جمعہ , 19 جولائی 2019

تیل کا کھیل، وینزوئیلا میں امریکا کا خطرناک کھیل اور ایران کا کردار

ایران کے تیل پر پابندی، امریکا کی ناکامی، وینزوئیلا کے حالات اور امریکی سازشوں کے خلاف ایران – روس تعاون … تیل کے اس کھیل کو سمجھیں….امریکا سے شائع ہونے والے اخبار نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران اور وینزوئیلا کے تیل پر پابندی کی کوشش سے پوری دنیا میں تیل کے بازار میں بھونچال آ جائے گا اور تیل کی آمدنی پر منحصر ایران اور وینزوئیلا کی آمدنی میں شدید کمی کے باوجود ان دونوں ممالک کے رہنماؤں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مزاحمت کرتے رہیں گے ۔

امریکا، ایران اور وینزوئیلا کے تیل پر پابندی عائد کرنے کے منصوبے پر وسیع پیمانے پر کام کر رہا ہے تاہم توانائی کی بہت زیادہ ضرورت رکھنے والے چین اور ہندوستان نے، ایران سے تیل درآمد میں کمی کے امریکی مطالبے کو قبول نہیں کیا، حالانکہ امریکا نے ان دونوں ممالک کو گزشتہ نومبر میں چھ مہینے کی رعایت بھی دی تھی ۔امریکا نے جاپان، کوریا اور ترکی کو بھی ایران کے تیل پر پابندی سے چھ مہینے کی رعایت دی تھی۔ ضرورتمند چین اور ہندوستان نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے معین مقدار سے زائد تیل ایران سے درآمد کیا ہے۔

ذرائع کی مانیں تو امریکی وزیر خارجہ ان ممالک کو پھر سے رعایت دینے کے حامی ہیں تاہم امریکا کے قومی مشیر جان بولٹن اس رعایت کو پوری طرح سے ختم کرنے کے خواہشمند ہیں ۔

امریکا کی سابق نائب وزیر خارجہ اور ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کرنے والی وینڈی شرمن کا خیالہے کہ ایران اور وینزوئیلا کو تیل برآمد صفر تک پہنچانے کے بہت زیادہ نقصانات ہیں اور اس سے تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو جائے گا ۔ نیو یارک ٹائمزنے مزید لکھا کہ چین کے ساتھ واشنگٹن کی کشیدگی، دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور شمالی کوریا کے مذاکرات میں چین کے تعاون کو متاثر کر سکتا ہے اور ترکی کو اگر تہران سے تیل در آمد میں کمی پر مجبور کیا جائے گا تو وہ روس کی انرجی پر زیادہ منحصر ہو سکتا ہے۔

ایران کے تیل پر عائد پابندیوں سے امریکا نے سب سے پہلے 2012 میں چین اور ہندوستان نیز کچھ دیگر ممالک کو رعایت دی تھی ۔ اس وقت امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے خلاف پابندیاں سخت کر دی تھیں ۔گزشتہ نومبر کے مہینے میں امریکا نے ایران کے خلاف پھر سے پابندیاں عائد کیں تاہم چین، ہندوستان، ترکی، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان، یونان اور اٹلی کو چھ مہینے تک ایران سے تیل خریدنے کی رعایت دی ۔

دسمبر کے مہینے تک تائیوان، یونان اور اٹلی نے اس رعایت کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا اور ایران سے تیل درآمد بند رکھا تاہم ایران کی تیل برآمد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فروری اور مارچ میں ایران نے تقریبا 1.3 ملین بیرل روزانہ تیل برآمد کیا ہے جو غیر معمولی طور پر اضافے کی علامت ہے۔

صرف چین ہی روزانہ ایران سے پانچ لاکھ بیرل خام تیل درآمد کرتا ہے۔ ہندوستان، ایرانی تیل کا دوسرا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ہندوستان نے روزانہ تین لاکھ بیرل سے زائد درآمد نہ کرنے کے امریکا سے کئے اپنے وعدے پر عمل کیا ہے تاہم تیل درآمد میں کمی بھی نہیں کی ۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان، وینزوئیلا کے تیل پر منحصر ہے تاہم وینزوئیلا کے تیل کا سب سے بڑا خریدار امریکا ہے اور امریکا، وینزوئیلا کے صدر نیکولس مادورو کا سرسخت مخالف ہے اور ان کے مخالف خوان گوائدو کی حمایت کرتا ہے اور اسے امید ہے کہ مادرو کو اقتدار سے ہٹا کر اور گوائدو کو بر سر اقتدار کرکے وینزوئیلا میں تیل کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کر دے گا اور اس طرح وہ ایران پر دباؤ ڈال سکے گا ۔

ایران اور وینزوئیلا میں تیل کی پیداوار کم ہوئی ہے اور لیبیا میں جنگ شدت پکڑ گئی ہے جو ایک تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ ان حالات میں نئے سال کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور بیس ڈالر بڑھنے کے بعد یہ یقینی ہو گیا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں چالیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں اور گزشتہ ایک مہینے کے دوران ہی امریکا میں پیٹرول کی قیمت میں روزانہ ایک پینی کا اضافہ ہوا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ایران سے تیل خریدنے کے لئے دی گئی رعایت میں اضافہ نہ کیا گیا تو تیل کی قیمتوں میں مزید دس ڈالر کا اضافہ ہوگا ۔

نیویارک ٹائمز نے آخر میں لکھا ہے کہ حالانکہ سعودی عرب تیل کی پیداوار میں اضافہ کرکے تیل کی قیمتوں کو کچھ حد تک کم کرا سکتا ہے تاہم وہ ایسا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ گزشتہ سال، ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کی مرضی کے خلاف کچھ ممالک کو ایران سے تیل خریدنے کی رعایت دے دی تھی ۔

نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ امریکا نے ایران کے تیل پر پابندی عائد کرنے میں ناکامی کے بعد، کیوں وینزوئیلا کا رخ کیا اور کیوں وہاں کی حکومت کو سرنگوں کرنا چاہتا ہے؟اس رپورٹ سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ ایران اور روس، کیوں وینزوئیلا میں امریکی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں ۔بشکریہ سحر نیوز

یہ بھی دیکھیں

اینگلو امریکن اتحاد کا آپریشن جبرالٹر بھی ناکام!

تحریر: محمد سلمان مہدی اینگلو امریکن اتحاد سے مراد برطانوی اور امریکی سامراجی اتحاد ہے …