بدھ , 23 اکتوبر 2019

ایران سیلاب اور امریکی دہشتگردی کی زد میں

(تحریر: صابر ابو مریم)

پاکستان کے پڑوسی اسلامی ملک ایران میں مارچ کی انیس تاریخ سے تیز بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب سے آدھے سے زیادہ ایران متاثر ہوا ہے۔ تازہ ترین موصولہ اطلاعات کے مطابق آدھا ملک زیر آب آچکا ہے۔ البتہ اس صورتحال میں بہت سے مقامات پر سیلاب کی وارننگ جاری ہونے کے باعث جانی نقصان کو کنٹرول کیا گیا، جو ایک خوش آئند بات ہے، لیکن دوسری طرف بہت سے مقامات پر سیلاب کا تیز بہائو متعدد قیمتی جانوں کو بہا لے جانے کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کی پراپرٹی اور ایران کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا چکا ہے۔ تا دم تحریر بیس سے زائد صوبے سیلاب سے متاثر ہوچکے ہیں۔ اس سیلاب کو اب ایک ماہ کا عرصہ بیت جانے والا ہے۔ سیلاب کے باعث ایران کے متعدد صوبوں میں ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے جبکہ کئی سو افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں بے گھر ہیں۔ کافی دن تک امدادی سرگرمیاں حالات کی سنگینی کے باعث سست روی کا شکار رہی ہیں، کیونکہ بہت سے مقامات پر زمینی رابطے منقطع ہوچکے تھے جبکہ جدید ہیلی کاپٹرز کے نہ ہونے اور دیگر سہولیات کی کمی کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر رہی ہیں۔

ایک طرف ایران میں سیلاب یعنی قدرتی آفت کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری طرف دنیا کے سب سے بڑے شیطان امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی مشقیں اپنے عروج پر ہیں، کیونکہ انہی دنوں میں دوسری طرف امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل (جعلی ریاست) میں انتخابات کا ڈھونگ بھی رچایا جا رہا تھا اور امریکی انتظامیہ چاہتی تھی کہ نسل پرست نیتن یاہو دوبارہ ان انتخابات میں صہیونیوں کی جعلی ریاست کے وزیراعظم کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں۔ اس عنوان سے امریکہ نے اسرائیل کو خوش کرنے کے لئے پہلے ہی ایران پر سنگین نوعیت کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ حالیہ دنوں سیلاب سے متاثر ہونے پر بھی امریکہ نے تازہ پابندیوں کا اطلاق کر دیا۔ ان پابندیوں کے اطلاق کے باعث ایران سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لئے ہیلی کاپٹر جیسے امدادی آلات بھی خریدنے سے قاصر رہا ہے، جسکی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دوسری طرف ہر ملک کی افواج کی طرح ایران کی عسکری افواج اور اداروں نے بھی سیلاب کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کئے ہیں۔ پانی کے زور کو توڑنے کے لئے مختلف مقامات پر بم دھماکوں اور دیگر وسائل سے راستوں کو کاٹ کر پانی کے رخ کو آبادیوں کی جانب مزید بڑھنے سے روکا بھی گیا ہے۔ بہرحال یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی قوم ایک ایسی قوم ہے کہ جس نے ماضی میں آٹھ سالہ ایسی جنگ کو استقامت کے ساتھ عبور کیا کہ جس جنگ کی پشت پناہی پورا مغرب اور عرب ممالک کے بادشاہ کر رہے تھے، لیکن ایران کو تسلم خم کرنے میں ناکام ہوئے۔ سیلاب کی اس سنگین صورتحال سے بھی دیر یا جلد بالآخر ایرانی قوم نکل ہی جائے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کی سیاست اپنی جگہ لیکن انسانی حقوق کے نام پر تو جنگوں میں بھی عالمی اداروں کے قوانین کی پاسداری کا واویلا کیا جاتا ہے، لیکن ایران کی سیلابی صورتحال میں دیکھا گیا ہے کہ ایک طرف امریکہ نے مزید شکنجہ سخت کرکے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ کے انسانی حقوق سے متعلق نعرے کھوکھلے دعووں سے زیادہ کچھ نہیں اور نہ ہی امریکہ کے ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی کے نعرے کوئی حقیقت رکھتے ہیں۔ امریکہ چونکہ اپنی شیطانی سیاست اور دہرے معیار کے باعث دنیا بھر میں دہشت گرد ہی معروف ہے، تاہم ایران کے سیلاب میں بھی معاشی دہشت گردی کا عملی نمونہ پیش کرکے امریکہ نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے بڑا شیطان اور دہشت گرد ہے۔

