جمعہ , 19 جولائی 2019

مودی کے پانچ سال صرف مسلم دشمنی پرمبنی

(عبدالرفع رسول)

دہلی کے تخت پربرسہا برس اقتدار میں رہ کر کانگریس کی کئی محاذ پر ناکامیوںکے بعد افسوس کہ بھاجپا کو ملنے والی بھاری اکثریت نے اسے اس قدر مغرور کر دیا اور حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے والے اپنی آبائی تنظیم آر ایس ایس کے ایک مخصوص نظریہ ہندوتوا کو گھر گھر پہنچانے کے لئے رام مندر،لوجہاد،،گھر واپسی،گو مانس،گورکھشا،عدم رواداری،کنہیا،پاکستان بھیجو،بنگلہ دیش،وندے ماترم،بھارت ماتا کی جئے، تین طلاق، پرسنل لا ، وغیرہ کونافذ کرنے کی کوششیں ہونے لگیں تاکہ منافرت اور خوف ودہشت کا ماحول تیار کرکے اپنے ایجنڈے ہندوتوا کو نافذ کیا جا سکے، ان کوششوں میں مودی اوراسکی پارٹی بی جے پی، آر ایس ایس کے حکم کو نافذا لعمل کرنے میں اس قدر منہمک ہو گئی کہ بھارتی عوام کااصل مسئلہ بھوک اوربے روزگاری دورکرنے کے حوالے سے یہ پوری طرح غافل ہو گئی اور صرف جھوٹے وعدے، طرح طرح کے خو شنما خواب اورحقیقت سے کوسوںدور کے دعوے کئے جاتے رہے۔ بھارتی عوام نے جن امیدوں کے ساتھ مودی کے وعدوں اور دعوئوںپر بھروسہ کر کے کانگریس ’’یوپی اے ‘‘کوشکست دے کر بھاجپا’’این ڈی اے ‘‘کو حکومت کی باگ ڈور سونپی تھی ،وہ تمام امیدیںبہت جلد ٹوٹ کر بکھر گئیں۔ بھارتی عوام بھوک، پیاس ،غربت، بے روزگاری، مہنگائی،بدعنوانی،اور جرائم سے تو پریشان تھے ہی ، ساتھ ہی ساتھ ان میں مزید اضافہ یہ ہوا کہ عوام کا سکون اور چین ختم کر دیا گیا ۔ بھارتی مسلمانوں کے تئیں منافرت،خوف ودہشت پیدا کرنے کی منظم کوششوں سے مودی کے بھارت کااصل چہرہ سامنے آگیا ۔ کلبرگی،دابھولکر، پنسارے اور گوری لنکیش وغیرہ جوہندوہونے کے باوجودمودی حکومت کے ناقدتھے اسی جرم کی پاداش میںبے دردی اور بے رحمی سے قتل کئے گئے ۔بھارت کے کئی دانشور وں نے ملک کے اندر بڑھتی منافرت ، خوف و دہشت اور عدم رواداری کے خلاف احتجاج میں اپنے ایوارڈ تک واپس کر دئے ۔

مودی کے بھارت میں بڑھتی غربت کے باعث بھوکے رہنے والوں کے تعلق سے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارت کی موجودہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے 30 کروڑ لوگ ہر دن بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہیں ۔ اس رپورٹ سے بھی بی جے پی حکومت کے جھوٹے دعوے کی پول کھلی۔ ملک کے نوجوان اپنی بے کاری سے پریشان اور خوف زدہ ہیں ، ملک میں نوکریوں کی تعداد بڑھتی کیا ، اور ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار ملنے کا وعدہ وفا کیا ہوتا کہ دن بدن حکومت کی غلط پالیسیوں اور منصوبوں کے باعث نوکری گھٹتی ہی جا رہی ہے۔ آئی ٹی سیکٹر میں زبردست مندی نے نوجوانوں کے ہوش اڑا دئے ہیں اور انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا ہے ۔ دن بہ دن (جی ڈی پی ( مجموعی قومی پیداوارلگاتار گرتا جا رہا ہے ۔ ملک کے تمام بینک زبردست خسارے میں چل رہے ہیں ۔(ADB)نے بھی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے ہونے والے بھاری نقصان کو وجہ بتاتے ہوئے بھارت کا ترقیاتی درجہ گھٹا دیا ہے ۔ سشما سوراج، وسوندھرا راجے سندھیا ، شیو راج سنگھ چوہان ،یدورپا وغیرہ نے بدعنوانی کاپچھلاسارا ریکارڈ توڑ کر نیا ریکارڈ بنا دیا ۔بیرون ممالک کے بنکوں میں بھارتی کرپٹ سیاست دانوں اور صنعت کاروں کے ذریعہ جمع کئے گئے کالے دھن کو واپس لائے جانے کا وعدہ وفا کیا ہوتا ، اس کے برعکس ملک کے بنکوںکو اربوں روپے کا چونا لگا کر ملک کا گورا’’سفید‘‘دھن بھی کئی مودیوں اور وجئے مالیا جیسے لوگ لے اڑے اور مودی حکومت دانستہ طور پرخاموش تماشائی بنی رہی ۔ راہل گاندھی کے بیان پر یقین کیا جائے تو ان کی یہ بات حیر ت میں مبتلا کرنے والی نہیں ہے کہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ نوٹ بندی ہے ۔

یہ الزام سچ کے قریب اس لئے بھی لگتا ہے کہ نوٹ بندی کی طے شدہ تاریخ کے بعد بھی گجرات کے مختلف علاقوں کے بنکوں میں کروڑ روپے جمع ہوتے رہے۔ ساتھ ہی ساتھ نوٹوں کی چھپائی میں جس طرح پانی کی طرح پیسے بہائے گئے ، ان سب حالات نے مل کر جہاں ایک جانب مٹھی بھر لوگوں کی تجوریوں کو بھرا ، وہیں دوسری جانب ملک کی معیشت کو تباہ وبرباد کر دیا ، جس کی تفصیلات ریزرو بنک آف انڈیا کے قضیہ میں پرت در پرت کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ اب توگانگریس نے مودی کے نوٹ بندی کامیگاسیکنڈل سامنے لایاہے جوہوشرباہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی بھارتی سپریم کورٹ نے ایسے سیاسی لیڈران کی بہت کم مدت میں تیزی سے بڑھی جانے والی جائیداد اور آمدنی پر بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے 289سیاسی لیڈروںکی املاک سے متعلق مودی حکومت سے جواب طلب کیا تھا ۔ بی جے پی نے بھارت کے عوام کی بجائے اپنی پارٹی کی ترقی کو ترجیح دی۔ بی جے پی نے صنعت کاروں سے چندہ لینے میں بھی پچھلا سارا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔ ابھی ابھی سپریم کورٹ نے ایک عرضی سماعت کے لئے قبول کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صنعت کاروں اور دیگر تجارتی اداروں کے ذریعہ دئے جانے والے دو ہزار کروڑ روپے کے چندہ میں بی جے پی نے 97 فیصدچندہ لے کر ایک ریکارڈ بنایا ہے ، بقیہ 3 فیصدمیںملک کی دوسری سیاسی پارٹیاں شامل ہیں ۔ اس پورے منظر نامے کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جس طرح موجودہ مودی کی تنقید میں مختلف گوشوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں ، وہ یقینی طور پر مودی کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہیں۔

مشکل یہ بھی ہے کہ اس وقت مودی حکومت پر ہر چہار جانب سے ان کے ہم نوا بھی بہت ہی جارحانہ حملے کر رہے ہیں اور حکومت کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں ۔شتروگھن سنہا، یشونت سنہا، ارون شوری،مرلی منوہر جوشی وغیرہ جیسے صف اول کے بھاجپا لیڈروں کے ساتھ ساتھ نو نرمان سینا کے صدرراج ٹھاکرے نے مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس سوشل میڈیا کی مدد سے نریندر مودی نے 2014 ء میں اقتدار حاصل کیا تھا ، وہی سوشل میڈیا ان دنوںمودی اور بھاجپا پر بھاری پڑ رہا ہے۔ جیسا بوتے ہیں ، ویسا ہی کاٹتے ہیں ۔ مہاراشٹر حکومت میں شامل اور ابھی بی جے پی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنے والی شو سینا کے لیڈر نے بھی کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک بیان میں مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی کے لیڈر معاشی بحران کے خلاف بات کرنے سے ڈرتے ہیں ۔ ہر وہ حربہ جومسلم شناخت کو ختم کرکے مودی کے ایجنڈہ ہندوتوا کو متاثر کرے اور بھارت کے ووٹر، تمام تر، ترقیاتی کاموںنیز، بھوک، پیاس ،بے روزگاری، مہنگائی،غربت، نا خواندگی،بہتر صحت کی عدم سہولیات جیسے بنیادی مسائل کو بھول کر انہیں ووٹ دیں ، ایسی کوششیں ہو رہی ہیں ، ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ وزیر اعظم جیسے عہدے پر رہنے والا بھی ہندو کارڈ کھیلنے کو مجبور ہو جائے اور اپنی سیاسی کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لئے ملک کی ہند واکثریت کو کانگریس کے خلاف للکارتے ہوئے یہ کہے کہ اب سے پہلے کسی نے بھی ہندئووں کو بدنام کرنے کے لئے ہندو دہشت گردی کا نام نہیں لیا تھا ۔ اب مودی کو کون بتائے کہ، دابھولکر، پنسارے، کلبرگی ، گوری لنکیش وغیرہ کو موت کے گھاٹ اتاردئے جانے کو کون سا نام دیا جائے گا؟ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

تحریر: محمد سلمان مہدی اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے …