پیر , 10 مئی 2021

امریکا: سفید فام انتہا پسند کو زہریلا انجکشن لگانے کی تیاری مکمل

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کی ریاست ٹیکساس میں سیاہ فام شخص کو بدترین طریقے سے قتل کے جرم میں سفید فام انتہا پسند کو سزائے موت کے تحت زہریلا انجکشن لگانے کی تیاری مکمل کرلی گئی۔44 سالہ سفید فام انتہا پسند جان ولیم کنگ نے اپنے تین دوستوں کے ہمراہ جون 1998 میں سیاہ فام شخص جیمز براڈ جونیئر کو گاڑی کی ڈگی سے باندھ کر کئی کلومیٹر گھسیٹا تھا جس کے نتیجے میں جیمز براڈ کی موت ہوگئی تھی۔

خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق جان ولیم کنگ کے ساتھی لارنس بریوبر کو 2011 میں سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ تیسرے ساتھی شوائن بیری کو تحقیقات میں تعاون پر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔سفید فام انتہا پسند شوائن بیری نے اپنے بیان میں اقرار کیا تھا کہ ’ہم تینوں دوست شراب کے نشے میں دھت اپنی گاڑی پر سوار تھے اور اسی دوران ایک سیاہ فام شخص نے لفٹ مانگی‘۔

شوائن بیری نے اقرار کیا کہ ’ہم 49 سالہ جیمز براڈ جونیئر کو شہر کے مضافات میں لے گئے اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر چین سے اس کے پاؤں جکڑ کر گاڑی کی ڈگی سے باندھ کر گاڑی کئی کلومیٹر چلائی‘۔اس حوالے سے پیتھالوجسٹ نے بیان دیا کہ ’جیمز براڈ تقریباً 2 میل کی مسافت تک گھسیٹتے رہنے کے باوجود زندہ تھے لیکن پھر ایک کنکریٹ کے بنے نالے کے پائپ سے ٹکرانے کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے‘۔

بعدازاں تینوں سفید فام انتہا پسندوں نے جیمز براڈ لاش کو جیسپر ٹاؤن کے چرچ کے سامنے پھینک دی۔عدالت میں موجود سفید فام انتہا پسند جان ولیم کنگ کے جسم پرمختلف ٹیٹوز میں ایک ٹیٹو ایسا بھی تھا جس میں سیاہ فام شخص کو پھانسی کے پھندے میں جکڑا ہوا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ٹیکساس میں 1970 میں ایک سفید فام کو سیاہ فام کے قتل پر سزائے موت ہوئی تھی۔

دوسری جانب جیمز براڈ کی تینوں بہنوں نے ولیم کنگ کی موت کی تقریب میں شرکت کا فیصلہ کیا۔جیمز براڈ کی بہن لیون ہارز نے دی نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیا کہ ’جان ولیم کنگ کو یہ درد نہیں ہوگا جو اس نے میرے بھائی کو دیا، مجرم کو جکڑا اور نہ ہی کنکریٹ پر گھسیٹا جائے گا‘۔ان کا کہنا تھا کہ’مجھے سفید فام انتہا پسند جان لیم کنگ پر معمولی سا بھی رحم نہیں‘۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …