ہفتہ , 8 مئی 2021

عمران خان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے، خورشید شاہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان نے ایران میں پاکستانی سرزمین استعمال ہونے سے متعلق جوبیان دیاہے اس پر آرٹیکل 6لگنا چاہیے ۔اپنے ملک کے حوالے سے اس طرح کی بات کوئی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔وزیراعظم ایران جاکر کہہ کر آئے ہیں کہ دہشتگردی میں پاکستان کی زمین استعمال ہوئی۔ایسے وزیراعظم پر تو آرٹیکل 6 لگنا چاہئے۔ خان نے سیارے پر بیٹھ کر دیکھا تھا وہاں سے جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملتی نظر آئی تھیں۔اسد عمر کی تقریر پر بھی خورشید شاہ نے ایوان میں جواب دیا ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ کو معلوم تھا کہ جواب ملے گا اس لیے وہ ایوان سے چلے گئے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ الزام اور تہمتیں لگانا آسان ہوتا ہے۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کو نااہل اور نالائق قرار دے کر نکال دیا ۔ اس حکومت کی نااہلی کی وجہ سے لوگوں کی چیخیں نکلی ہیں۔ کسی حکومت نے عوام کی چیخیں نکالنے کی بات نہیں کی لیکن اس حکومت نے لوگوں کی چیخیں نکالنے کا اعلان کیا۔خورشید شاہ نے کہا یہ پہلی بار ہوا کہ اپوزیشن نے معیشت بچانے کیلئے تعاون کی بات کی۔ پیپلزپارٹی کے دور میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے۔دنیا بھر میں معیشت سست رفتاری کا شکار تھی۔

دہشت گردی عروج پر تھی،اس وقت ہم نے اس ملک کو سنبھالا۔ پاکستان کی تاریخ میں 2008 سے دوہزار تیرہ تک لوگوں نے سکون کا سانس لیا تھا۔خورشید شاہ نے کہا کہ پی پی پی دور کا تحریک انصاف سے کیا مقابلہ “کہاں راجہ بھوج کہاں گنگو تیلی”۔موجودہ حکومت کو تو ایسی حکومت ملی ہے کہ کوئی مسائل ہی نہیں،ہم تو نااہل تھے ناں، لیکن مزدور ملازم اور کسان و بزرگ سب خوش تھے۔

انہوں نے کہا اس حکومت نے قیمتیں بڑھانے کے علاوہ کون سا کارنامہ کیا ہے؟ہمارے دور میں پیٹرولیم پر لیوی دس روپے تھی جسے دو روپے کم کردیا گیا تھا، موجودہ حکومت میں فی لیٹر پر لیوی اٹھارہ روپے وصول کی جارہی ہے۔اسد عمر ہم پر نہیں حفیظ شیخ پر ناراض ہیں کہ پیپلز پارٹی کو لے آئے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہماری کارکردگی خراب تھی لیکن وزیر خزانہ ہمارا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سوات سے پاکستان کا جھنڈا اتارنے کی کوشش کی لیکن پیپلز پارٹی نے پاکستان کا پرچم سوات پر لہرایا۔تیس لاکھ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو دوبارہ سوات میں آباد کیا۔سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہاہے کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں 4وزرائے خزانہ تبدیل کیے گئے ۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ بلاول بھٹو نے اردو میں جذبے سے اچھی تقریر کی ،مجھے انکی انگریزی پر بھی اعتراض نہیں تھا۔مجھے ان کی بات سے اختلاف تھا۔ ان کی بات کو بنیاد بنا کر بھارت نے پروپیگنڈہ کیا۔

اسد عمر نے کہا میں نے بھی اسی خدشے کا اظہار کیا تھا۔لوگوں کو ملکی ترقی کی رفتار سست ہونے پر خدشہ ہے۔ادائیگیوں کےعدم توازن کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پہلے سال میں ترقی کی رفتار صفر اعشاریہ چار فیصد تھی۔

انہوں نے کہا پیپلز پارٹی کے پانچ سال میں ترقی کی اوسط رفتار 2 اعشاریہ سات فیصد تھی۔ پاکستان میں کسی بھی حکومت میں ترقی کی رفتار اتنی کم نہیں رہی۔ دوسرا بڑا مسئلہ اس وقت مہنگائی ہے۔ ہمارے 8 ماہ میں مہنگائی کی شرح 6 اعشاریہ 5 فیصد تھی۔پی پی کے پانچ سالوں میں اوسط مہنگائی 12 فیصد سے زائد رہی۔ ہمارا یعنی تحریک انصاف کی حکومت کا بجٹ خسارہ بھی پی پی دور سے بہت کم ہے۔

اسد عمر نے کہا بجٹ کا اوسط خسارہ پانچ سال میں پیپلز پارٹی کا 7 فیصد رہا، ایف بی آر کے اہداف میں سالانہ 8 فیصد کمی رہی۔ قرضوں میں دوگنا اضافہ ہوا، 135 فیصد اضافہ پی پی دور میں ہوا۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں چار سورما وزراء خزانہ تبدیل ہوئے، ہم ناکام تو کیا بلاول صاحب آپ ناکام ترین تھے؟؟

ہمیں سخت فیصلے کرنے ہیں، اسد عمر
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آج اس لئے ہمیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ ملکی خزانے کو لوٹنے والوں کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔جب آپ کے بیرون ملک اپارٹمنٹس اور سوئس اکاونٹس خطرے میں ہوں، جب فالودے والے پکڑے جائیں تو پریشانی ہوتی ہے۔اگر عوام کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں تو پھر مافیا کے سامنے کھڑے ہوکر بتانا ہوگا کہ ہم ایٹمی ملک ہیں۔

ہمیں عوام کے ساتھ سچ بولنے کی ضرورت ہے، ہمیں سخت فیصلے کرنے ہیں اور اسی وقت ہم کامیاب ہونگے۔عوام کو درست معلومات فراہم کرینگے تو وہ مشکل واقعات میں ساتھ دینگے۔ ہر دل کی آواز، آپ کے اور میرے دل کی آواز پاکستان ہے اور پاکستان زندہ باد ہے۔

یاد رہے دو روز قبل قومی اسمبلی اجلاس میں چیرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسد عمر اور دیگر وزرا کے استعفوں کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ن لیگی رکن رانا تنویر کو مائیک نہ دینے اور اسکی جگہ پر علی زیدی کو مائیک پر دینے پر اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس سے بائیکاٹ کردیا۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی صبج 11 بجے تک ملتوی کردیا۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …