پیر , 20 مئی 2019

بھارتی الیکشن اور مسلمان

(نغمہ حبیب) 

بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں جو کئی مرحلوں پر مشتمل ہیں ، انہی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مودی پاکستان سے جنگ تک پہنچ گیا تھا ۔ جنگ تو پاکستان کے تحمل، سمجھدااری اور جنگی مہارت و صلا حیت کی وجہ سے رُک گئی ہاں بھارتی سازشیں نہ رُکیں۔ پاکستان تو خیر اُن سازشوں کا نکتہ ارتکاز ہے ہی لیکن بھارت کے اندر بسنے والے مسلمان بھی اُس کی سازشوں سے محفوظ نہیں ۔کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانیت کی کسی تعریف کے مطابق بھی انسانی اقدار کے مطابق نہیںوہاں تو ہر بچہ بوڑھا بھارتی بندوق کے نشانے پر ہے لیکن بھارت میں مسلمان کہیں پربھی محفوظ نہیں، گائے کے بدلے ان کی جان لے لی جاتی ہے، ان کے گھر جلا دیے جاتے ہیں، املاک تباہ کر دی جاتی ہیں،اُن کی مساجد ڈھادی جاتی ہیں، اُن کے تاریخی مقامات مسمار کر دیے جاتے ہیں،ان کے دینی معاملات میں مداخلت کی جاتی ہیں، انہیں بھارت میں پاکستانی کہہ کر تضحیک کی جاتی ہے ، انہیں پاکستان جانے کو کہا جاتا ہے یہ عام لوگوں کا رویہ بھی ہے اور شدت پسند تنظیمیں تو کام ہی اسی بات پر کرتی ہیں کہ ہندوستان ہندوؤںکا ہے کسی دوسرے مذہب والوں کا نہیں۔یہاں مسلم کش فسادات ہو نا کوئی بڑی بات نہیں اور آزادی کے بعد تو ان فسادات کی لمبی لائن لگی ہوئی ہے۔بھارت کا کوئی صوبہ ایسا نہیں جہاں ایک معقول تعداد میں مسلمان موجود نہ ہوں اور ہر جگہ انہیں ریاست کے زیر سایہ پلنے والی ہندو شدت پسندی کا سامنانہ ہواور جہاں اِن کی تعداد کم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔مسلمان آبادی کے لحاظ سے انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد بھارت کا تیسرا نمبر ہے صرف اُتر پر دیش میں پاکستان، انڈونیشیا، ایران، ترکی اور بنگلہ دیش کے علاوہ کسی بھی مسلمان ملک سے زیادہ مسلمان بستے ہیں اور یہ ان پانچ کروڑ مسلمانوں کا آبائی علاقہ ہے۔کشمیر میں بھارت نے ہندوؤں کی نئی آبادیاں بسائیں تاکہ مسلم اکثریت کو کم کیا جا سکے اس نے جموں میں اس منصوبے پر بڑے پیمانے پر کام کیا، آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی یہ اور بات ہے کہ اس کے اِن اقدامات نے کشمیر کے اصل باشندوںیعنی مسلمانوں کو مزید مشتعل کیا۔اُس کے شدت پسند لیڈر ہر جگہ کھلم کھلا اس خواہش کا اعلان کرتے رہتے ہیں کہ بھارت میں کسی اور مذہب کی جگہ نہیں۔

