پیر , 20 مئی 2019

پاکستان دشمن قوتیں اور ہماری ذمہ داری

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)

معاشرے کیلئے ریاست ضروری ہے، ریاست شہریوں کی آزادیوں، ناموس، جان اور مال کی محافظ ہے۔ ایک اہم چیز انفراسٹرکچر ہے، جو مواصلات اور آمد و رفت کے وسائل سمیت متعدد اسٹرکچرز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ریاست کو چلانے والوں کا کاروبار سیاست کہلاتا ہے، لیکن کاروباریوں کا سیاست میں عمل دخل بھی ایک حقیقت ہے۔ تجارت، کامرس اور اقتصاد کو ریاست مکمل طور پر کنٹرول نہیں کرتی، لیکن ریاست کو کنٹرول کرنیوالوں کا بالائی طبقہ اپنی مرضی سے معاشی پالیسیاں لیکر آتا ہے۔ اپنی خواہشات پورا کرنے اور مفادات کو تحفظ دینے کیلئے قانون بنائے جاتے ہیں۔ حکومتیں نہ صرف کاروباری طبقے کیلئے سہولتیں فراہم کرتی ہیں بلکہ دوسری حکومتوں سے تجارتی بنیادوں پر تعلقات اور فعال سفارت کاری بھی انجام دیتی ہیں۔

اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان 25 سے 28 اپریل تک چین کا دورہ کرینگے۔ وزیراعظم اپنے دورے میں نئے ایم او یوز پر بھی دستخط کرینگے۔ وزیراعظم چینی صدر شی جنگ پنگ کی دعوت پر دوسری بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس بیجنگ میں شرکت کرینگے۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا افتتاح چینی صدر 26 اپریل کو کریں گے۔ فورم میں 40 ممالک کے رہنماء اور 100 ممالک سے وفود شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوں گے، وزیراعظم عالمی ہارٹی کلچر نمائش میں بھی شرکت کریں گے۔ وزیراعظم تجارت و سرمایہ کاری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا یہ دوسرا دورہ چین ہے، وزیراعظم نے گذشتہ سال نومبر میں چین کا پہلا دورہ کیا تھا۔ اپنے 5 روزہ پہلے دورہ چین میں چینی صدر اور وزیراعظم کے علاوہ عمران خان نے دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں اور ملکی معیشت پر تبادلہ خیال کیا تھا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان 15 معاہدوں اور یاداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔ موجودہ دور میں سکیورٹی اور معیشت باہم جڑے ہوئے ہیں۔ گذشتہ حکومتوں نے بھی سی پیک سمیت تمام اقتصادی نوعیت کی سڑکوں، منصوبوں اور تعلقات کو اولین ترجیح دی۔ انہی بنیادوں پہ فوجی حکومتوں نے امریکہ کا ساتھ دیا، افغان جنگ اور دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ اسی سودے بازی کی ہی مثال ہیں۔

گوادر سے چین تک کے روٹ کو دیکھیں، افغانستان کا منطر پیش کر رہا ہے۔ پاکستان دشمنی میں بھارتی اور صہیونی لابی خون خرابے کے ذریعے پاک چین تعلقات کو زک پہنچانا چاہتی ہے۔ متعدد قربانیوں کے باجود ہماری سڑکیں رواں دواں ہیں۔ اتنی شہادتوں کے بعد بھی پاکستانی مظلوم مقتولین کے ورثاء کا حوصلہ برقرار ہے۔ لیکن چند سوالات ہیں، جو زیرگردش ہیں، پاکستانی عوام کو تاحال نہ انکے جوابات مل سکے، نہ ہی جس انفراسٹرکچر، یعنی سڑکوں اور راستوں کی رونق برقرار رکھنے کیلئے وہ ذبح ہو رہے ہیں، اسکی وجہ سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی خوشحال اور مثبت تبدیلی آرہی ہے۔ بس خراج جاری ہے، مہنگائی کا طوفان ہے اور بے گناہوں کا قتل عام۔

پالیسی ساز بڑی آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ ان واقعات کا تعلق پاکستان کے خارجہ تعلقات کو خراب کرنیوالی قوتوں سے ہے۔ یہ قوتیں چین اور ایران کیساتھ پاکستان کے تعلقات کو ناہموار دیکھنا چاہتی ہیں، تاکہ پاکستان کی معیشت ترقی نہ کرسکے۔ یہ کچھ عرصے کی بات ہے، اس سے قبل تو ہم امریکی بلاک کا حصہ تھے۔ ایک رائے اب پختہ ہو رہی ہے کہ سیاستدانوں، پالیسی سازوں اور سڑکوں کے رکھوالوں نے کبھی ریاست کی ذمہ داریوں میں عام پاکستانی شہریوں کو مدنظر ہی نہیں رکھا، ریاست جس کو ماں کے جیسا ہونا چاہیئے، فقط مفاد پرست مقتدر ٹولے کے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنا کر رکھ دی گئی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنیوالوں کی بجائے اپنے شہریوں کو ترجیح دی جائے۔

جیو کے تجزیہ نگار بابر ستار کے مطابق یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مسلسل شہری قتل ہوتے رہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں سڑکوں کی تزویراتی اہمیت کیلئے قربانیاں طلب کی جاتی رہیں۔ اس تناظر اور پالیسی سازی میں مدنظر رکھی جانیوالی ترجیحات کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف شہریوں کے شعور اور آگہی میں اضافے سے ممکن ہے، مذہبی اور سیاسی قائدین کو منافق اور مفاد پرست حکمرانوں کی سیاست کو چیلنج کرنا ہوگا، عوام کو اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ ان حالات کے ذمہ دار محب وطن نہیں ہیں، وہ ظالم ہیں اور عالمی سطح پر تجارتی بنیادوں پہ مخصوص اقلیتی ٹولے کے مفادات کو آگے بڑھانے والوں کے ایجنٹ اور معاون ہیں۔ بے گناہوں کا بہتا لہو، رائیگاں نہیں جانا چاہیئے، ریاست اور معاشرے کو آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی دیکھیں

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز

(تحریر: امیر مسروری) یمن کی مسلح افواج نے اس سال کے آغاز پر اسے "ڈرون …