اتوار , 20 اکتوبر 2019

بلوچستان: مکران کوسٹل ہائی وے پر 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کردیا گیا

کوئٹہ مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ بلوچستان میں مکران کوسٹل ہائی وے کے قریب مسلح افراد نے 14 مسافروں کو بسوں سے اتار کر فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں پیش آیا جہاں مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا۔

انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) بلوچستان محسن حسن بٹ کے مطابق بزی ٹاپ کے علاقے میں رات 12.30 سے ایک بجے کے درمیان تقریباً 15 سے 20 مسلح ملزمان نے کراچی سے گوادر آنے اور جانے والی 5 سے 6 بسوں کو میں روک کر اس میں موجود مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھے اور انہیں گاڑی سے اتار کر قتل کردیا۔انہوں نے واقعے سے متعلق بتایا کہ یہ ‘ٹارگٹ کلنگ’ ہے اور متاثرہ افراد کو ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر قریب فاصلے سے گولیاں ماری گئیں۔

فائرنگ کے واقعے میں کُل 16 مسافروں میں سے 14 کو قتل کیا گیا جبکہ 2 بھاگنے میں کامیاب ہوئے اور قریبی لیویز چیک پوسٹ پہنچے، جنہیں اورماڑہ کے ہسپتال لے جایا گیا۔

بعد ازاں قتل کیے گئے افراد کی لاشیں نور بخش ہوٹل سے ملیں، جنہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا، واقعے کے بعد جائے وقوع پر لیویز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پہنچ گئے اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جبکہ واقعے کی تحقیقات بھی شروع کردی گئیں۔واقعے کے بارے میں مقامی عہدیدار جہانگیر دشتی نے کہا کہ کچھ 3 درجن کے قریب افراد بس میں سفر کر رہے تھے۔

ادھر بلوچستان کے چیف سیکریٹری حیدر علی نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے فرنٹیئر کورپس کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں۔سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ مقتولین میں نیوی اور کوسٹ گارڈ کا اہلکار بھی شامل ہیں۔

فائرنگ کے واقعے پر وزیر داخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے اے ایف پی کو بتایا کہ حملے سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور جائے وقوع سے فرار ہونے والے مسلح حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘اس طرح کے واقعات ناقابل برداشت ہیں اور ہم اس بدتری حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے’

واضح رہے کہ اب تک مسلح افراد کی جانب سے ان افراد کو قتل کرنے کی وجوہات نہیں معلوم ہوسکی جبکہ مقتولین کی شناخت کے بارے میں بھی ابھی واضح نہیں کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا اظہار مذمت
دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی جانب سے کوسٹل ہائی وے پر بس مسافروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے پر مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

اپنے بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بزدل دہشت گردوں نے بے گناہ نہتے مسافروں کو قتل کرکے ظلم کی انتہا کی، امن کے دشمن اپنے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں۔

جام کمال خان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام بیرونی عناصر کے ایجنڈہ پر عمل پیرا دہشت گردوں کو نفرت کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں، دہشت گردی کا واقعہ ملک کو بدنام کرنے اور بلوچستان کی ترقی کو روکنے کی گھناؤنی سازش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقی اور امن کا سفر ہر صورت جاری رہے گا، صوبے کے عوام کی تائید وحمایت سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا اور دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ یہ بسوں سے اتار کر مسافروں کو اس طرح سے قتل کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں اس سے قبل بھی یہاں ایسے واقعے رونما ہوچکےہیں۔

اسی طرح کا ایک واقعہ 2015 میں بلوچستان کے علاقے مستونگ میں پیش آیا تھا، جہاں مسلح افراد نے کراچی سے تعلق رکھنے والی کوچز کے تقریباً 2 درجن مسافروں کو اغوا کرلیا تھا، جس کے بعد کھڈ کوچا کے علاقے میں پہاڑوں پر 19 افراد کو قتل کردیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بلوچستان میں 2 دہشت گردی کے واقعات بھی ہوئے تھے، جس میں کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سبزی منڈی میں دھماکے میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے جبکہ اسی روز چمن میں بھی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

اعلیٰ تربیتی معیار پر پاک فوج کو فخر ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

کراچی: سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے …