جمعہ , 19 جولائی 2019

اسرائیل عسکری مقاصد کے لیے ‘انفارمیشن وار’ کوکیسے استعمال کرتا ہے؟

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کے ایک ریسرچ سینٹر کے زیراہتمام تیارکی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ فوج ‘دشمن’ کےخلاف اپنے عسکری مقاصد کےحصول کے لیے ‘انفارمیشن وار’ کا سہارا لینے کی کوشش کررہی ہےتاکہ طاقت کا کم سے کم استعمال کیا جائے۔

اسرائیل کی دوسری بڑی درس گاہ ‘بارایلن’ کےزیراہتمام ‘بیگن السادات اسٹریٹجک اسٹڈی سینٹر’ کی تحقیق میں‌کہاگیا ہے کہ ‘انفارمیشن وار’یا معلومات کی جنگ اسرائیلی فوج کا دشمن کے خلاف لڑنے کاایک اہم ذریعہ ہے اور ماضی کے برسوں میں اس جنگ کا بھرپور طریقے سے استعمال کیا گیا۔ اس طریقہ جنگ میں اسرائیلی فوج مخالفین کی انٹیلی جنس معلومات لیک کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ ان معلومات کی روشنی میں دشمنوں کے خلاف طاقت کے استعمال کو کامیاب بنایا جاسکے۔

یہ رپورٹ ‘یاکوف لبن’نے تیار کی ہے۔ اس میں کہاگیاہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے دشمن کی حساس معلومات حاصل کرنے کے بعد انہیں شائع کرتے ہیں تاکہ دشمن کو یہ باور کرایا جائے کہ صہیونی جاسوس ان کےاندر تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دشمن کو یہ پیغام دینا کہ جاسوسی میں کامیاب اسرائیل طاقت کا بھی برمحل استعمال کرسکتا ہے۔

رپورٹ کےمطابق انفارمیشن وار میں اسرائیل کا ٹارگٹ ایران، لبنان کی حزب اللہ فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’ ہے۔ ان کے بارے میں‌اہم معلومات کا حصول اسرائیل کوان کے خلاف فوجی کارروائی کے تعین کا موقع اور رہ نمائی فراہم کرتا ہے۔

تحقیقی پرچے میں‌ کہاگیا ہے کہ اسرائیلی فوج علاقائی طاقتوں،عالمی برادری اور دیگر اپنے حامی عناصر کی مدد سے جاسوسی کرتا ہے۔ عرب ممالک میں اس مقصد کے حصول کے لیے افراتفری پھیلانےاور بم دھماکے تک کرائے جاتے ہیں۔ اہم شخصیات کوٹارگٹ کلنگ کے ذریعے قتل کرنے پالیسی بھی’انفارمیشن وار’ کا حصہ ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران نےامریکا کیساتھ بات چیت کا امکان مسترد کردیا

اقوام متحدہ میں ایرانی ترجمان علی رضا میر یوسفی کا کہنا ہے کہ  امریکا کیساتھ …