بدھ , 12 مئی 2021

ملک لوٹنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا، عمران خان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے حکومت گرانے کا کہنے والوں کا ایک مقصد ہے کہ عمران خان سے این آر او لے لو تاکہ ان کی چوری اور کرپشن کو معاف کردیا جائے لیکن میں واضح کردوں کوئی این آر او نہیں ملے گا اور جب تک میں زندہ ہوں ملک لوٹنے والوں کو معاف نہیں کروں گا۔جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 10 برس میں ملک کو 2 جماعتوں نے قرضوں کی دلدل میں ڈبویا، یہاں سے پیسہ لوٹ کر باہر لے کر گئے، ان دونوں جماعتوں کے سربراہوں نے پیسہ چوری کرکے منی لانڈرنگ کی۔

اپنی تنقید جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ 10 برس میں ان دونوں جماعتوں نے قوم پر 24 ہزار ارب روپے کا قرض چڑھایا جبکہ عوام سوال کرتے ہیں کہ یہ پیسہ کہاں گیا، اس لیے یہ سب جو جمہوریت بچانے کے نام پر جمع ہوئے ہیں، کہتے ہیں حکومت گرادیں گے، حکومت صحیح کام نہیں کر رہی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان سب کا ایک مقصد ہے کہ عمران خان پر زور لگا کر این آر او لے لیں تاکہ ان کی کرپشن اور چوری کو معاف کردیا جائے لیکن میں آصف زرداری، بلاول بھٹو، شریف خاندان اور احتساب سے ڈرے سب لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ میری زندگی مقابلوں میں گزری ہے، 21 سال کھیلوں کے گراؤنڈ میں مقابلہ کیا، 22 سال سیاست کے میدانوں میں مقابلہ کیا، میں یہاں بہت بڑی جدوجہد سے پہنچا ہوں کیونکہ میرا سیاست میں آنے کا مقصد ہی ان لوگوں کو شکست دینا تھا جو اقتدار میں آکر لوگوں کا پیسہ چوری کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان لوگوں کو شکست دیے بغیر ہمارے ملک کا کوئی مستقبل نہیں، میں ملک میں نہ فیکٹریاں بنانے آیا تھا نہ محلات، میں تو صرف ان کا احتساب کرنے آیا تھا اور جب تک میں زندہ ہوں ملک کو لوٹنے والوں کو معاف نہیں کروں گا نہ ہی کوئی این آر او دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ان لوگوں کا پیسہ واپس لے کر نہیں آؤں گا میری جدوجہد جاری رہے گی، جب کوئی جدوجہد کرکے آتا تو اسے طاقت مل جاتی ہے اس میں خوف نہیں ہوتا، میں بلاول بھٹو کی طرح پرچی پر نہیں آیا تھا کہ والدہ نے جائیداد میں جماعت دے دی ہے۔

اپنے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مطمئن ہوجائیں میں ان کا اکٹھا مقابلہ کروں گا اور سیاست کے بارہویں کھلاڑی مولانا فضل الرحمٰن کو کشمیر کمیٹی اور ڈیزل کا پرمٹ دے دیں تو وہ ساتھ آجائیں گے جبکہ باقی سب کا مسئلہ این آر او ہے۔

انہوں نے کہا کہ 30 برس قبل میں پہلی مرتبہ وانا آیا اور یہاں آنے سے قبل مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا میں کیا فرق ہے، آج بھی بہت سے سیاست دانوں کو ایسا ہی لگتا ہے جبکہ اکثریت کو اب بھی دونوں میں موجود فرق کا علم ہی نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں قبائلی علاقوں کو پوری طرح سمجھتا ہوں، اس وزیرستان میں انگریزوں کے سب سے زیادہ فوجی مرے تھے اور 1947 تک اس علاقے کی آزادی کے لیے جہاد کیا گیا اور انگریز فوجی مرتے گئے، ان علاقوں سے بڑے بڑے مجاہد نکلے جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مسلمانوں پر جب ظلم ہوا تو قبائلی علاقوں سے لوگ وہاں لڑنے اور جہاد کرنے گئے، 1965 میں بھی یہاں کے عوام کے لشکر پاکستانی فوج کے ساتھ لڑنے گئے جبکہ 11 ستمبر 2001 کے بعد جب امریکی فوجیں افغانستان آئیں اور انہوں نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ فوج قبائلی علاقوں میں بھیجی جائیں، میں نے اس کی مخالفت کی لیکن میری بات نہیں مانی گئی۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ میں یہاں یقین دلانے آیا ہوں کہ پاکستان کا ایک ایسا وزیر اعظم آیا ہے جو آپ کے دکھ و درد کو سمجھتا ہے، جو نیا پاکستان ہے اسے مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کرنا ہے اور اسے ایک عظیم ملک و قوم بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست عدل و انصاف پر کھڑی ہوتی ہے، وزیرستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ تب کھڑے ہوں گے جب ان کے ساتھ انصاف ہوں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ میرے ہوتے ہوئے میں آپ کو پورا انصاف دلاؤں گا۔

