جمعہ , 19 جولائی 2019

بھارتی سپریم کورٹ کا خواتین کو مساجد میں عبادت کی اجازت دینے کی استدعا پر غور

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ نے خواتین کو عبادت گاہوں پر جانے سے روکنے کی ملکی روایت کو ختم کرتے ہوئے انہیں مسجدوں میں جانے کی اجازت دینے کی مسلمان جوڑے کی استدعا پر غور کرنے کا فیصلہ کرلیا۔واضح رہے کہ بھارت میں مسلمان خواتین کا مسجدوں میں داخلہ ممنوع ہے تاہم چند مسجدوں میں خواتین کے لیے علیحدہ جگہ مقرر ہوتی ہے جس کا داخلی دروازہ بھی الگ بنایا جاتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق درخواست گزار یاسین پیرزادا اور ان کے شوہر زبیر پیرزادا کا کہنا تھا کہ شرعی طور پر خواتین کو مسجد میں داخلے کی اجازت ہے۔

درخواست میں انہوں نے کہا کہ ‘مردوں کی طرح خواتین کو بھی اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کا آئینی حق حاصل ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مسلمان خواتین کو مسجد میں عبادت کرنے کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے کوئی صنفی امتیاز نہیں ہونا چاہیے’۔خیال رہے کہ عدالت نے گزشتہ سال جنوبی بھارت میں خواتین کے ایام خصوصی کے دوران ان کے مندر میں داخلے پر پابندی کو ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عبادت کرنے کے حق کے خلاف ہے۔

مسلمان جوڑے نے اپنی درخواست میں عدالت کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔درخواست ایسے موقع پر آئی جب بھارت میں اقلیت مسلمان برادری اور اکثریت ہندو برادری کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں ہندو قوم پرست جماعت پر انتخابات سے قبل مسلمان مخلاف جذبات ابھارنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔سپریم کورٹ کے جج ایس اے بوبدے کا کہنا تھا کہ عدالت درخواست کا مشاہدہ کرے گی۔

خیال رہے کہ رواں برس اگست میں بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مسلمان مردوں کی جانب سے اپنی بیویوں کو ایک ساتھ 3 طلاق دینے کو خلاف قانون قرار دیا تھا۔رواں سال حکومت نے احکامات جاری کرتے ہوئے فوری طلاق کو قابل سزا جرم قرار دیا تھا جس پر 3 سال تک قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

طالبان نے وردک میں درجنوں طبی مراکز بند کرادیئے

افغانستان میں غیرملکی این جی او کےتحت چلنے والے درجنوں طبی مراکز طالبان نے بند …