اتوار , 20 اکتوبر 2019

بھارت اپنے ’شکن‘ میزائل کو کتنا پر امن رکھے گا؟

(صادقہ خان)

گزشتہ ماہ مارچ میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان نے مصنوعی سٹیلائٹس کو خلا میں تباہ کرنے والے ایک نئے بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ بلیسٹک میزائل ہندوستان کے سرکاری دفاعی ادارے ’’ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن’’ کے مشن شکتی کے تحت تیار کیا گیا۔ اس کا تجربہ کرتے ہوئے اسے ریاست اڑیسہ کے "انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج” سے فائر کیا گیا اور اس کا نشانہ نچلے زمینی مدار میں زمین سے 300 کلومیٹر کی بلندی پر ایک مصنوعی سٹیلائٹ تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بیلسٹک میزائل نے صرف 3 منٹ کے قلیل وقت میں کامیابی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنایا، مگر تباہ ہونے والے مصنوعی سیارے کے متعلق کوئی معلومات جاری نہیں کی گئی اور نہ ہی تجربے کی باقاعدہ ویڈیو یا تصاویر جاری کی گئیں۔

بھارتی میڈیا نے اس پر خوشی بھی کی کہ بھارت اب امریکا، روس اور چین کے بعد چوتھی "خلائی طاقت” بن گیا ہے جس کے پاس مصنوعی سٹیلائٹ یا سیارچوں کو خلا میں تباہ کرنے والے بلیسٹک میزائل ہیں۔ اس سے پہلے 2007 میں چین نے سٹیلائٹ شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا تو بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے کافی مذمت کی گئی تھی مگر ابھی تک بھارت کے لیے ایسی مذمت یا تنقید سامنے نہیں آئی، البتہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے سربراہ نے بھارت کے اس تجربے پر شبہات کا اظہار کیا تھا۔

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ بھارت کے اس تجربے کی مذمت کیوں نہیں کی گئیِ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں سب سے پہلے یہ جاننا کی ضرورت ہوگی کہ یہ مصنوعی سیارچے یا سٹیلائٹ کیا ہیں؟

پاکستان میں عام افراد جو دن بھر سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں وہ اس حوا لے سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے، سٹیلائٹس دو طرح کے ہوتے ہیں ان میں پہلی قسم کو نیچرل یا قدرتی سٹیلائٹ کہا جاتا ہے جس کی ایک مثال چاند ہے جسے زمین کا نیچرل سٹیلائٹ کہا جاتا ہے جو اس کے گرد محو گردش ہے۔ دوسری قسم مصنوعی یا آرٹیفیشل سٹیلائٹس کی ہے جنھیں مخصوص مقاصد کے لیے زمین کے نچلے درجے کے مدار میں بھیجا جاتا ہے۔

خلائی تاریخ کا سب سے پہلا مصنوعی سٹیلائٹ سوویت یونین نے 4 اکتوبر 1957 کو بھیجا تھا جس کا نام ” سپوتنک ون” تھا، تب سے اب تک پاکستان سمیت دنیا بھر کے 40 ممالک تقریبا 8،100 سٹیلائٹ زمین کے مدار میں بھیج چکے ہیں جن میں سے 500 نچلے درجے کے مدار یعنی ( لو ارتھ آربٹ 300 کلومیٹر کی بلندی پر ہیں) 50 پولر آربٹ یعنی (20،000 کلومیٹر کی بلندی پر) اور باقی اس سے اوپر کے مدار میں بھیجے گئے تھے جسے "جیو سٹیشنری آربٹ” یعنی(36،000 کلومیٹر کی بلندی) کہا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ سائنسدانوں نے اپنی کوششوں سے ہمارے نظام شمسی کے دیگر سیاروں مریخ، زہرہ، عطارد اور مشتری کے مداروں میں بھی کچھ سٹیلائٹ بھیجے ہیں جو ان کے مصنوعی سٹیلائٹ بن کر ان کے مدار میں محو گردش ہیں۔

