پیر , 20 مئی 2019

عمران خان کا دورہ ایران اور امکانات

(قدسیہ ممتاز)

وزیر اعظم عمران خان اپنی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کے بعد اپنے پیچھے شکست خوردہ ٹولے کی چیخ پکار چھوڑ کر اطمینان سے ایران کے دورے پہ روانہ ہوگئے۔اس طے شدہ دورہ ایران سے، جس کی دعوت انتخابات میں کامیابی کے فوراً بعد ایرانی صدر روحانی نے عمران خان کو دی تھی، چند روز قبل ہزار گنجی سبزی منڈی میں ایک بار پھر ہزارہ برادری کے افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ متاثرین کے لواحقین کوئٹہ میں احتجاج میں مصروف تھے اور وہ اس بات کی ضمانت چاہتے تھے کہ آئندہ ان کے ساتھ ایسا کوئی سانحہ رونما نہ ہو۔ اپنے مطالبے کی عدلیت سے قطع نظر کہ جان و مال کا تحفظ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے،یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ مطالبہ کہلایا جاسکتا ہے۔ حال ہی میں نیوزی لینڈ کی مسجد میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی دہشت گردی اور سری لنکا میں تامل علیحدگی پسندوں کی بیخ کنی کے بعد ایسٹر کے موقع پہ پہلا بڑا اور ہلا دینے والا دہشت گردی کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا مکمل سد باب دنیا بھر میں کسی کے بس کی بات نہیں۔ہزارہ کمیونٹی کا معاملہ البتہ مختلف ہے کہ وہ ایک تسلسل کے ساتھ ظلم کا نشانہ بنتی رہی ہے۔وزیر اعظم کے متاثرین سانحہ ہزار گنجی کے احتجاج کرنے والوں سے کوئٹہ میں ملاقات اور ان کی داد رسی میں تاخیر کو نت نئے معنی پہنائے گئے۔ یہاں تک کہا گیا کہ عمران خان سعودی عرب کے دبائو پر ان متاثرین کی داد رسی نہیں کرنا چاہتے۔

یہ الزام بھی لگایا گیا کہ چونکہ تحریک انصاف مبینہ طور پہ کالعدم تنظیموں کے ساتھ تعلقات بنائے بیٹھی ہے اس لئے عمران خان اس واقعہ پہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔دورہ ایران سے چند گھنٹوں قبل عمران خان نے نہ صرف متاثرین اور مظاہرین سے ملاقات کی بلکہ کوئٹہ میں نیا پاکستان ہائوسنگ اسکیم کے تحت تعمیر کئے جانے والے گھروں میں، شہدا سانحہ ہزارگنجی کے لئے پانچ فیصد کوٹے کا اعلان بھی کیا۔ اس طرح بدخواہوں کے منہ تو خیر کیا بند ہوتے، ایران کو ایک مثبت پیغام ضرور گیا۔ساتھ ہی عمران خان نے اس تاثر کی نفی کردی کہ وہ کسی بھی اندرونی یا بیرونی دبائو کا شکار ہیں۔ اس کار خیر میں وہ تاخیر سے کام نہ لیتے تو بہتر ہوتا لیکن غالبا وہ اسے دورہ ایران کی ٹائمنگ کے ساتھ نتھی کرنا چاہ رہے تھے ۔ اس میں وہ کامیاب ہوئے ۔ ۔اس کے ساتھ ہی ایرا ن کو ایک balancing gesture دیا گیا ہے جو بے حد ضروری بھی تھا اور بروقت بھی۔یہ وہی حربہ ہے جو ایران بلا جھجھک پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔یعنی سرحد پار سے دراندازی کا الزام۔ چار روز قبل مکران کوسٹل ہائی وے پہ بس میں سوار چودہ افراد کو شناختی کارڈ دیکھ کر بہیمانہ طریقے سے شہید کردیا گیا۔ ان میں پاک بحریہ کے نوجوان بھی شامل تھے۔ باقی پنجاب سے تلاش رزق میں بلوچستان جانے والے غریب مزدور تھے جن کا خون بھی غالبا سرخ نہیں تھا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا اور ایسے واقعات ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ہونے والی ظالمانہ کارروائیوں کی طرح تسلسل سے ہوتے رہتے ہیں۔

ہر بار حکومت ایسے واقعات کی ذمہ داری بھارت کی پشت پناہی میں بلوچستان میں سرگرم عمل علیحدگی پسند دہشت گردوں کے سر تھوپ کر خود اطمینان سے اسلام آباد کے محفوظ ریڈ زون میںکار سرکار نمٹاتی رہتی تھی۔ اس بار عمران خان حکومت نے بلاجھجھک بھارت نہیں ایران کے ساتھ اس واقعہ پہ باضابطہ احتجاج کیا ہے اور مراسلہ جاری کیا ہے جس میں ایران کو ایک نوساختہ دہشت گرد گروپ بلوچ راجی اجوئی سانگر کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس نے مبینہ طور پہ ایران سے ملحقہ سرحد سے دراندازی کرکے یہ کارروائی کی ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مذکورہ گروپ کی تشکیل کا بنیادی مقصد بلوچستان میں سی پیک منصوبوں کو بالخصوص نشانہ بنانا تھا یعنی یہ اس مقصد کے لئے بطور خاص تشکیل دیے گئے دہشت گردانہ گروپوں میں سے ایک ہے۔ اسی مقصد کے لئے اس نے بلوچ لبریشن آرمی میں شمولیت بھی اختیار کرلی ہے لیکن اس کی کارروائیاں اسی مقصد کے لئے محدود ہیں۔ اس گروپ کا نام لے کر ایران سے اس کے خلاف کاروئی کا مطالبہ گوادر کے مقابلے میں بھارتی کنٹرول میں چاہ بہارکے قیام کے پس منظر میں خاصا معنی خیز ہے۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ ایران نے اس متعلق مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور دونوں اطراف سے شدت پسند کارروائیوں کے خلاف مشترکہ آپریشن پہ آمادگی ظاہر کی ہے۔

یاد رکھنا چاہئے کہ امسال فروری میں جب عمران خان کو حکومت سنبھالے چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے،جنوب مشرقی سرحد پہ آپریشن میں مصروف پاسداران انقلاب ایران پہ بم حملہ ہوا جس میں ستائیس پاسداران جاں بحق ہوئے۔ اس حملے نے ایران کو اتنا برافروختہ کیا کہ اس نے بلامروت پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیا اور دھمکیاں بھی دے ڈالیں۔یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر پاکستان نے اس حملے میں ملوث جیش العدل کے خلاف کارروائی نہ کی تو وہ خود کرے گا۔ اس حساب سے پاکستان کا لہجہ خاصا معقول ہے اور اس نے مکران کوسٹل سانحے میں ایران کو کوئی تڑی نہیں لگائی۔اہم بات یہ ہے کہ کچھ اندرونی رپورٹس کے مطابق حال ہی میں بلوچ لبریشن آرمی نے چپ چپاتے جیش العدل کے کچھ افراد ایران کے حوالے کردیے ہیں۔اس میں عقل والوں کے لئے واضح نشانیاں ہیں۔جن کے کھلے عام اظہار سے فساد خلق کا اندیشہ ہے۔پاکستان کو ایران کے ساتھ اس مسئلے پہ کھل کر بات کرنی ہوگی۔ایران کو ہم سے کچھ شکایتیں ہیں ان میں سر فہرست یہ ہے کہ ہم اس کے مخالف کیمپ میں ایک عرصے سے لوٹنیاں لگا رہے ہیں۔سعودی عرب کا اسلامی فوجی اتحاد جو ایران کے خلاف ہے، کا سربراہ ہمارا سابق سپہ سالار ہے۔اس کے باوجود پاکستان نے ایران کے خلاف یمن میں کارروائی کے لئے سعودی عرب کا ساتھ نہ دے کر اس کی ناراضگی مول لی۔ سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف انسانی حقوق خلاف ورزیوں سے متعلق قرارداد کی بھی ہم نے حمایت نہیں کی۔

ایرانی حلیف بشار الاسد کے شام پہ حملے کی سعودی قرارداد کی بھی ہم نے مخالفت کی۔بالعموم ہم نے مشرق وسطی کے تنازعات میں فریق بننے سے انکار کی پالیسی اپنائی لیکن سعودی عرب کے ساتھ مشرق وسطی کے علاوہ بھی ہمارے تعلقات ایران کے مقابلے میں تاریخی طور پہ مستحکم ہیں۔کچھ ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں والا معاملہ بھی ہے۔ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے سے ہی سعودی عرب اور ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات میں توازن پیدا ہوگا۔تیل ہم سعودی عرب سے لیتے ہیں اور اس سال پہلے ہی تاخیری ادائیگیوں پہ ہم تیل لے چکے ہیں۔ ایران کے ساتھ ہمارے تجارتی تعلقات کا حجم اتنا کم ہے کہ ایران پہ امریکی پابندیوں کا کوئی فرق پاکستان کو نہیں پڑا۔جب تک ہم باہمی تجارت کو اسٹیک ہولڈر نہیں بنائیں گے سرحدی تنازعات کم نہیں ہونگے۔ درمیان میں سرمایہ رکھ دیں سرحدیں محفوظ ہوجائیں گی ورنہ ایران پاکستان مشترکہ سرحدی فورس بھی ٹامک ٹوئیاں مارتی رہے گی۔ بشکریہ 92 نیوز

یہ بھی دیکھیں

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز

(تحریر: امیر مسروری) یمن کی مسلح افواج نے اس سال کے آغاز پر اسے "ڈرون …