قبائلی علاقوں کے لیے مختص کیے گئے فنڈز پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ این ایف سی میں تمام صوبے قبائلی علاقوں کے لیے 3 فیصد حصہ دیں گے جو ایک سو ارب روپے سالانہ ہیں، یعنی 10 برس میں ایک ہزار ارب روپے خرچ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے سب سے زیادہ تعلیم کو فروغ دینا ہے، ساتھ ہی کھیلوں کے مواقع فراہم کرنے ہیں تاکہ یہاں کے لوگ بھی اوپر آسکیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں جیسے جیسے پیسہ آئے گا ان علاقوں میں زیادہ خرچ کیا جائے گا لیکن خیبرپختونخوا میں ضم ہونے پر قبائلی عوام کو 2 مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم ہم ان علاقوں کو دیکھتے ہوئے نیا نظام لارہے ہیں۔

قبائلی عوام کے لیے وہ کروں گا جو کسی نے نہیں کیا
اس سے قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے سپین کئی راغزئی میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ قبائلی عوام کے لیے وہ کروں گا جو کسی نے نہیں کیا، ملک چلانے کے لیے پیسے کم ہیں لیکن عوام کو فکر نہیں کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں کی تاریخ جانتا ہوں، میں نے ان علاقوں میں امریکا کے کہنے پر فوج بھیجنے کی مخالفت کی کیونکہ اس علاقے کے عوام ہی ہماری فوج تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے لیے جنہوں ںے قربانیاں دیں انہیں میں جانتا ہوں، میں یہاں کے لوگوں کے مسئلے سمجھتا ہوں، قبائلی علاقے جب مکمل ضم ہوجائیں گے تو یہاں کے مسائل کیا ہوں گے یہ مجھے معلوم ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کے لیے میں وہ کروں گا جو کسی نے نہ پہلے کبھی کیا اور نہ کرسکتا ہے، ہم نے ان علاقوں کے لیے ہر سال 100 ارب روپے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا، 70 برس میں یہاں اتنا پیسہ خرچ نہیں ہوا جو ہر سال ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہاں غربت اور بیروزگاری سب سے زیادہ اور تعلیم سب سے کم ہے، لوگ کمانے کے لیے یہاں سے باہر جاتے ہیں، کراچی میں سب سے زیادہ محسود قبائل کے لوگ موجود ہیں، نظریاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ قبائلی علاقوں کو پیچھے چھوڑا گیا اور ملک جب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک پورے ملک کو ساتھ نہ لے کر چلا جائے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر پاکستان بننا چاہیے تھا، اس ریاست کا سب سے بڑا اصول عدل و انصاف تھا، اللہ کا حکم ہے کہ میری زمین پر اںصاف قائم کرو اور مدینہ کی ریاست نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم پر بنائی تھی۔اپنے خطاب کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ جس ریاست میں عدل و انصاف ہوتا ہے اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

قبائلی علاقوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب 100 ارب روپے یہاں خرچ ہوگا تو یہاں وہ تبدیلی آئے گی جو ضروری ہے، پاکستان میں 70 برس میں امیر، امیر اور غریب مزید غریب ہوگیا لیکن ہم نے اسے تبدیل کرنا ہے کیونکہ یہ میرا نظریہ ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج نے قربانیاں دی ہیں جبکہ یہاں کے لوگوں نے نقل مکانی کی جو سب سے زیادہ تکلیف دہ تھی، تاہم ہم نے ان تکالیف کو دور کرنا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ یہاں صحت انصاف کارڈ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کے عوام کے لیے صحت کیلئے کارڈ، ہسپتالوں میں سرجن، نوجوانوں کو روزگار کے لیے قرضہ دیں گے، یہاں ہونے والی تباہی کا ازالہ کریں گے، وزیرستان میں 100 کلو میٹر کی سڑکیں بنائیں گے، وانا میں 2 ڈگری کالج ہوںگے، ساتھ ہی اسپورٹس کمپلیکس اور گرڈ اسٹیشن بھی بنائے جائیں گے جبکہ کچھ مقامات پر سورج سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بھی لگائیں گے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں پانی کا بہت مسئلہ ہے،اس کے لیے بھی ہم کام کریں گے، تاہم ان سب چیزوں کے لیے مجھ پر ایک اعتماد رکھنا ہے تھوڑا سا صبر کرنا پڑے گا۔

ملکی قرضوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کو ڈاکوؤں نے لوٹا اور قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب روپے کردیا، 10 برس میں پاکستان کا قرضہ 3 گناہ زیادہ ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے ملک کا جمع ہونے والے کل ٹیکس میں سے ملک چلانے کے لیے پیسے کم ہیں لیکن عوام کو فکر نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرستان بڑا امیر علاقہ ہے، یہاں تانبے کے ذخیرے ہیں، یہ ملک بڑا امیر ہے اسے اٹھا لیں گے، پیسہ آرہا ہے لیکن تھوڑا صبر کرنا پڑے گا اور فنڈز کے آںے کے ساتھ ہی یہاں تبدیلی آنا شروع ہوجائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …