اتوار , 19 مئی 2019

سوڈان: مظاہرین کی تنظیم کا سویلین حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ

خرطوم (مانیٹرنگ ڈیسک)سوڈان میں مظاہروں کی تنظیم نے ملک میں موجود حکمراں ملٹری کونسل کی جگہ انتظام سنبھالنے کے لیے سویلین حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 11 اپریل کو صدر عمر البشیر کو برطرف کرکے اقتدار میں آنے والی ملٹری کونسل مظاہرین کی جانب سے جلد از جلد سویلین انتظامیہ تشکیل دینے کے مطالبے کو رد کر رہی ہے۔

مظاہروں کی کال دینے والی جماعت سوڈانیز پروفیشنلز ایسوی ایشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ وہ 2 روز بعدمقامی وقت کے مطابق 5 بجے آرمی کمپلیکس کے باہر نیوز کانفرنس میں کونسل اراکین کے ناموں کا اعلان کریں گے‘۔بیان میں کہا گیا کہ ’نیوز کانفرنس میں شرکت کے لیے غیر ملکی سفارت کاروں کو بھی دعوت دی گئی ہے‘۔سوڈانیز پروفیشنلز ایسوسی ایشنز کی رہنما احمدالرابعہ نے کہا کہ ’ ہم مطالبہ کررہے ہیں کہ یہ سویلین کونسل جس میں فوج کے نمائندگان شامل ہوں گے، اسے ملٹری کونسل کی جگہ لایا جائے‘۔

سوڈان میں ایندھن اور خوراک میں کمی کے باعث قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں کو آج 4 ماہ ہوگئے جو صدر عمر البشیر سے صدارت چھوڑنے کے مطالبے تک جا پہنچے تھے اور اب ایک شہری حکومت کے قیام کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔آرمی کمپلیکس کے باہر جمعے کی نماز کے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شیخ ماطر یونس نے کہا کہ ’اس حکومت کو عوام اور ان کی خواہش کا نمائندہ ہونا چاہیے‘۔مظاہرین میں شامل ایک شخص نے کہا کہ ’اس میں سوڈان کے تمام لوگوں کی نمائندگی ہونی چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے سوڈان کے عوام کے خلاف جرائم کیے ان سب کا ٹرائل ہونا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایک شہری کونسل دیکھنا چاہتے ہیں جس میں وزیراعظم اور ٹیکنوکریٹس پر مبنی حکومت ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ حکومت آئندہ 2 سال میں شفاف انتخابات کی تیاریاں کرسکتی ہے’۔

خیال رہے کہ 11 اپریل کو سوڈان کی فوج نے ملک میں جاری مظاہروں کے باعث 30 سال سے برسر اقتدار صدر عمر البشیر کو برطرف کرکے گرفتار کرلیا تھا اور اقتدار بھی سنبھال لیا تھا۔وزیر دفاع نے ملک میں 2 سال کے لیے فوجی حکمرانی کا اعلان کرتے ہوئے سول جمہوری تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو مشتعل ہونے سے روکنے کے لیے ایمرجنسی بھی نافذ کردی تھی۔

تاہم سوڈان کے وزیر دفاع جنرل عود ابن عوف نے 12 اپریل کو ملٹری کونسل کے سربراہ کے طور پر حلف اٹھایا تھا تاہم وہ اگلے ہی دن عہدے سے دستبردار ہوگئے تھے جس کے بعد 13 اپریل کو جنرل عبدالفتح برہان نے حلف اٹھایا۔فوج کی جانب سے صدر عمر البشیر کا تختہ الٹنے پر ہزاروں مظاہروں نے دارالحکومت خرطوم کے وسط کی طرف مارچ کیا تھا اور صدر کی برطرفی کی خوشیاں منائیں تھیں۔

یاد رہے کہ 1989 میں عمر البشیر نے صادق المہدی کی حکومت کو برطرف کیا تھا جس کے بعد ملک میں انتخابی عمل رک گیا تھا۔عود محمد ابن اوف نے کہا تھا کہ فوج، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بنائی جانے والی ملٹری کونسل آئندہ 2 سال تک حکومت کرے گی جس کے بعد ’ شفاف اور منصفانہ انتخابات کروائے جائیں گے‘۔

انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ فوج نے آئین معطل کردیا، حکومت تحلیل کردی اور 3 ماہ کے لیے ایمرجنسی بھی نافد کردی، تاہم صدر عمرالبشیر کی برطرفی کے بعد فوجی نظام سنبھالنے پر بھی مظاہرین نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے صدر کی برطرفی کے بعد تشکیل دی گئی ملٹری کونسل کو بھی مسترد کردیا تھا۔مظاہرین نے ملک میں جمہوری نظام کے نفاذ کے لیے سول قیادت اور سوڈان میں جاری تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا جن کی وجہ سے ملک بدترین غربت کا شکار ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ طالبان کو مذاکرات کے اخراجات دینے کے خواہشمند

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر طالبان پر مہربان ہو گئے، ٹرمپ امن مذاکرات کےلیے آنے …