بدھ , 17 جولائی 2019

معاشی بحران سے نکلنے کا حل کیا ہے؟

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

دعووں اور وعدوں کی زبان اور ہوتی ہے، زمینی حقائق مگر بڑے تلخ۔ ہم جب اپنے سیاسی مزاج اور سماجی رویئے کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں عام انتخابات کے دوران میں مبالغے اور غلو کا رحجان غالب نظر آتا ہے۔ یہی سے امیدیں بنتی بڑھتی ہیں، جب کوئی سیاسی جماعت حکومت بنا لیتی ہے تو پھر وہ اپنے وعدوں پر پورا نہیں اتر پاتی۔ ایسا کیوں ہوتا آرہا ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ میری نظر میں سب سے پہلی اور بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کا غیر جمہوری طرز عمل ہے، وعدے تو عام آدمی کی زندگی سہل بنانے کے کیے جاتے ہیں، قسمیں تو ملک کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کی کھائی جاتی ہیں لیکن اصل ہدف اپنے اپنے سیاسی وجود کی بقا، اپنے بچوں کے لئے آئندہ کے ملکی سیاسی منظر نامے میں جگہ مستحکم کرنا اور اسی نوع کے ذاتی مفادات ترجیحِ اول ہوتے ہیں۔ سارا قصور پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت کا ہی نہیں، ان کی ہمنوا جماعتوں اور انہی جماعتوں سے اڑان بھر کر پی ٹی آئی میں آنے والوں کا بھی ہے۔ کیا مذہبی سیاسی جماعتیں، کیا لسانی اور علاقائی سیاسی جماعتیں، جب حکومتی اتحادی بنتی ہیں تو حکومت سے اپنا حصہ بقدرِ جثہ وصول نہیں کرتی ہیں؟ ضرور کرتی ہیں اور اگر نہ ملے تو فتوے اور علاقائی و لسانی تعصب کا کارڈ بھی استعمال کرتی ہیں۔

امید سے بڑا انسانی حیات کا کوئی ساتھی نہیں اور یہی امید انسان کو گمراہ بھی کرتی ہے۔ امیدیں جب ٹوٹتی ہیں تو سماج ہیجان اور بدگمانی کا شکار ہو جاتا ہے۔ تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستانوں میں عبرت کی کئی کہانیاں اور عروج پانے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ کیا صرف آصف علی زرداری اور نواز شریف کو قید کرنے سے سارے مسائل حل ہو جائیں گے؟ کم سے کم سیاسی فہم رکھنے والا بھی یہی جواب دے گا کہ قطعی ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ مذکور افراد کے خلاف عوامی غیض و غضب میں اضافہ ہوگا، یا پھر حکومت کو جیالے اور متوالے کوسنے دیں گے کہ حکومت نیب کو سیاسی مخالفین کے خلاف بے طرح استعمال کر رہی ہے۔ اس سے زیادہ کوئی اور بیانیہ شاید ترتیب نہ پا سکے۔ بارہا لکھا کہ کرپشن اس ملک کے ابتدائی پانچ مسائل میں سے ایک ہے۔ جب پورے سماج کی نفسیات ایک ہی رخ پر کروٹ لے لے تو پھر اس سماج کو واپس ٹریک پرلانے کے لیے جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ ساتھ علمی و عقلی کام بھی کرنا پڑتے ہیں، جذبات ورنہ ہوا کے بھگولے کی طرح ہوتے ہیں، یکایک اٹھتے ہیں اور آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

میرے پاس مصدقہ اطلاعات ہیں کہ پنجاب سیکرٹریٹ لاہور میں بیٹھا ایک کمپیوٹر آپریٹر محکمہ صحت کے نچلے درجے کے ملازمین کے تبادلوں کے لیے پچاس ہزار روپے لے رہا ہے۔ یہ کوئی نون لیگ یا پیپلز پارٹی کے دور کی بات نہیں، انہی ایام کی بات ہے۔ اس نے ایک چین ترتیب دی ہوئی ہے اور خود ملازمین کو فون کرکے ان سے کہتا ہے کہ تمھیں علاقے کے قریب ترین، کسی بی ایچ یو، یا آر ایچ سی میں ٹرانسفر کرا دوں گا مگر قیمت اتنی وصول کروں گا۔ ایک اطلاع تو یہ بھی ہے کہ ڈی جی براہ راست معاملات میں ملوث ہے۔ کیا ایسے ماحول میں ہم کسی بڑی تبدیلی کی توقع کر سکتے ہیں؟ ہمیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے دور کی کرپشن تو نظر آتی ہے مگر موجودہ حکومت میں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ سے ہم صرفِ نظر کیوں کر رہے ہیں؟ ٹیلی ویژن کے کسی ایک پروگرام میں بیٹھ کر اپوزیشن پر تنقید کرنا سب سے آسان کام ہے۔ اسی پروگرام کے اندر ملکی مسائل کا حل بھی پیش کر دینا، تنقید سے بھی آسان تر ہے۔ لیکن عملی طور پر جب کام کرنا پڑے تو دماغ ٹھکانے آجاتا ہے۔

کوئی چار چھ روز پہلے وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ معیشت کو ٹھیک ہونے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ جائے گا۔ یہی اسد عمر ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر اعداد و شمار کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتِ خرید اور پھر اس پر نون لیگ کی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے ٹیکس پر بڑی مدلل گفتگو کیا کرتے تھے۔ امید یہ تھی کہ پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی معیشت آہستہ آہستہ بہتری کی طرف گامزن ہو چلے گی۔ لیکن جو حالات ہیں اور عالمی مالیاتی اداروں کی جو رپورٹس سامنے آرہی ہیں، اس سے سماج میں مزید ہیجان بڑھے گا، مزید مہنگائی ہوگی اور لوگ ایک ایک نوالے کو ترس جائیں گے۔ کیا لوٹی ہوئی دولت ایسے ہی واپس آئے گی، جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے؟ یا ایمنسٹی سکیم کے ذریعے معیشت کو عارضی سہارا دینے کی کوشش کی جائے گی۔؟

سعودی عرب، یو اے ای سے ملنے والے بیل آوٹ پیکج کے بعد آخر کار حکومت کو پھر بھی آئی ایم ایف کے پاس ہی جانا پڑا۔ دوست ممالک سے جو امداد ملی، یا ادھار تیل جو ملے گا، ظاہر ہے اس ادھار کی قیمت خواہ دو سال بعد ہی سہی، ادا تو کرنا ہوگی۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ نون لیگ کی حکومت نے جو چیزیں مہنگی نہیں کی تھیں، ہمیں وہ مہنگی کرنا پڑیں گی۔ ایک وزیر کا گذشتہ دنوں بیان تھا کہ ہم آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر قرض لے رہے ہیں، اپنی شرائط پر اور وہ بھی قرض؟ مگر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے محکمہ مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستانی معیشت مستقبل میں بڑے پیمانے پر سست روی کا شکار ہوگی اور یہ خطے کی مجموعی معاشی ترقی کی شرح پر بوجھ بن جائے گی۔ عالمی میڈیا پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAP) کے معاشی منظر نامے کے حوالے سے عالمی معاشی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مذکورہ خطوں میں پالیسی سازی کی کوششیں مزید تیز تر کی جائیں۔ لیکن تا دمِ تحریر حکومت کی "ماہر ترین معاشی ٹیم” نے کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی ہے۔ سوائے اس کے کہ یہ حکومت بھی محصولات کے لیے سارا بوجھ عام آدمی پر ڈال رہی ہے۔

کیا کابینہ میں بیشتر لوگ وہی نہیں جو گزشتگان کے مشیرانِ خاص ہوا کرتے تھے۔ کیا پی ٹی آئی بھی روایتی سیاسی حربوں اور عارضی سہاروں سے معیشت کو بہتر بنانے کے خواب دکھاتی رہے گی؟ سرمایہ کار کہاں ہیں؟ وہ ڈالر کہاں ہیں جو بیرون ملک پاکستانیوں نے عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی پاکستان بھیج دینے تھے؟ یکسوئی نہیں، حکومت کے ہاتھ پائوں پھولے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو سرمایہ واپس وطن لانے یا مارکیٹ میں لانے کے لیے دھمکیوں کے بجائے پیکج دیا جائے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کڑی، اتنی کڑی کہ شاید پہلی حکومتوں کے معاشی و سیاسی کارنامے ہم لمحوں میں بھول جائیں گے۔ اہل فکر کو دھائی دینی چاہیئے کہ سماج میں بڑھتا ہوا اضطراب جمہوریت کے بے ثمر بہائو کا رخ کہیں اور ہی نہ موڑ دے۔ یہ اس بحث کا وقت نہیں کہ نظام صدارتی ہو یا پارلیمانی۔ یہ وقت ڈلیور کرنے کا ہے، عام آدمی کی مشکلات کم کرنے کا وقت ہے، یہ وقت دم توڑتی امیدوں کو زندہ کرنے اور ذخیرہ اندوزوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا ہے۔ سرِ دست ماہرین کی حکومت ملک کو معاشی و سیاسی بحران سے نکالنے کا کوئی قابل ذکر فارمولا پیش نہ کرسکی اور یہی بات نوجوان نسل کے لیے تکلیف اور ندامت کا باعث ہے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی مزاحمت کاروں کی ڈرون ٹیکنالوجی کی صہیونی ریاست پردہشت طاری!

فلسطینی مزاحمت کاروں کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت اور ترقی پذیر ڈرون ٹیکنالوجی نے دنیا …