جمعرات , 18 جولائی 2019

ہزارہ برادری کا تحفظ مقدم

(ریاض احمدچودھری)

گزشتہ دنوں کوئٹہ میں خودکش دھماکے میں ایف سی اہلکار سمیت 20 افراد شہید جبکہ 48 زخمی ہوئے۔ خود کش حملہ آور نے سبزی لیکر آنے والے ہزارہ برادری کے افراد کو نشانہ بنایا ۔ دھماکے کا ہدف خاص کمیونٹی نہیں تھی اس میں دیگر لوگ بھی شہید ہوئے لیکن زیادہ تر ہزارہ برادری کے شہدا شامل ہیں۔اس واقعہ کے بعد ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد نے مغربی بائی پاس کو بند کر کے وہاں احتجاجی دھرنا دیا۔ وزیرمملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی کی کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا گیا ۔ دہشت گردی کے واقعات میں ہزارہ برادری کے ڈھائی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور شہر یار آفریدی نے کہا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے تحفظ کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ظلم عظیم ہوا ہے اور موجودہ حکومت ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔بعض قوتیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں جس کے باعث انھوں نے عوام کو آپس میں لڑانے کے علاوہ ان کو ریاستی اداروں کے ساتھ لڑانے کی بھی کوشش کی۔ ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے نہ صرف عوام بلکہ سکیورٹی فورسز نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

دہشتگردوں نے معصوم انسانی جانوں کو نشانہ بنایا ہے۔آخر یہ کون لوگ ہیں جو سرعام معصوم لوگوں کو مار رہے ہیں۔ یقیناًیہ پاکستانی اور مسلما ن نہیں ہو سکتے۔ یہ غیر ملکی دہشت گرد ہیں جو پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان پر ناکام ریاست کا الزام لگا کر اسے دنیا میں سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا جائے۔

ان غیر ملکی ایجنٹوں میں سرفہرست بھارتی ایجنسی را کے اہلکار ہیں جو افغانستان سے تربیت حاصل کر کے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ۔ پاکستانی سرحد کے ساتھ بھارت کے قونصل خانوں کے نام پر درجنوں دہشت گردوں کو تربیت دینے کے مراکز کھولے گئے۔ ان مراکز سے ہی دہشت گرد بلوچستان اور قبائلی علا قوں میں داخل ہوکر دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔یہ لوگ اپنے خدوخال اور ایشائی ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔

کوئٹہ کے حالیہ دونوں واقعات میں بھارت نے مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دی ہے۔ یوں وہ چاہتا ہے کہ بلوچستان خصوصاً کوئٹہ میں مذہبی، نسلی اور قوموں کی بنیاد پر فسادات کروائیں جائیں تاکہ پاکستان کی وحدت کو خدانخواستہ توڑ ا جائے۔ بلوچستان کے مختلف حصوں سے گرفتار ہونے والے دہشت گردوں نے دوران تفتیش یہ اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ افغانیوں کو باقاعدہ ٹریننگ اور معاوضہ دیتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں مذکورہ علاقوں کے نقشے اور ٹارگٹ بھی دیئے جاتے ہیں۔ ٹریننگ کے بعد انہیں اسلحہ و بارود بھی دیا جاتا ہے۔ یہ ایجنٹ پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں اور ان کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے اور اس میں افغان حکومت کا بھارت کو مکمل تعاون حاصل ہے۔

بھارت پاکستان میں دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہا ہے۔ پاکستان شمالی علاقہ جات میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے لہذا بھارت شہری علاقوں میں شورش پیدا کر کے پاکستان کے مسائل میں اضافہ کر رہا ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ خطرناک کھیل، کھیل رہا ہے۔ بھارت کی طرف پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں اسلحہ اور رقوم فراہم کر کے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں خصوصاً بلوچستان میں پاکستان مخالف تحریری مواد بھی پھیلایا جا رہا ہے۔

افغانستان کے تعاون سے بھارت بلوچستان میں تخریب کاری میں ملوث ہے۔بلوچستان کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں اور اس راستے سے بلوچ لبریشن فرنٹ کو اسلحہ ملتا ہے۔ بھارت نے 300 کمانڈوز افغانستان کے قندھار، جلال آباد اور کابل میں تعینات کئے ہیں تاکہ بھارتی شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔ حفاظت کی آڑ لے کر بھارت صوبہ بلوچستان میں تخریب کاری کرنا چاہتا ہے اور افغان حکومت بھارت کی آلہ کار بنی ہوئی ہے۔

بھارت پاکستان کا دشمن ہے اور اسے پاکستان کا وجود ، اس کی ترقی و خوشحالی، آزادی اور سلامتی گوارا نہیں۔ اس لیے وہ زبانی کلامی امن و آشتی کا راگ الاپنے کے باوجود پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے، اسے سیاسی و اقتصادی عدم استحکام سے دو چار کرنے اور اس کے دفاع کی مؤثر ضمانت ایٹمی پروگرام سے محروم کرنے کیلئے ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے۔ دشمن کے وار سے بچنے کیلئے ہمیں نہ صرف اپنی آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی بلکہ ایسے ٹھوس اقدامات بھی کرنے ہوں گے جس سے بھارت کو منہ کی کھانے پڑے۔

فرقہ واریت زہر قاتل ہے جوپاکستان اور ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت نے ہمیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ دہشتگردی فرقہ واریت اور انتہا پسندی پاکستانی قوم کیلئے ایک ناسور کی حثیت رکھتے ہیں۔ایک خاص فرقہ کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے واقعات سے صاف پتہ چلتاہے کہ پاکستان کوشیعہ سنی کی جنگ میں دھکیلنے کی گھناؤنی سازشیں کی جارہی ہیں۔

ہم جس دین حق کے پیروکار ہیں اس نے انسانی جان کی حرمت کو سب سے اہم قرار دیا ہے اور ہم اس بات سے باخوبی واقف ہیں کہ اسلام نے ایک انسانی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے اور قتل کو پوری انسانیت کا قتل کے مترادف قرار دیا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام میانہ روی اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی بات و تلقین کرتا ہے۔

فرقوں اور مذاہب کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں انسان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور اگر ہم اسی طرح ایک ہی مذہب یا مختلف مذاہب کی تشریح و تفہیم کے مسئلہ پر جھگڑتے رہینگے تو یہ بات افسوسناک ہوگی۔اگر ہم فرقہ واریت کی لعنت پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآنی پیغام کو اپنا حرزِ جاں بنانا ہو گا اور برداشت، اخوت اور رواداری کو اپناتے ہوئے جسد واحد کی طرح متحد ہونا ہو گا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم باہمی اختلافات کو فراموش کر کے اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی مزاحمت کاروں کی ڈرون ٹیکنالوجی کی صہیونی ریاست پردہشت طاری!

فلسطینی مزاحمت کاروں کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت اور ترقی پذیر ڈرون ٹیکنالوجی نے دنیا …