جمعرات , 20 جون 2019

افغانستان: طالبان اور داعش میں ‘قبضے کی جنگ’ کا ایک بار پھر آغاز

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے مشرقی حصوں میں زمینی قبضے کے لیے طالبان اور داعش کے حمایت یافتہ جنگجوؤں میں ایک مرتبہ پھر شدید لڑائی کا آغاز ہوگیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں افغان حکوم کے حوالے سے بتایا گیا کہ ملک کے مشرقی صوبے ننگر ہار کے 2 اضلاع میں 2 روز قبل شدید لڑائی کا آغاز اس وقت ہوا جب داعش نے طالبان کے زیر انتظام دیہاتوں پر حملہ کیا۔

ننگر ہار کی صوبائی کونسل کے رکن سہراب قادری نے بتایا کہ ‘داعش کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے خوگیانی کے 6 دیہاتوں اور ضلع شیر زاد پر قبضہ کرلیا لیکن شدید لڑائی جاری ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے سے تقریبا 500 خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی تفصیلات حاصل نہیں ہوسکیں۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان، جن کے پاس ملک کے بیشتر علاقوں کے انتظامات ہیں، فوری طور پر اس معاملے پر رد عمل کے لیے دستیاب نہ ہوسکے۔یاد رہے کہ 2014 میں افغانستان کے مشرقی علاقوں میں پہلی مرتبہ داعش کے حمایت یافتہ جنگجوؤں نے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے نہ صرف طالبان بلکہ غیر ملکی اور مقامی افواج کی حدود کو چیلنج کیا تھا۔

افغانستان میں موجود داعش کے حمایت یافتہ جنگجو، جو خود کو داعش خراسان کہلواتے ہیں، یہ افغانستان کا قدیم نام ہے، ان کی جانب سے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی مداخلت کی رپورٹس آتی رہی ہیں۔

علاوہ ازیں داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے ملک میں ہونے والے ایسے دھماکوں اور حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے جس میں جانی اور مالی نقصان سامنے آیا۔یاد رہے کہ ننگر ہار کا علاقہ پاکستان کی سرحد سے منسلک ہے اور یہاں داعش خراسان کا کنٹرول ہے جبکہ خوگیانی اور شیرزاد کے اضلاع کے چند دیہات طالبان کے پاس ہیں۔

متاثرہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنی جان بچا کر علاقے سے نکلے ہیں۔نقل مکانی کرنے والے سخاوت نامی افغان شہری نے بتایا کہ ‘میں صرف اپنے خاندان کو محفوظ بنا سکتا تھا، ہمیں سب کچھ چھوڑ کر نکلنا پڑا’۔

صوبائی گورنر کے ترجمان عطال اللہ خوگیانی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی خوراک اور ادویات کا انتطام کررہی ہے۔گزشتہ سال اگست میں ملک کے شمال مغربی صوبے جاوزان میں طالبان کے ہاتھوں شکست کے بعد داعش کے 150 سے زائد جنگجوؤں نے افغان حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔

امریکی افواج نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان میں داعش کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کی تعداد 2 ہزار کے قریب ہے، جن میں سے بیشتر طالبان کے سابق اراکین ہیں۔داعش کی ابتدا مشرق وسطیٰ کے علاقے عراق سے ہوئی تھی بعد ازاں یہ تنظیم شام میں بھی قدم جمانے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن مغرب کی اتحادی افواج نے انہیں شکست سے دوچار کرکے دونوں علاقوں سے بے دخل کردیا۔

یہ بھی دیکھیں

’2018 میں جنگ کے باعث 7 کروڑ 80 لاکھ افراد بے گھر ہوئے‘اقوام متحدہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کے مطابق گذشہ برس جنگ، تنازعات اور مصائب کے باعث 7 …