بدھ , 17 جولائی 2019

الیکشن جیتنے کیلئے رچایا گیا مودی ڈرامہ

بھارت نے 26فروری کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، اگرچہ اس نے دعوے تو بہت سارے کئے کہ اس نے بالاکوٹ میں قائم دہشتگردوں کے کیمپ پر حملہ کر کے اسے تبا ہ کیا اور 300دہشتگردوں کو ہلاک کیا لیکن زمینی حقیقت یہ تھی جو پوری دنیا نے ٹیلی وژن سکرین پر دیکھی کہ چند پودوں کو نقصان پہنچا اور ایک کوے کی جان گئی۔ اگرچہ بھارت اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا اور اس کے جہازوں کو جوابی کارروائی کے خوف سے جلدی میں فرار ہونا پڑا اور کسی ہدف کو نشانہ نہ بنا سکے لیکن واقعہ بہت بڑا تھا عوام میں تشویش بلکہ ناراضگی بھی پائی گئی کہ بھارت کے جہاز اندر کیسے آئے۔ دوسری طرف بھارت نے اپنی کامیابی کے جھوٹے دعوؤں سے دنیا میں ہلچل مچا دی اس کا میڈیا اپنے سورماؤں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا رہا، اس ایک رات میں شرپسند بھارت کا جنگی جنون سرچڑھ کر بولتا رہا اور دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کر تا رہا۔ اس وقعے کے بعد پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی میڈیا کو اس جگہ کا دورہ کرایا گیا اور اس دورے کے بعد مسٹر نیتھن رسر جو آسڑیلین سٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ممبر ہیں نے یہ لکھا کہ انہیں کسی نقصان کے کوئی آثار نہیں ملے۔ اسی طرح اٹلانٹک کونسل کی فرانزک ڈیجیٹل کے مائیکل شیلڈن نے کوئی نقصان نہ ہونے کی تصدیق کی اور یوں بھارت کو بین الاقوامی سطح پر شرمندگی اُٹھانا پڑی اور پاکستان کے مؤقف کی تائید ہوئی۔ اپنی اس شرمندگی کو مٹانے کیلئے بھارت نے اگلے دن پھر حماقت کر ڈالی اور اپنے دو طیارے دوبارہ پاکستانی حدود میں بھیج دئیے لیکن ہوا وہی یعنی الحمد اللہ کہ مومن ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا اور اس با ر یہ درانداز پاکستانی شاہینوں کی زد میں آگئے اور مار گرائے گئے۔ بھارت اس بات کو بھی تسلیم نہ کرتا اگر اسکے مگ21 کا پائلٹ ابھی نندن زندہ بچ کر پاک فوج کے ہاتھوں گرفتار نہ ہوگیا ہوتا۔ ویسے یہ گرفتاری اس کیلئے غنیمت ثابت ہوئی کیونکہ اس سے پہلے علاقہ مکین لاتوں اور مکوں سے اس کی خوب تواضع کر چکے تھے اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کیساتھ مزید کیا سلوک ہوتا۔

بھارت کیلئے دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ ابھی نندن کو اسکے رینک کے مطابق پورے پروٹوکول کیساتھ پی اے ایف میس میں رکھا گیا اس نے بڑے معقول ماحول میں چائے پیتے ہوئے اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کرایا، اس کے زخموں کی مرہم پٹی کی گئی اور پوری طرح آرام دہ ماحول میں رکھا گیا۔ ایک اور شکست بھارت کو یوں ہوئی کہ پاکستان نے اس کے گرفتار شدہ پائلٹ ابھی نندن کیساتھ انتہائی مہذب سلوک کے بعد صرف دو دن بعد بھارت کے حوالے کردیا نہ تضحیک کی نہ تذلیل کی، نہ بھارت کے کسی روئیے کا جواب دیا، نہ سپاہی مقبول حسین کا بدلہ لیا۔ اب اس سب کچھ کے بعد بھارت کے پاس کھمبا نوچنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا سو اس کا میڈیا پھر چیخ اُٹھا۔ یو ں الیکشن جیتنے کیلئے رچایا گیا مودی کا ڈرامہ بری طرح ناکام ہوگیا اور پورے پورے ثبوتوں کیساتھ ناکام ہوا لیکن بھارت اپنی اس ضد پر اڑا رہا کہ اس نے پاکستان کا ایک ایف16 طیارہ مار گرایا ہے تاہم اس کے اس دعوے کی تردید اس بار امریکہ کی وزارت دفاع یعنی پینٹاگون نے پُرزور انداز میں کی اور واضح کیا کہ پاکستان میں موجود تمام ایف16طیارے درست حالت میں موجود ہیں، ان کی باقاعدہ گنتی کی گئی اور تمام طیارے موجود پائے گئے یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ پاکستان اور پینٹاگون کے تعلقات کچھ بہت خوشگوار نہیں بلکہ اکثر اوقات تناؤ کا شکار رہتے ہیں لہٰذا یہ بات تو خارج ازامکان ہے کہ امر یکہ نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرنے کیلئے یہ بات کی ہے، بات یہ بھی حیرت انگیز ہے کہ اس دور میں جب معمولی سے معمولی واقعہ بھی میڈیا کے کیمروں کی آنکھ سے اوجھل نہیں رہتا ایک پورا جہاز گرے اور میڈیا کو پتہ نہ چلے یہ ممکن ہی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس وقت پاکستان کا پلڑا مسلسل بھارت کے اوپر بھاری ہے کہ نہ صرف پاک فوج اور پاک فضائیہ کا ہاتھ بھارت کے اوپر رہا بلکہ پاکستان کا میڈیا بھی انتہائی حقیقت پسندانہ رپورٹنگ کرتا رہا اور ایک بہت ہی قابل تعریف کردار ادا کرتا رہا جس نے بھارت کو چت کیا۔ اگر دیکھا جائے تو یہ دور بجائے میدان جنگ میں بھڑنے کے میڈیا پر مؤقف کے مناسب وضاحت کا ہے جو بھارت ہر میدان پر ہار چکا ہے اور پاکستان جیت چکا ہے۔

اب بھارت کے حکمرانوں کو بھی عقل سے کام لینا چاہئے جو اپنے انتخابات جیتنے کیلئے اپنے عوام کو جنگ کی آگ میں جھونکنے سے بھی نہیں چونکتے بلکہ ایسی جیت کیلئے وہ جنگ کے نعرے لگاتا ہے اور سرحدوں پر فوجیں لگا دیتا ہے نہ صرف یہ کہ علاقے کا امن داؤ پر لگا دیتا ہے بلکہ اپنے عوام کا بھی اُس کو خیال نہیں ہوتا نہ اُن کی غربت کا احساس کیا جاتا ہے نہ بھوک کا نہ کپڑے کا نہ مکان کا۔ اسے بس ایک ہی جنون ہوتا ہے کہ حکمران دوبارہ اقتدار میں آئیں اور یہ رویہ کسی ایک پارٹی سے مخصوص نہیں بلکہ جو بھی حکمران ہو اس کا اندازِحکمرانی یہی ہے وہ سچ اُسی وقت بولتے ہیں جب اپوزیشن میں ہوں اور یہی اب کی بار بھی ہوا اور پوری اپوزیشن حکومت کیخلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور حکومت کی مخالفت میں سب سچ بول گئے۔ حکومت پر خوب تنقید ہوئی لیکن اس وقت ضرورت صرف تنقید کی نہیں بلکہ بھارت کے روئیے میں تبدیلی کی ہے اسے جتنی شرمندگی اُٹھانی پڑی ہے اسی کو کافی سمجھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں اور علاقے کے امن کا دشمن نہ بنے ورنہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ ایٹمی قوت ہے تو پاکستان اس میدان میں بھی اس پر برتری رکھتا ہے لہٰذا اس کیلئے احتیاط ضروری ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی مزاحمت کاروں کی ڈرون ٹیکنالوجی کی صہیونی ریاست پردہشت طاری!

فلسطینی مزاحمت کاروں کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت اور ترقی پذیر ڈرون ٹیکنالوجی نے دنیا …