پیر , 20 مئی 2019

دہشت گردی عالمی مسئلہ

(محمد اکرم چوہدری)

دہشت گردی کسی بھی ملک میں ہو اس کے اثرات تما م عالم انسانیت پر ہو تے ہیں ابھی تو لوگ نیوزی کے واقعے کو نہیں بھو لے تھے کہ چین میں دہشت گر دی کا واقع ہوا اور پھر اب سری لنکا میں ہونے والے دہشت گر دی کے واقعات نے سب کے دل دہلا کر رکھ دیئے ہیں۔

ہما رلے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ مساجد ،چرچ ،مقدس مقامات اور عبا دت گا ہو ں پر ہو نے والے واقعات کس طرف اشا رہ کرتے ہیں ۔سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے 8بم دھماکوں میں 300افراد ہلاک اور500سے زائد زخمی ہوئے‘ ہلاک ہونے والوں میں امریکی اور برطانوی شہریوں سمیت 36 غیرملکی بھی شامل تھے۔ مذہبی تہوار کے موقع پر مختلف علاقوں میں بم دھماکوں کا ہونا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ سری لنکا میں دہشت گردوں کا ایک مضبوط نیٹ ورک موجود ہے جو اس خطے کے تمام ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ سری لنکا ایک طویل عرصے تک خانہ جنگی کا شکار رہا، وہاں کی فوج نے طویل لڑائی اور بڑی قربانیوں کے بعد دہشت گردوں کا مضبوط نیٹ ورک توڑا اور ملک میں امن و امان قائم کیا۔

آج دہشت گردی عالمی مسئلہ بن چکی ہے اس لیے اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کسی ایک ملک پر الزام لگانے کے بجائے تمام ممالک کو متحد ہو کر اس کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی۔ وہ قوتیں جو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتی، انھیں تربیت اور مالی امداد فراہم کرتی ہیں ان قوتوں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف سب کو متحد ہوکر کارروائی کی جانی چاہیے۔دنیا میں امن کے نام پر ہلاکت خیز ہتھیاروں کی تیاری اور خرید و فروخت کا عمل، تخفیف اسلحہ اور ہتھیاروں کے عدم پھیلائو پر مبنی معاہدوں، ضابطوں اور اس ضمن میں کی جانے والی تمام کوششوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کی اکثر پالیسیاں اس ضمن میں بے حد ستم ظریف واقع ہوئی ہیں۔ ایک طرف تو تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلائو کی باتیں کی جاتی ہیں اور دوسری طرف ہتھیاروں کی پیداوار اور بڑھتی ہوئی خرید و فروخت کا بازار بھی ہمیشہ گرم رہتا ہے۔

امریکا اور فرانس نے بھی بھارت کے ساتھ جوہری معاہدے کر لیے ہیں، یعنی تخفیف اسلحہ کی تمام کوششیں اور سمجھوتے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ امریکا اور اکثر یورپی ممالک کی یہی روایت رہی ہے کہ انھوں نے ہتھیاروں کی تجارت کو کبھی کم نہیں ہونے دیا اور جسے چاہا اور جیسے چاہا اسلحہ فروخت کیا اور ٹیکنالوجی منتقل کی۔2003سے 2006کے دوران یوگنڈا میں اندرونی خلفشار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مفلسی اور قحط سالی سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔یوگنڈا کے غریب خاندان اپنی 20 سالہ خانہ جنگی میں تقریباً 2 بلین ڈالر کے ہتھیار استعمال کر چکے ہیں۔ 1996 سے لے کر 2006 تک امریکا نے یوگنڈا کو امداد کی مد میں تقریباً اتنی ہی رقم مہیا کی تھی گویا اگر اس دوران جنگ نہ ہوئی ہوتی تو بیرونی امداد کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ 2006 میں شمالی یوگنڈا کی خانہ جنگی میں 58 ملین ڈالر استعمال ہوئے۔ ان غریب ملکوں میں اتنا قیمتی اسلحہ کہاں سے اور کیسے دیا جاتا ہے یہ انکشاف ابھی تک کسی ادارے نے نہیں کیا۔

آج اس دنیا میں جہاں ہر سال 780 بلین روپے ہلاکت خیز ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر خرچ ہو جاتے ہیں اسی دنیا میں ایک ارب انسان ایسے بھی ہیں جو بے گھر ہیں۔ 82 کروڑ 60 لاکھ افراد کو صرف اس قدر خوراک میسر ہے کہ ان میں روح و بدن کا رشتہ کسی طرح سے برقرار رہ سکے۔ ہر سال دنیا میں دو کروڑ افراد فاقہ کشی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اور ان میں اکثریت معصوم بچوں کی ہوتی ہے، 70 کروڑ 80 لاکھ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ دنیا میں 80 ہزار سے زیادہ ایٹم بم موجود ہیں اور ہر ایک کی ہلاکت خیزی ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹم بموں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اسلحہ کے انبار اور بموں کے عظیم الشان ذخائر ہی انسانوں کو لرزہ براندام کرنے کے لیے کیا کم تھے کہ انسانی ہوس میں مزید ستم یہ ڈھایا ہے کہ سرمائے کے ارتکاز سے غربت کی کھائی دن بہ دن گہری ہوتی جا رہی ہے، اسلحے کا کھلے عام استعمال ہونا، لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔امریکا ساری دنیا کی معیشت پر قبضہ کر کے اور دنیا بھر کے انسانوں پر اپنی ترقی کی دہشت طاری کر کے انھیں اپنا ذہنی، فکری، علمی اور معاشرتی غلام بنا رہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ’’بنیاد پرستی‘‘ کو ہدف بنا کر پیش کیا گیا ہے۔دور حاضر کی اکثر جنگی مہمات امریکا کے زیر سایہ ہو رہی ہیں اور امریکا ہی ان کو سپورٹ کر رہا ہے، افغانستان اور عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔اس با ت سے کو ئی انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا میں دہشت گر دی کا مو ذی مر ض نا ئن الیون کے بعد پھلنا شروع ہوا۔بیروزگاری اور غربت کی کیچڑ میں ذہنی، جسمانی اور روحانی بیماریاں پروان چڑھتی ہیں، اسلحے کی بھرمار نے لوگوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ لوگ کیڑے، مکوڑوں کی طرح مر رہے ہیں، کم عمر بچے کمانے پر مجبور ہیں۔

آ ج دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ عالمی مسئلہ ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں درکار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے اسلحہ ڈیلر دنیا بھر میں پھیلے دہشت گرد گروپوں اور دیگر جرائم پیشہ گروہوں کو ہتھیار فراہم کر کے دولت کما رہے ہیں۔ احساس جرم و گناہ انسان کو ایسے مہیب رستوں پر لے جاتا ہے جہاں جانے والے لوگوں کے لیے واپسی کا راستہ تلاش کرنا عموماً ممکن نہیں ہوتا، لہٰذا مشرق و مغرب کے دانش مند افراد اگر انسانیت کی بقا کے لیے واقعتاً مخلص ہیں تو سب سے پہلے غربت و افلاس کے خاتمے کے لیے عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔ جنگی آلات، اسلحہ، ایٹم بم، ڈرون حملوں کی بندش ہوگی تو دنیا سے بھوک اور افلاس کم ہوسکتی ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی بھی ملک ہو دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے خلوص نیت سے عالمی سطح پر کوششیں درکار ہیں۔ایک انسان کا خون پو ری انسانیت کا خون ہے اور یہ بات طے ہے دہشت گر دی کہ اس طر ح کے واقعات میں ملوث لوگ نا تو انسان ہیں اور نا ہی ان کو کو ئی مذہب ہو تا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز

(تحریر: امیر مسروری) یمن کی مسلح افواج نے اس سال کے آغاز پر اسے "ڈرون …