اس وقت بھارت میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی کے تناسب کی ریاست آسام ہے جہاں چونتیس فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان ہے اور اِن کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے لیکن یہ لوگ مسلسل ہندو شرپسندی کی زد میں رہتے ہیں۔حالیہ الیکشن سے پہلے آسام میںمسلمان آبادی کو گھٹا کر دکھانے کی خاطر بنائے گئے این آرسی یعنی نیشنل رجسٹر آف سیٹزن کا از سر نو جائزہ لیا جانے لگا ہے جس کا مقصد بنگال سے آنے والے مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر ان سے ووٹ کا حق لے لینا ہے۔اگریہ بنگالی یعنی موجودہ بنگلہ دیش سے آئے ہوئے مسلمان غیر ملکی ہیں تو وہاں سے آنے والے ہندوؤںکو بھی غیر ملکی قرار دیا جانا چاہیے لیکن 2014 کے انتخابات سے پہلے مودی نے یہ اعلان کیا تھا کہ ان ہندوؤں کو جلد از جلد کیمپوں سے نکال کرعام شہری کی حیثیت دی جائے گی، مو دی نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے دروازے دنیاکے تما م ہندوؤں کے لئے کھلے ہیں اور بھارت انہی کا ہے یعنی وہی شدت پسندی اور اپنے غیر ہندو باشندوں کو مساوی حقوق نہ دینا لیکن کہنے کو بھارت پھر بھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ در اصل یہ این آر سی بنایا ہی آسام میںمسلمان آبادی کے تناسب کو کم کرکے دکھانے کے لیے تھا۔ آسام بھارت کی وہ ریاست ہے جس میںبہت بڑی تعداد میں آبادکار آئے، ان میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے اور اس آبادکاری کی وجہ یہاں قابل کاشت اور زرخیز زمین کا ہونا تھا لیکن اسے مذہب سے جوڑ کر مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ایک قانون بنایا گیا۔

1951 میں بنائے گئے اس اندراجی رجسٹر میں سے مسلمان اکثریت کو اس لیے نشانہ بنایا جا رہاہے کہ آسام میں الیکشن پر اثر انداز ہوا جاسکے بلکہ آسام کے گورنر جگدیش مکھی نے اس قانون کو بھارت کی دیگر ریاستوں میں بھی لاگو کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ یہاں بھی یہ رجسٹر بنایا جائے لیکن یہاں اہم نکتہ تو یہ ہے کہ اگر آسام میں غیرآسامی یا بنگلہ دیشی مسلمان آباد ہوئے تو اتر پردیش جیسے صوبے میں مسئلہ کیا ہے جہاں کے رہنے والے مسلمان صدیوں پرانے مسلمان آ باؤاجداد کی اولاد ہیں۔ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یہاں موجود چالیس لاکھ بنگالی مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر ان سے ووٹ کا حق چھیننے کی کوشش کی گئی اس الیکشن میں اگرچہ انہیں ووٹ دینے کی اجازت دے دی گئی ہے تاہم آسام کے باشندوں کا کہنا ہے کہ این آر سی کو خاص کر مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا ہی اصل مقصد ہے اور یہی دراصل سیکولر بھارت ہے جو خود کوپوری دنیا میں جمہوریت کا سب سے بڑا دعوے دار کہتا ہے اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی بھارت کے زیراثر اس طرح کے مسائل کو منظرعام پر لانے سے کتراتی ہیں یا انہیں نظر انداز کر دیتی ہیں لیکن خود بھارت میں سے اس مسئلے کو کچھ لوگ انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں کہ اگر یہ مسلمان باشندے جو ایک صدی یا کم ازکم نصف صدی سے یہاں رہ رہے ہیں انہیں آخر کس ملک کا شہری قراردیا جائے گا یا یہ لوگ روئے زمین پر کسی ملک کے شہری نہیںہیں۔یہ ہے وہ ہندو ریاست جو بھارت میں قائم ہے اور جہاں غیر ہندو کے حقوق مسلسل چھینے جا رہے ہیں خاص کر مسلمان باشندے چاہے کشمیر میں ہوں آسام میں ہوں یا اترپردیش میں ہو یا کسی اور بھارتی ریاست میں جن مسائل اور مظالم کا شکار رہیںانہیں ضرور دنیا کے سامنے آنا اور لانا چاہیے تاکہ اسے معلوم ہوسکے کہ دہشت گرد کون ہے اور جنوبی ایشیا میں شدت پسندی اور دہشت گردی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

یمن جنگ کے نئے باب کا آغاز

(تحریر: امیر مسروری) یمن کی مسلح افواج نے اس سال کے آغاز پر اسے "ڈرون …