دوسری اہم بات جو ایران کے سیلاب سے سامنے آئی ہے کہ دنیا کی حکومتوں نے انتہائی بے حسی اور سست روی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر چہ ایرانی حکومت نے رسمی طور پر کسی بھی اسلامی برادر ملک یا کسی دوسرے ملک سے امداد نہیں مانگی تھی، لیکن یہ مسلم امہ کے ممالک کا اولین فرض بنتا تھا کہ سب ایران کے سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ امریکہ کی ناجائز پابندیوں کے مقابلے میں ایران کا ساتھ دیتے۔ بالآخر یہ ایران ہی ہے کہ جس نے فلسطین سمیت دنیا کی تمام مظلوم اقوام اور ملتوں کی ہر ممکنہ مدد جاری رکھی ہوئی ہے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ زمینی سرحد کے ساتھ جڑی ہوئی حکومت پاکستان بھی ایرانی سیلاب متاثرین کی مدد کے حق میں بات کرنے سے جان بچا رہی تھی۔ سوشل میڈیا پر حکومت کو جب تنقید کا سامنا ہوا تو وزیراعظم صاحب کو مجبوری میں ایرانی سیلاب متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کرنا پڑا۔

یہاں پاکستان حکومت کی بات اس لئے بھی پیش کی ہے کہ جب ماضی میں پاکستان میں سیلاب آیا تھا اور تباہ کاریاں ہوئی تھیں تو اس وقت ایران کے سوا کسی بھی ملک میں عید کے خطبات میں پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے اپیل نہیں کی گئی تھی۔ خود ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عید کے خطبہ میں ایران کی عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے جس قدر ممکن ہو، چندہ اور عطیات جمع کروائیں، تاکہ مصیبت کی اس گھڑی میں مسلمان بھائیوں کی مدد کی جائے۔ اس اپیل کے جواب میں ایران کے عوام نے بڑھ چڑھ کر اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئے پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کی تھی جو آن ریکارڈ ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایران میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر ایک طرف ایرانی عوام اپنی مدد آپ کے تحت نبرد آزماہے اور جہد مسلسل کر رہی ہے۔ امریکہ کی معاشی دہشت گردی اور کمپنیوں پر پابندی کے باعث تاحال امدادی اداروں کو مشینری خریدنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ عرب ممالک خاموش ہیں۔ 13 اپریل کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مسلم ممالک میں سے اب تک ترکی، کویت، عمان، آذربائیجان، پاکستان جبکہ مغربی اور دیگر مماک سے فرانس، جرمنی، روس، سوئٹزر لینڈ، جاپان سے امدادی سامان پہنچا ہے، جو کہ امدادی اداروں ہلال احمر اور دیگر کے ذریعہ ایران کی ہلال احمر کے سپرد کی جا چکی ہے۔ تاہم ایران کے اس تباہ کن سیلاب میں تاحال ایرانی امدادی اداروں کو غیر معمولی سطح پر امداد کی اشد ضرورت ہے جبکہ امریکی دہشت گرد انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیاں امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ قدرتی آفات اقوام کی زندگی کا معمول ہیں، لیکن جو چیز آفات گزر جانے کے بعد بھی یاد رکھی اور اقوام کی زندگی پر ہمیشہ اثر انداز ہوتی رہتی ہے، وہ آفت کے مقابلے میں قوم کا اپنا حکومت اور آفت زدہ قوم کی نسبت دیگر اقوام کا ردعمل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

اصل کون ہے اور روبوٹ کون، بوجھو تو جانیں

وسعت اللہ خان دنیا چوتھے صنعتی انقلاب سے گزر رہی ہے۔ پہلا صنعتی انقلاب چھاپے …