پیر , 20 مئی 2019

پاکستانی معاشرے پر بدعنوانی کے تاریخی اثرات

(تحریر: این زیڈ)

کرپشن یا بدعنوانی صرف رشوت اور غبن کا نام نہیں، اپنے عہد اور اعتماد کو توڑنا یا مالی اور مادی معاملات کے ضابطوں کی خلاف ورزی بھی بدعنوانی کی شکلیں ہیں۔ ذاتی یا دنیاوی مطلب نکالنے کے لئے کسی مقدس نام کو استعمال کرنا بھی بدعنوانی ہے۔ کرپشن ایک ایسا مرض ہے جو چھوت کی طرح پھیلتا ہے اور معاشرے کو کھا جاتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس موذی مرض نے ہماری سماجی، سیاسی اور روحانی زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ کرپشن آکاس بیل کی طرح سے ہے، یعنی وہ زرد بیل جو درختوں کو جکڑ کر ان کی زندگی چوس لیتی ہے۔ یہ ایک ایسی لعنت ہے کہ اگر ایک بار یہ کسی معاشرہ پر آگرے تو ایک شاخ سے اگلی اور اگلی شاخ کو جکڑتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ زرد ویرانی کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔ یہاں تک کہ معاشرہ کی اخلاقی صحت کے محافظ مذہبی اور تعلیمی ادارے بھی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی برائی کے خلاف جدوجہد کا انحصار معاشرہ کے اخلاقی معیاروں پر ہوتا ہے۔ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم کس بات کو رد اور کس کو قبول کرتے ہیں۔ بدعنوانی کے رویوں کے ساتھ بدعنوانی کا مقابلہ ممکن نہیں۔ کوئی نگران اگر خود بد دیانت ہو تو لوٹ میں اپنا حصہ مانگ کر کرپشن میں معاونت کرتا ہے، جس سے بربادی کا عمل اور گہرا ہو جاتا ہے۔

ہمارا معاملہ یوں ہے کہ کرپشن کسی جڑواں بچے کی طرح پاکستان کے بنتے ہی ساتھ آگئی تھی۔ وہ لوگ جو آج معاشرہ میں امتیازی حیثیت کے مالک ہیں، پاکستان کے ابتدائی دنوں کی تاریخ کو بڑی احتیاط سے چھپاتے ہیں۔ یہ لوگ کرپشن کے خلاف تقریریں تو کرتے ہیں لیکن کرپشن کی وجوہات اور پیدائش پر بات نہیں کرتے۔ یہ پاکستان کی ابتدائی تاریخ کا وہ افسوس ناک باب ہے، جس میں ہماری کرپشن، موقع پرستی، مذہبی بلیک میلنگ اور بے حسی کی جڑیں چھپی ہیں۔ ہماری قیادت کو ان مسائل کا شائد کوئی تصور ہی نہ تھا، جو ہمارے عوام کو تقسیم ہند کے وقت پیش آنے والے تھے۔ چنانچہ مہاجروں کی آباد کاری کا کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہ تھا۔ عین اس وقت جب ہمارے لہو میں نہائے ہوئے مہاجر کیمپوں میں پڑے سڑ رہے تھے تو ملک کے طول و عرض میں ہندووں اور سکھوں کی متروکہ املاک کی لوٹ مار یوں جاری تھی جیسے عید کا تہوار ہو۔ چالاک موقع پرستوں کی چاندی ہو رہی تھی۔ لیڈر لوگ بحالیات کے دفتروں میں بیٹھے اپنے حصّوں کی سودے بازی کر رہے تھے۔ کیمپوں میں ہونے والے جنسی جرائم کی گندی کہانیاں بھی گردش میں تھیں۔ یہ سب کچھ پراپرٹی کلیم شروع ہونے سے پہلے کی بات ہے۔

