارک سے سینیٹر منتخب ہوتی رہی۔مصنف ، مدبر، زیرک اور تجربہ کار تھیں۔ تمام اوپنینین پولز میں آٹھ پوائنٹ اس سے آگے تھی۔ تینوں صدارتی مباحثوں میں اسے چاروں شانے چت کیا۔ اسکی برہنہ گفتاری کے مقابلے میں بڑی مدلل اور متوازن گفتگو کرتی تھیں۔ تمام پریس ٹرمپ کے خلاف تھا۔ جب سے یہ ایک کانفرنس میں خاتون صحافی سے اُلجھا تھا اور اسکے خلاف نازیبا بلکہ اخلاق سے گرے ہوئے الفاظ استعمال کئے تھے، پریس نے اس کو نشانے پر رکھ لیا تھا…جمہوری ملکوں میں کسی بزنس ٹائیکون کا کامیاب ہونا مشکل ہوتا ہے۔ یہ شرف پاکستان کو حاصل تھا یا پھر امریکہ کے حصے میں آیا۔ اس نے تو اتنا تردد بھی نہ کیا جتنا حضرت شہباز شریف، جالب کی نظمیں مترنم انداز میں پڑھ کر کیا کرتے تھے۔ ’’دیپ جس کے محلات ہی میں جلیں‘‘ تنگ و تاریک کمرے میں ایک ٹمٹماتے ہوئے چراغ کو انہوں نے جاتی امرا کے محل میں جلا کر اسے بُقعہِ نور بنا دیا۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کی عمارت تین وعدوں پر کھڑی کی۔ 1 ۔ مسلمانوں کانمدا کس دے گا۔ 2 ۔ میکسیکو اور امریکہ کے درمیان دیوار کھڑی کر دے گا۔ 3 ۔(HE WILL MAKE AMERICA GREAT AGAIN)

تمام تر تجزیوں اور توقعات کے برعکس ٹرمپ الیکشن جیت گیا۔ یہ فتح دراصل ایک فرد واحد کی نہیں بلکہ ’بیمار ذہن‘‘ کی تھی 9/11 کے واقعہ نے اہل امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ نسلی تعصب نے ایک عارضے کی شکل اختیار کر لی۔ انہیں ایک نجات دہندہ کی ضرورت تھی جو انہیں دہشت گردی کے عذاب مسلسل سے نجات دلائے۔ ا س کی چالاکی یہ تھی کہ ٹرمپ نے پوری امریکی قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا۔ اس کے انٹ شنٹ وعدوں پر لوگوں نے اعتبار کیا۔نتیجتاً نہ صرف امریکی قوم بلکہ پوری دنیا اسے بھگت رہی ہے۔ افریقہ کے پیٹرس لوممبا کے متعلق ایک مرتبہ رئیس امروہوی مرحوم نے قطعہ لکھا تھا جو اس پر بھی صادق آتا ہے۔ ؎

وہ باتیں جن پر غیروں کو تعجب

وہ باتیں جن پہ اپنوں کو اچنبا

مسلسل بے تُکے پن کے مظاہر

میاں تم آدمی ہو یا لوممبا

کیا کوئی وعدہ پورا ہوا ہے؟ مسلمانوں کے امریکہ داخلے کی بندش عدالتی حکم سے رک گئی ہے۔ دیوار کی تعمیر کے لیے کانگرس نے رقم دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکہ نے عظیم کیا بننا تھا ۔ اس کی رہی سہی عظمت کو بھی اس شخص نے گہنا دیا ہے۔ یورپ میں امریکہ کی باتوں کو بڑی سنجیدگی سے سنا جاتا تھا۔ نیٹو کی وجہ سے اس کا وزن تھا۔ تجارتی امور میں بھی اس کا پلڑا بھاری تھا۔ اب جب یہ بات کرتا ہے یا کوئی ہدایت دیتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ مجذوب کی بڑ ہے۔ امریکہ کے وقار کو اس شخص کی پالیسیوں اور غیر ذمہ دارانہ باتوں سے کاری ضرب لگی ہے۔ چین کے ساتھ اس نے جو ٹریڈ وار شروع کی ہے ا س میں بھی اسکی ہار صاف نظر آ رہی ہے۔ شمالی کوریا کے صدر ’’اُن‘‘ کے ساتھ جو جُگت بازی شروع کی وہ کبھی برصغیر کے مراثیوں ا ور بھانڈوں کا خاصا تھا۔ کبھی اس کو راکٹ مین کہا تو کبھی گول مول بونے کا خطاب دیا۔ جو اب آں غزل کے طور پر اس نے بھی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی اور اسے پاگل‘ بدحواس‘ مختل اور خبطی بوڑھا قرار دیا۔ امریکہ کی ہسٹری میں اتنے بڑے عہدے کی اس قدر تذلیل کبھی نہیں ہوئی۔ پاکستان کے متعلق اس کے بیانات ہر روز بدلتے ہیں۔ ابھی پہلے بیان کی سیاسی خشک نہیں ہو پاتی کہ یہ کوئی نیا بیان داغ دیتا ہے…سوائے اسرائیل کے تمام دنیا اس سے ناخوش و نالاں ہے۔ وہاں اسے یہودیوں کا یہودی سمجھا جاتا ہے۔ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ شفٹ کرنے کا ’’شرف‘‘ اسے حاصل ہے۔ اب گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ فلسطین کی مالی امداد بند کر دی ہے۔ اندرونِ ملک بھی اسکی سیما بیت دیکھنے کے لائق ہے۔ ہر روز ناشتے سے پہلے وائیٹ ہائوس کا کوئی نہ کوئی اہلکار نوکری سے فارغ کردیا جاتا ہے۔

ان معروضی حالات میں ان بوالبعجبیوں کے باوصف کیا اگلا الیکشن یہ جیت پائے گا؟ جو اب ایک تکلیف دہ ’’ہاں‘‘ میں ہے۔ جب تک ملک میں بیمار ذہن نہیں بدلتا ایک متلون مزاج شخص کی کامیابی کے امکانات بھی کم نہیں ہونگے!

یہ بھی دیکھیں

نجف تا کربلا، سفر عشق و شعور

توقیر کھرل امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین علیہ السلام کے چہلم میں چند …