جمعہ , 20 ستمبر 2019

ملک کیلئے فائدہ مند نہ ہونے والے وزرا کو تبدیل کردوں گا، عمران خان

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے آئندہ بھی کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو وزیر ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہوگا اسے تبدیل کردوں گا، میں نے ٹیم کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا ہے، اس وزیر کو لاؤں گا جو ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

اورکزئی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب یہاں جنگ شروع ہوئی تو میں نے کہا کہ امریکا کے کہنے پر پاکستانی فوج کو یہاں نہیں بھیجا جائے کیونکہ قبائلی علاقے کے عوام ہی ہماری فوج تھی لیکن بد قسمتی سے اس وقت کے حکمران کو ان علاقوں اور یہاں کی روایات، تاریخ کا پتہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ جو قبائلی علاقوں کی تباہی کے بارے میں یہاں سے باہر موجود لوگوں کو نہیں پتہ، اس میں پاک فوج کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ اس حکمران کا تھا جس نے امریکا کے کہنے پر فوج کو قبائلی علاقے میں بھیجا، اس میں ہمارے جوان بھی شہید ہوئے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

عمران خان نے کہا کہ ان علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کو جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ یہاں کے لوگ یا میں جانتا ہوں، میں قبائلی علاقوں میں پھر رہا ہوں کیونکہ ان کے درد کا احساس ہے، پاکستان کا کوئی وزیر اعظم اتنا ان علاقوں میں نہیں گھوما جتنا میں گھوم رہا ہوں۔

قبائلی عوام کے عوام کو یقین دلاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گھر و کاروبار تباہ ہوئے اس پر ہم آپ کی مدد کریں گے اور یہاں کے عوام کی قربانیوں کو نہیں بھولیں گے۔

انہوں نے کہا پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) ایک نئی تنظیم ہے، جو پشتونوں اور قبائلی علاقوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے، وہ ٹھیک بات کرتی ہے کہ لوگوں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ اور نقل مکانی کرنی پڑی اور جنگ میں بے قصور لوگ مارے جاتے ہیں لیکن جس طرح کا وہ لہجہ اختیار کررہے ہیں وہ ہمارے ملک کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت تکلیف سے گزرنے والے لوگوں کو اپنی فوج کے خلاف کرنا، اس طرح کے نعرے لگانا، لوگوں کے دکھ و درد پر نمک چھڑک کر بھڑکانا اور کوئی حل پیش نہ کرنا ، اس سے پاکستان اور قبائلی علاقے کو کیا فائدہ ہوگا؟ برے وقت میں سب سے زیادہ میں نے آواز اٹھائی لیکن آج یہ سوچنا ہے کہ ہم نے آگے کیسے بڑھنا ہے، یہاں کے حالات کیسے بہتر کرنے ہیں، بچوں کو تعلیم دینی ہے، اصل چیلنجز یہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کے لیے حل یہ ہے کہ ان کی مدد کریں، ان سے ہونے والے ظلم کا معاوضہ دیں، آئی ڈی پیز کو گھر ٹھیک کرنے کے لیے پیسا ادا کریں اور اس کے لیے خیبرپختونخوا حکومت آپ کی مدد کرے گی۔

اپنے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے سیاحت کے فروغ کا فیصلہ کیا ہے اور ان علاقوں میں سیاحت کے لیے سہولت پیدا کرنی ہے کیونکہ اس سے لوگوں کے لیے کاروبار اور نوکریاں بڑھتی ہیں، نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں سیاحت پر توجہ نہیں دی گئی لیکن ہماری حکومت اس پر توجہ دے گی تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو، میری حکومت کا سب سے بڑا چیلنج ہے کہ میں نے نوجوانوں کو نوکریاں دینی ہے، انہیں سود کے بغیر قرضے دیے جائیں گے، اس کے علاوہ ہم نے انہیں ہنر سکھانا ہے۔

جلسے سے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک کی طاقت ہے کہ یہاں کے 60 فیصد لوگ 30 سال سے کم ہیں، اگر ہم انہیں ہنر سکھا دیں تو یہی اس ملک کو اٹھا کر کہیں سے کہیں لے جائیں گے، لڑکیوں کو اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی سکھادیں تو گھر بیٹھے کام کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ قبائلی علاقوں کو اوپر اٹھائیں، نوجوانوں کو تعلیم دیں، باہر سے سرمایہ کاری لائیں تاکہ یہاں سے نوجوانوں کو کراچی، اسلام آباد، پشاور نہ جانا پڑے اور انہیں یہی روزگار ملے۔

غریب عوام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ یہ اسکیم غریبوں کے لیے متعارف کروائی گئی ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے قبائلی علاقوں میں یہ کارڈ دیا جائے۔

تعلیم پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی حکومت نے مدرسے کے بچوں کی کبھی فکر نہیں کی کہ انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے، تاہم میں نے فیصلہ کیا ہے کہ مدرسے کے بچے میرے بچے ہیں اور ہم تمام مدرسوں کی ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ان پر توجہ دیں گے۔

پاکستان کے سیاسی حالات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 10 برس میں ہمارے ملک میں حکومت کی انہوں نے جس سطح کی چوری کی اس سے ملک کا قرض 6 ہزار سے 30 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا، 60 برس میں پاکستان کا قرض 6 ہزار ارب تھا جبکہ 10 برس میں اسے 30 ہزار ارب تک پہنچا دیا گیا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان دو گھروں نے پہلے بھی چوری کی تب انہیں پرویز مشرف نے این آر او دیا اور نواز شریف خاندان کو سعودی عرب جانے دیا اور منی لانڈرنگ کا کیس حدیبہ پیپر ملز بند کردیا۔

انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے ملک کو وہ نقصان پہنچا کہ ہمارے پاس پیسا نہیں ہے، اس ملک پر چڑھے قرض پر دن کا 6 ارب روپے سے زیادہ صرف سود دیا جارہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ماہرین کا نمرتا چندانی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شکوک و شبہات کا اظہار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل شعبے کے ماہرین اور حکام نے …