پھر پراپرٹی کلیم کی کہانی شروع ہوئی، لیکن پراپرٹی کلیم کیا تھا؟
بے شمار مسلم عوام تھے، جنہوں نے اپنے اس نئے وطن پاکستان کے لئے ہندوستان سے ہجرت کی۔ ان میں بہت سے ایسے تھے، جو بھارت میں اپنے گھر اور جائیداد چھوڑ کر آئے تھے۔ لیکن ان گنت ایسے بھی تھے، جن کا وہاں کچھ بھی نہ تھا یا بہت معمولی تھا۔ اگرچہ حقائق معلوم کرنے کا کوئی قابل اعتماد طریقه موجود نہ تھا، پھر بھی ہر شخص کو یہ دعویٰ کرنے کا حق تھا کہ اس نے ہندوستان میں یہ چھوڑا، وہ چھوڑا اور اسے پاکستان میں اس کے برابر ملنا چاہیئے، اس کا نام کلیم تھا۔ لیکن لوگ اپنا کلیم کیسے ثابت کرتے تھے؟ ظاہر ہے کسی کے پاس ملکیت کا کوئی کاغذ نہ تھا۔ ایسی صورت حال میں جھوٹی کہانیوں کی گنجائش موجود تھی، جس کی تصدیق کے لئے ذاتی گواہی کے سوا کچھ موجود نہ تھا اور اس کی بھی کچھ ایسی مجبوری نہ تھی، کیونکہ کوئی ہمدرد افسر، تحریک پاکستان کا کوئی کارکن یا کوئی سیاسی رہنما آپ کا کلیم منظور کرکے آپ کی تقدیر بدل سکتا تھا۔

چنانچہ ہندووں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی شہری اور دیہی ملکیتیں، رہائشی اور کاروباری جائیدادیں، فضل ربی بن کر ایسے ایسے لوگوں کے ہاتھ لگیں جن کا کوئی استحقاق نہ تھا۔ سب سے زیادہ ننگے انداز میں یہ عمل صنعتی، تجارتی اور کاروباری شعبوں میں سرزد ہوا، جہاں مسلمانوں کو کوئی تجربہ نہ تھا یا بہت کم تجربہ تھا۔ چنانچہ جو نیا کاروباری طبقہ پیدا ہوا، اسے کاروبار کے اصولوں، اس کی اخلاقیات اور اس کے مزاج کے بارے میں تربیت دینے کا بھی کوئی انتظام نہ تھا۔ برطانوی حکومت سے پہلے برصغیر میں مسلمانوں کا مزاج بالعموم جاگیردارانہ اور زراعتی تھا، بعد کی صدیوں میں زیادہ تر وقت مسلمان مزاحمت اور علیحدگی کی تحریکوں میں رہے، صرف ایک محدود سا طبقہ سول سروس اور فوج میں شامل ہوا۔ اس سارے دور میں مسلم خطیبوں اور ڈاکٹر اقبال جیسے شاعروں کے ولولہ انگیز پیغامات نے ہمارے مجاہدانہ مزاج کو اور گہرا کر دیا۔ لہٰذا ہمارے کاروباری طبقوں میں جاگیرداری اور جنگی مزاج قائم رہا اور ایک حقیقی کاروباری طبقہ کے جمہوری مزاج کی کمی رہی۔

برصغیر میں مسلمان صدیوں سے ہندو کاروباری طبقہ کو حقارت سے بنیا کہتے آئے تھے اور انہیں رئیس اور سپاہی ہونے پر فخر رہا تھا۔ لہٰذا ہمارے کاروباری طبقوں اور سول سروس کے لئے بالکل فطری تھا کہ وہ جاگیرداروں، جرنیلوں اور دینی علماء کو اپنے راہنما مانتے۔ زرعی رؤسا، جن میں سے اکثر کرپشن کے موجد تھے، جنہوں نے خالص ذاتی مفادات کے لئے انگریز کی خدمات کی تھی، اس نئی سرزمین میں خوش اور محفوظ تھے کہ جہاں نہ تو زرعی اصلاحات کا خوف تھا، نہ احتساب کا۔ یہ تھی صورت حالات جس میں پرمٹ، لائسنس اور الاٹمنٹوں کا ہنگامہ شروع ہوا۔ جلد ہی امریکی امداد کا دھارا بھی بہنے لگا۔ اب اوپر کے طبقوں یعنی حکمرانوں کے لئے کھلا میدان تھا۔ آسان کمائی کی غلیظ دوڑ کا آغاز ہوا، جس نے راتوں رات امیر ہو جانے کے خواب ہماری نفسیات میں گوندھ ڈالے۔ بعد کی ساری تاریخ کرپشن اور اقربا پروری کے افسانوں اور کہانیوں سے اٹی پڑی ہے۔ آج ہمیں حیرت ہوتی ہے، کہ آخر کرپشن کی شکایتیں کرنے اور ایک دوسرے پر فرد جرم عائد کرنے کا جواز کیا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ اس کا جواز موجود ہے۔

نرگسیت سے بھرے معاشرہ میں ایسا عمل فطری ہے، کیونکہ نرگسیت کے مریض کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اپنا جرم دوسروں پر ڈال دے۔ پاکستان میں کرپشن صحت مندی کی علامت بن گئی ہے، ایک ایسا عمل جو ذہانت کا معیار ہے، سماج میں موزوں ہونے کا ثبوت ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ کرپشن کو گالی دینا بھی اتنا ہی معیاری اور موزوں ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کے پاس دوسرے کی کرپشن کے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ایک فہرست موجود ہوتی ہے، جس کے ساتھ ہی ویسی ہی کامیابیوں کی آرزو ہمارے دل میں مچلتی ہے۔ عمل اور فکر کا یہ تضاد یعنی ہاتھ سے کرنے اور زبان سے کوسنے کا یہ عمل اس ریا کاری کو جنم دیتا ہے، جو بد عملی کو دوام بخشتی ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو ایک شاندار دین پر ایمان رکھتا ہے، لیکن جن اصولوں کی تعظیم کرتا ہے، عمل میں ان کے مخالف چلتا ہے، اسے ضمیر کی آسودگی کے لئے کسی بڑی تسلی کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہذا ہمارے حکمرانوں نے معاشرہ کے لئے نمازوں اور حج کی رسوم پر مبنی نمائشی اسلام کو بڑھاوا دیا ہے۔ اس سے ہم اپنے ہر روز کے احساس ندامت کو دھو لیتے ہیں، تاکہ ہر نئی صبح ہلکے پھلکے ہوکر پھر سے وہی کرنے نکلیں جو کل دھویا تھا۔

کیا اس حالت سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟
ہاں، ہر نئی نسل بھلائی پر ایمان اور معصوم جذبے لیکر پاکیزہ پیدا ہوتی ہے۔ یہ معاشرہ جس میں وزیراعظم سے قاصد تک اور مل مالک سے دہاڑی دار معاون تک تقریباً ہر کوئی تر بہ تر ہے اور نچڑ رہا ہے، یہاں نئی نسل کی رہنمائی کے لئے شاید کوئی موجود نہیں۔ انہیں مستقبل کی تعمیر کے لئے بڑی توجہ سے اپنے رستے بنانا ہونگے۔ اچھے معاشروں کا مطالعہ اور ذہانت سے پوچھے جانے والے سوال وہ اوزار ہیں، جو راستہ بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ جمہوریت نئی نسل کو اپنا رول ادا کرنے کے لئے میدان مہیا کرسکتی ہے۔ ہمیں امید ہے نئی نسلیں سائنس اور تخلیق کی دنیا کے ساتھ جینے کا فیصلہ کریں گی، جو ایسا واحد راستہ ہے، جو کرپشن سے آزاد ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز

(تحریر: امیر مسروری) یمن کی مسلح افواج نے اس سال کے آغاز پر اسے "ڈرون …