زمین کے مدار میں بھیجے جانے والے مصنوعی سٹیلائٹس میں سے اب تک 1900 آپریشنل ہیں جب کہ باقی تکنیکی خرابیوں یا اپنی مدت پوری کر لینے کے بعد ناکارہ ہوچکے ہیں اور اسپیس جنک یا خلائی کچرے کی صورت میں زمین کے گرد خلائی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں، مگر انہی سٹیلائٹس کی بدولت یہ دنیا ایک گلوبل ولیج میں تبدیل ہوئی ہے اور یہ دنیا بھر میں ہر طرح کی معلومات کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ ہیں مگر عموما انھیں زراعت، رسد و رسائل، مواصلات، دفاع، قدرتی آفات سے متعلق معلومات، انٹرٹینمنٹ، موسمیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ اورخفیہ نگرانی جیسے مقاصد کے حصول کے لیے خلا میں بھیجا جاتا ہے۔لہذا انھیں سویلین اور ملٹری 2 طرح کی کیٹیگریز میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور ان کے مدار کا انحصار بھی ان کےخلا میں بھیجے جانے کے بنیادی مقصد پر ہوتا ہے۔

سویلین مقاصد کے لیے بھیجے جانے والے سٹیلائٹ زمین کی نقشہ کشی، موسم اور ماحولیات میں تبدیلیوں، اور زراعت و غیرہ میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہی کی بدولت قدرتی آفات سے بہتر طور پر نمٹنے کے لیے ریموٹ سینسنگ کی جدید تکنیک استعمال کی جارہی ہے۔

پاکستان نے 2018 میں چین کا لانچنگ پیڈ استعمال کرتے ہوئے 2 سٹیلائٹس خلا میں بھیجے تھے جن میں سے ایک ریموٹ سینسنگ سے متعلق تھا جبکہ دوسرا اندرون ملک بہتر کمیونیکیشن کے لیے لانچ کیا گیا تھا لیکن بہت سے ممالک نےکئی سٹیلائٹ دفاعی اور خفیہ مقاصد کے لیے بھی بھیجے ہوئے ہیں جن کےذریعے حریف ممالک کی نہ صرف خفیہ نگرانی کی جاتی ہے بلکہ ان کے دفاع سے متعلق اہم معلومات اور مقامات کی تصاویر بھی حاصل کی جا سکتی ہیں، ساتھ ہی کسی دوسرے ملک کی مواصلاتی سٹیلائٹ کو ہیک کر کے اپنی مرضی کی معلومات یا پروپیگنڈہ بھی نشر کرنا اب مشکل نہیں رہا۔

یہ صورتحال کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے بڑی پریشانی کا باعث رہی ہے جو اپنے حریف سے دفاع میں پیچھے ہیں اور ایٹمی صلاحیت حاصل کر نے کے لیے کوشاں ہیں مگر ان مصنوعی سٹیلائٹ کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے وہی ممالک سب سے پہلے خوفزدہ ہوئے جنھوں نے ان کا آغاز کیا تھا۔

سوویت یونین کی جانب سے مصنوعی سٹیلائٹ خلا میں بھیجے جانے کے فورا بعد ہی امریکی ملٹری نے ایسے میزائل پر کام کا آغاز کردیا تھا جس کی رینج کافی زیادہ ہو اور وہ لو ارتھ آربٹ میں مکمل درستگی کے ساتھ کسی سٹیلائٹ کو نشانہ بنا سکے۔ اس سلسلے کا پہلا میزائل 2 سٹیج پر مشتمل "بولڈ اورین میزائل "تھا جسے 1959 میں ناکارہ ہوجانے والے امریکی سٹیلائٹ ایکسپلورر 6 (6،4 کلومیٹر کی بلندی پر)کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ روس نے سٹیلائٹ شکن میزائل پر کافی سال بعد کام کا آغاز کیا۔ ان میزائل پر ٹیسٹ تجربات کے لیے تمام ناکارہ ہوجانے والے مواصلاتی یا موسمی سٹیلائٹ کو استعمال کیا گیا۔

زمین کے مدار میں گردش کرنے والے مصنوعی سٹیلائٹس کی رفتار عموما 8 کلومیٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے، اسی رفتار سے حرکت کرتے کسی شے کو نشانہ بنا نے کے لیے خاص قسم کے میزائل کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ ملٹی اسٹیج راکٹ کہلاتے ہیں، ان کی ایک مثال امریکا کے تیار کردہ "اے ایس ایم 135” میزائل ہیں۔

یہاں یہ ذکر بھی اہم ہے کہ کی بھی میزائل کو لانچ کرنے سے اپنے ٹارگٹ سٹیلائٹ کو جاکر تباہ کرنے تک کا پورا عمل 5 اسٹیجز پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں راڈار کے ذریعے ٹارگٹ کے درست مقام کی نشاندہی اور مسلسل ٹریکنگ کی جاتی ہے اور ہر اسٹیج میں میزائل کا ایک حصہ الگ ہوتا جاتا ہے، یوں ایک قوس بناتا ہوا میزائل مقررہ وقت میں اپنے ہدف سے جا ٹکراتا ہے۔

خلا یا سٹیلائٹ کے دفاع سے متعلق اس اہم ہتھیار کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس طاقت کے حامل تینوں ممالک روس، امریکا اور چین نے ابھی تک اسے اپنے حریف ملک کے سٹیلائٹ کو نشانہ بنا نے کے لیے استعمال نہیں کیا اور تجربات یا ٹیسٹنگ کے لیے اپنے ہی ناکارہ سٹیلائٹ استعمال کیے مگر گزشتہ ہفتے بھارت کی جانب سے سٹیلائٹ شکن بلیسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کے بعد کچھ ذرائع سے یہ اندیشہ سامنے آیا ہے کہ کیا بھارت دیگر ممالک کی طرح اس کا پر امن استعمال کر سکے گا؟

بھارت کی جانب سے اس تجربے کے پر امن استعمال کا تعین تو آنے والا وقت ہی کرے گا تاہم اگر ایسے تجربات کی وجہ سے خلا میں بڑھنے والے کچرے کی بات کی جائے تو ہمیں حیران کن صورتحال کا سامنا ہوگا، کیوں کہ جب 2007 میں جب چین نے اپنے سٹیلائٹ شکن میزائل کا ٹیسٹ کرتے ہوئے اپنا ایک ناکارہ موسمی سیارچہ تباہ کیا تھا تو اس کے تقریبا 2300 بڑے ٹکڑے خلا میں بکھر گئے تھے جبکہ چھوٹے ٹکڑوں کی تعداد لاکھوں میں تھی اگرچہ ان کا سائز ایک سینٹی میٹر تک ہوگا مگر یہ کسی بھی دوسرے سٹیلائٹ یا اسپیس شپ سے ٹکرا کر بڑے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔

خلائی آلودگی ایک سنگین مسئلے کی حیثیت اختیار کرتا جارہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق 9 اعشاریہ 4 ٹن وزنی خلائی ملبہ اسپیس شپ اور دیگر اجسام کی صورت میں اس وقت خلا میں زمین کے گرد محوِ گردش ہے اور اس کچرے کے ٹکڑوں کی رفتار 17500 میٹر فی گھنٹہ سے بھی زیادہ ہے، دستیاب معلومات کے مطابق خلائی کچرے کے زیادہ تر اجسام لو ارتھ آربٹ میں زمین سے 250 میل کی بلندی پر موجود ہیں جب کے کچھ اجسام اس سے بھی زیادہ بلندی پر ہیں۔

خلا میں اب تک جن ممالک نے سب سے زیادہ آلودگی پھیلائی ہے ان میں روس سرفہرست ہے، ایک اندازے کے مطابق زمین کے لو آربٹ میں 23 ہزار اجسام موجود ہیں جن میں سے 14 ہزار اجسام قابو سے باہر ہیں، ان میں سے 6512 اجسام روس کی ملکیت ہیں اور تقریبا 5 ہزار اجسام ایسے ہیں جو کنٹرول سے باہر ہیں اور آزادنہ خلا میں گھومتے رہنے کی وجہ سے کسی بھی بڑے حادثے یا ڈیزاسٹر کا سبب بن سکتے ہیں۔

روس کے بعد خلائی کچرے کی پیداوار میں دوسرا نمبر امریکا کا ہے جس کی ملکیت 6262 اجسام اس وقت خلا میں موجود ہیں جن میں سے 4684 اجسام قابو سے باہر اور اننتہائی خطرناک ہیں۔ تیسرے نمبر پر چین ہے جس کے 3601 اجسام زمین کے لو ارتھ آربٹ میں شامل ہو چکے ہیں اور اب بھارت کے سٹیلائٹ شکن میزائل کا تجربہ کرنے کے بعد بھارت بھی اس فہرست میں شامل ہوچکا ہے۔بشکریہ ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

اربعین واک: عراق میں نجف سے کربلا تک پیدل سفر کی کہانی

منزہ انوار یہاں جا بجا دورانِ سفر کسی بھی مسافر کو پیش آنے والی ہر …