جمعرات , 18 جولائی 2019

صرف اٹھارویں ترمیم نہیں؟

(جمیل مرغز) 

وزیر اعظم عمران خان نے سندھ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد مرکز کنگال ہو گیا ہے‘ ہر مالی سال کے ابتداء میں قرضوں پر سود کی ادائیگی‘ صوبوں کو حصہ دینے اور دفاعی بجٹ کی ادائیگی کے بعد مرکز کے پاس ترقیاتی بجٹ کے لیے رقم تو کیا الٹا نقصان ہوتا ہے‘ اس لیے اس ایوارڈ اور اٹھارویں ترمیم میں تبدیلی ضروری ہے۔

یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ صوبوں کو دیے گئے تعلیم‘ صحت وغیرہ جیسے محکموں کے لیے مرکز میں وزارتوں اور لمبے اخراجات کی کیا ضرورت ہے؟ بہت سے محکمے جو اس ترمیم کے بعد صوبوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں اگر ان کی وزارتیں مرکز میں ختم کی جائیں تو شاید مرکز کا خسارہ ختم ہو جائے‘ فاٹا کے انضمام کے بعد اب مرکز صرف اسلام آباد پر مشتمل ہے‘ اس میں ایسے بہت سے محکمے اور وزارتیں موجود ہیں جن کو صوبوں میں ہونا چائیے۔

پنجاب سمیت چھوٹے صوبوں یعنی سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاوہ تمام جمہوری سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بھی اس ترمیم کے خاتمے کی تجویز کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس ترمیم کے ساتھ ساتھ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ (NFC Award)کے تحت صوبوں کو ملنے والی 57.5 فی صد حصہ ملنے پر موجودہ حکومت کو خاص طور پر اعتراض ہے‘ حالانکہNFC ایوارڈ کا ترمیم سے تعلق نہیںصرف اتنا تعلق ہے کہ ایک دفعہ صوبوں کے حصے کا تعین ہو جائے تو ترمیم کے بعداس کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ 18 ویں آئینی ترمیم دراصل 100سے زیادہ آئینی تبدیلیوں کا مجموعہ ہے‘ ان میں بعض کا تعلق بنیادی حقوق اور عدالتی طریقہ کار میں بہتری سے ہے مگر اس کے اہم حصے دو ہیں۔
ایک کا تعلق ضیاء الحق کی آٹھویں اور مشرف کی 17 ویں ترمیم کو ختم کر کے پارلیمنٹ کے اختیارات بحال کرنا اور دوسرا وہ ہے جس کے تحت مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم میں کنکرنٹ(Concurrent) لسٹ کا خاتمہ کر کے اور سولہ سے زائد وزارتوں اور محکموں کو مرکز سے صوبوں کی تحویل میں دے کر صوبائی خود مختاری کے دائرے کو وسیع کیا گیا ہے‘18 ویں آئینی ترمیم کے تحت یہ سب کچھ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے سے طے کیا گیا تھا‘ اس لیے ان شعبوں سے متعلقہ 18 ویں آئینی ترمیم کی شقوں پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔

اصل جھگڑا NFC کے 2010ء میں ہونے والے ساتویں ایوارڈ کا ہے‘ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو 42.5 فی صد حصہ دے کر کنگال کر دیا گیا ہے‘ یہ اسی پرانی سوچ کا نتیجہ ہے کہ جس کے تحت دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مضبوط مرکز اور کمزور صوبے ملک کے استحکام کی ضمانت ہوتے ہیں‘ انگریز تو اپنے مفاد کی خاطر مضبوط مرکز اور کمزور صوبوں کے حق میں تھا‘ اب تو ایک جمہوری فیڈریشن کے لیے لازمی ہیں کہ صوبے مضبوط ہوں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اصلی صوبائی خود مختاری مالیاتی امور میں خود مختاری ہے‘ اس طرح صوبوں کی مالیاتی اختیارات کو محدود کرنا حقیقت میں صوبائی خود مختاری کو محدود کرنا ہے‘ صوبوں نے ہی پاکستان بنایا تھا کیونکہ یہ صوبے قیام پاکستان سے قبل بھی موجود تھے‘ اس لیے ان کا حق بھی زیادہ بنتا ہے۔

پاکستان ایک بازیچہ اطفال بنا ہوا ہے‘ یہاں صوبائی خود مختاری کے علاوہ بھی ہر مسئلے پر اختلاف رائے موجود ہے بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک میں کوئی بھی چیز متفقہ نہیں ہے۔ معلوم نہیں کہ ایک متفقہ وفاقی‘پارلیمانی جمہوری نظام کے ہوتے ہوئے اسلامی صدارتی نظام اور متفقہ اٹھارویں ترمیم کے ہوتے ہوئے اس کو ختم کرنے کی باتیں کہاںسے نازل ہو رہی ہیں‘ 18 ویں ترمیم کے متعلق بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں مضبوط مرکز کے علمبراروں اور ایک حقیقی وفاقی نظام کے تحت مضبوط صوبوں کے حامیوں میں ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان واحد ملک ہے جس میں قیام سے لے کر اب تک اہم امور پر اتفاق رائے نہ ہو سکا‘ اتفاق تو اس بات پر بھی نہیں کہ ملک میں سیکولر جمہوریت ہو یا خلافت اسلامیہ کا نظام‘ مذہبی پارٹیاں 1973ء کے آئین کے تحت پارلیمانی نشستوں کے مزے اور مراعات بھی حاصل کر رہی ہیں اور اسلامی خلافت اور شریعت کا پرچاربھی کر رہے ہیں‘اس طرح ملک میں ہر مسئلے پر اختلاف رائے موجود ہے‘ تحریک انصاف والے پارلیمانی نظام حکومت کے مزے لے کر صدارتی نظام کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان کا بیانیہ ”Narrative” کیا ہے؟ سب سے اہم مسئلہ قومی سلامتی اور قومی مفاد کا ہے‘ عجیب حقیقت یہ ہے کہ قومی مفاد کا تعین قوم یا ان کے نمایندے نہیں کریں گے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا حق ہے کہ قومی مفاد کا تعین کرے‘ جنرل کیانی نے ٹھیک کہا تھا کہ قومی مفاد کا تعین کسی ایک ادارے کا کام نہیں بلکہ یہ قوم کی اجتماعی شعور کی عکاس ہونی چائیے۔ ‘

اب سیکیورٹی اسٹیٹ کے فلسفے نے بہت سے نظریات کو جنم دیا ہے جو ’’قومی مفاد ‘‘ کے نام پر ملک پر لاگو کیا گیا ہے‘ آج تک عوام کو خود ساختہ تاریخ پڑھائی گئی‘ حالانکہ قائد اعظم نے گیارہ اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں پاکستان کی ریاستی پالیسی کی تشریح کر دی تھی‘ انھوں نے فرمایا کہ ’’پاکستان لبرل‘ روادار‘ تحمل اور برداشت کے رویوں کا حامل ہو گا‘ ریاست کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ شہریت پر ہو گی‘ اس میں مذہب ذاتی ایشو کے طور پر یقینا موجود ہو گا۔

اس پر ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہو گا‘‘۔ نظریہ ضرورت کی ایجاد عجیب عدالتی واقعہ تھا جس کے‘ تحت بار بار آئین اور قانون کی خلاف ورزی کو جائز قرار دیا گیا ۔ ’’صوبائی حقوق مانگنا اس ملک سے غداری تصور کیا گیا ‘‘۔ 1955ء میں صوبوں کو ختم کر کے ون یونٹ کا قیام اسی سوچ کی پیداوار تھی‘ ون یونٹ کو مشرقی پاکستان کے خلاف بھی پیریٹی کے اصول کے تحت استعمال کیا گیا‘ پاکستان کے حکمرانوں نے ہمیشہ سامراج اور اس کی پالیسیوں کا ساتھ دیا اور ان کے مفاد کے لیے ملک اور اس کے وسائل کو استعمال کیا‘ اسی لیے سامراج دشمن کمیونسٹوں کے خطرے کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور اس خطرے کو ملک میں ہر ترقی پسند آواز کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ اگر کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے تو کیا بنگلہ دیش ’’اپنڈکس‘‘ تھا‘ اسی ایک مسئلے کی بنیاد پر برصغیر کے ڈیڑھ ارب انسانوں کی زندگی کو سولی پر لٹکانا کہاں کا انصاف ہے؟ جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم اس کو بزور بھی نہیں حاصل کر سکتے‘۔ اگر شمال سے جنوب کا راستہ چین کے لیے کھولا جا سکتا ہے‘ تو مشرقی و مغربی روٹ یعنی جنوب مشرقی ایشیاء سے سینٹرل ایشیاء اور وہاں سے لے کر یورپ تک کا کوریڈور کیوں بند ہے جس سے ملک کو اربوں روپے آمدن سے محروم رکھا گیا ہے۔

سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں امریکی ڈالر جہاد کا سہرا جنرل ضیاء نے اپنے سر پر سجا لیا‘ ہم نے امریکی ایماء پر وطن عزیز میںدہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی کے ایسے بیج بوئے کہ یہ فصل ختم ہونے کو نہیں اور ہمارے لیے سوہان روح بن گئی ہے‘ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم 1980ء سے اپنے ہزاروں شہری اور فوجی جوان گنوا کر اور 130 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان اٹھا کر نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کی نظروں میں راندہ درگاہ ہیں اور دہشتگردی کے عفریت سے بھی جان بھی جان نہیں چھڑا سکتے۔

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کو سیکیورٹی اسٹیٹ کے بجائے ایک ویلفیئر ریاست بنایا جائے اور اس کے لیے پورا بیانیہ تبدیل کیا جائے ‘جمہوری اداروں کو مضبوط اور خود مختار بنایا جائے ‘ایک جمہوری اور وفاقی ریاست بنانے کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹی قومیتوں کی مرضی سے ایک نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے‘ بدقسمتی سے قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والے‘ ملک کے مامے اور بابے بن گئے‘ یہ بانی پاکستان کے منہ میں اپنی مرضی کی باتیں ڈال کر ان کو نافذ کرنے کی باتیں کرتے ہیں‘ عوام نے آج تک ہمیشہ انتخابات میں انتہا پسنداور رجعت پسند پارٹیوں کو رد کر کے جمہوری اور لبرل پارٹیوں کو ووٹ دیے ہیں‘ لیکن رجعت کے یہ کالے چراغ آج بھی پاکستان کو اپنی مرضی کے تاریک راہوں پر چلانا چاہتے ہیں۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی مزاحمت کاروں کی ڈرون ٹیکنالوجی کی صہیونی ریاست پردہشت طاری!

فلسطینی مزاحمت کاروں کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت اور ترقی پذیر ڈرون ٹیکنالوجی نے دنیا …