جمعرات , 25 اپریل 2019

کراچی: مبینہ پولیس مقابلے میں بچے کی ہلاکت کا مقدمہ درج، 4 اہلکار گرفتار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر مبینہ مقابلے کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ڈیڑھ سالہ احسن کے قتل کے جرم میں سچل تھانے کے 4 اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔احسن کے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے جس پر بچے کے والدین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں سے پولیس مقابلے کے درمیان براہ راست فائرنگ پولیس کانسٹیبل امجد نے چھوٹے سرکاری ہتھیار سے کی۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کے مطابق ملزم کے دیگر ساتھی صمد، خالد اور پیارو کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار چاروں پولیس اہلکاروں کا ریمانڈ لیا جائے گا اور ان کا اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ایس ایچ او سچل تھانہ جاوید ابڑو کا کہنا ہے کہ باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، جائے وقوع کے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان سے تفتیش بھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے ہتھیار ضبط کرکے فرانزک کے لیے بھجوا دیے ہیں، فرانزک رپورٹ آنے پر صورتحال مزیدواضح ہوجائے گی کہ بچے کو لگنے والی گولی اہلکاروں کے ہتھیار سے فائر کی گئی تھی یا ڈاکوؤں کے اسلحہ سے کی گئی۔

بچہ سپرد خاک
اس سے قبل گزشتہ روز مبینہ پولیس مقابلے کی زد میں آکر جاں بحق ڈیڑھ سالہ بچے احسن کو گلستان جوہر کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔کمسن احسن کی نمازجنازہ اشرف المدارس سوسائٹی گلستان جوہر میں ادا کی گئی جس میں پولیس افسران اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔احسن کے نانا نے پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو ایف آئی آر لکھی گئی بالکل غلط ہے ہم اس سے مطمئن نہیں ہیں۔

بچے کے نانا نے کہا کہ کھڑے ہوئے رکشے پر فائرنگ کی گئی لہذا ایف آئی آر میں 302 قصاص و دیت آرڈیننس کو بھی شامل کرنا چاہیے۔خیال رہے کہ گزشتہ رات ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ایسٹ عامر فاروقی نے تصدیق کی تھی کہ اہلکاروں کے فائرنگ کی زد میں آکر 2 سالہ بچہ محمد احسن شیخ جاں بحق ہوا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ صفورہ گوٹھ کے پاس موجود پولیس اہلکاروں سے ایک شخص نے شکایت کی کہ موٹرسائیکل پر سوار دو ڈاکوؤں نے اس کو نقدی محروم کردیا۔ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا تھا کہ ’پولیس اہلکاروں نے موٹرسائیکل سوار ڈاکوؤں کا تعاقب کیا اور اس دوران پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے رکشہ میں والدین کے ہمراہ سوار بچہ زد میں آگیا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ ’بچے کے والدین محفوظ رہے‘۔میڈیا پر واقعہ کی خبر نشر ہونے پر آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے واقعہ کا نوٹس لے کر ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کو انکوائری کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی۔

واضح رہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں گزشتہ چند مہینوں کے دوران ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے متعدد مرتبہ معصوم بچے نشانہ بن چکے ہیں۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ 6 اپریل کو لانڈھی کے علاقے میں پیش آیا تھا جس میں 10 سالہ بچہ مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا تھا۔

اس سے قبل رواں برس فروری میں نارتھ کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کی زد میں آکر ایک میڈیکل طالبہ جاں بحق ہوگئی تھی۔اس طرح کا واقعہ گزشتہ برس اگست میں پیش آیا جب ڈیفنس کے علاقے میں پولیس مقابلے کے دوران گولی لگنے سے 10 سالہ امل عمر ہلاک ہوگئی تھی۔

بعدازاں کراچی پولیس نے اعتراف کیا تھا کہ ڈکیتوں سے مسلح مقابلے کے دوران پولیس کی جانب سے غیر ارادی طور پر فائر لگنے سے بچی جاں بحق ہوئی۔اس سے قبل 20 جنوری 2018 کو شاہراہ فیصل پر ساہیوال کا رہائشی مقصود بھی مبینہ پولیس مقابلے کی زد میں آکر جاں بحق ہوا تھا۔پولیس کی جانب سے مبینہ مقابلے میں قتل کیا گیا تھا تاہم پولیس نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کی وردی میں تین مبینہ ملزمان ایک کار میں سوار تھے۔

یہ بھی دیکھیں

وزارت پیٹرولیم میں ڈاکا مارا گیا اس لیے وزیرتبدیل ہوا: مشیر اطلاعات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے …