اتوار , 19 مئی 2019

نئے پاکستان کو ایران جیسے انقلاب کی تلاش

(تحریر: ٹی ایچ بلوچ)

انقلاب اسلامی ایران ایک سچائی اور حقیقت ہے، روزنامہ جنگ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کی تکمیل پہ وہاں ہونیوالی گفتگو، مذاکرات اور بیانات میں سے چن کر جو سرخی لگائی ہے، وہ اس حقیقت کو برملا کر رہی ہے کہ اس زمانے کی زندہ حقیقت امام خمینی نے جو اسلامی انقلاب برپا کیا، وہ ظالموں اور ستم گروں کی ریشہ دوانیوں کے باوجود آج بھی مسضعفین جہان کیلئے امید کی کرن ہے۔ عمران خان کے ان الفاظ کا سیاق سباق بھی یہی ہے کہ جب وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ پاکستان میں امیر اور غریب کی تفریق نے زندگی اجیرن بنا دی ہے تو انہیں اسلامی جمہوری ایران میں جا کر یہ احساس ہوا کہ وہاں موجود نظام اس چیز کو یقینی بناتا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ یہ نظام ہم پاکستان میں رائج کرسکیں۔

امام علی ابن موسیٰ رضا علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری سے لیکر ایرانی صدر، رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات اور امام خمینی کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد تک، عمران خان نے جہاں جہاں گفتگو کی ہے، اسکا زیادہ تر حصہ رائج سرکاری زبان سے زیادہ سادگی سے ہونے والی باتوں پر مشتمل ہے۔ تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی معاشرے میں مساوات ہے اور یہ سب انقلاب کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نئے پاکستان میں بھی ایسا انقلاب لانا چاہتے ہیں، جس میں غریب اور امیر کے مابین تفریق ختم ہو جائے۔ وہ مسلسل یہ کہہ رہے ہیں، ریاست مدینہ اور علامہ اقبال کے افکار کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہونیوالے بات چیت میں دوطرفہ تعلقات، تجارت اور سب سے زیادہ اہمیت کا حامل مسئلہ دونوں اطراف میں ہونیوالی دہشت گردی تھا۔ دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس قائم کرنے اور مشترکہ سرحد کی حفاظت پر بھی اتفاق کیا ہے، دونوں اطراف نے دونوں ممالک کے مابین اشیاء کے تبادلے کے لئے بارٹر کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہاں یہ ذکر کرنا برمحل ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کیلئے ہی پہلے فرقہ واریت، تکفیریت، شدت پسندی، انتہاء پسندی اور پھر دہشت گردی کو پروان چڑھایا گیا۔ جسکا مقصد انقلاب اسلامی کے اثرات کو دوسرے ملکوں میں منتقل ہونے سے روکنا تھا۔

بانی انقلاب اسلامی، امام راحل نے امریکی پٹھو پہلوی شاہی تخت و تاج کو جب زمین بوس کیا تو پوری دنیا کی استعماری اور فرعونی طاقتیں بوکھلا اٹھیں۔ صدام انکا پیادہ بنا اور صدور انقلاب کو روکنے اور امام خمینی کے حسینیؑ پیغام کو سرحدوں میں محدود کرنے کی مذموم کوششوں کا آغاز ہوا۔ انقلاب اسلامی کے پیغام کو زہریلے پروپگنڈے، ناروا تہمتوں اور بے جا الزامات کے ذریعے دنیا اور بالخصوص مسلم ممالک میں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ شاہ کے دور حکومت میں ایران امریکہ کی آنکھ کا تارا اور اسرائیل کا خدمت گزار تھا۔ لیکن امام خمینی نے ایران کو اسلامی شناخت عطا کی، جس نور کی روشنی نے پوری دنیا میں باطل کے بھیانک چہرے کو آشکار کیا، مظلوموں کی ڈھارس بندھی، پاکستان سمیت پوری دنیا میں یہ دعائیں کی جانے لگیں کہ اللہ ہمیں خمینی جیسا لیڈر عظا فرمائے۔

ایرانی بارڈر پر ہونیوالی حالیہ شورشیں، عرب ملوک کی طرف سے اسرائیلی اشاروں پر انقلاب اسلامی کیخلاف اقدامات نئے نہیں، نہ ہی یہ کسی پڑوسی ملکوں کیساتھ سڑکوں اور بندرگاہوں کی بنیاد پر کھڑے کیے گئے تنازعات اور ایران کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ہیں، انکی تاریخ فقط انگریزوں کی نوکری کے بدلے خلافت عثمانیہ کے خاتمے میں کردار ادا کرنیوالے شاہی خاندانوں اور استعمار کے زرخرید حکمرانوں کو ذہنوں میں پنپنے والے یہ خدشات تھے کہ جس طرح ایرانی مسلمانوں نے دینی قیادت کا ساتھ دیکر ستم گر شاہی حکومت سے چھٹکارا حاصل کیا اور دنیا میں ناقابل تسخیر سمجھے جانیوالی غاصب صہیونی اسرائیلی ریاست کا غرور خاک میں ملایا ہے، اس کے اثرات خطے میں دوسرے امریکی نوکروں کے زوال کا سبب بنیں گے۔

یہ بات تو عیاں ہے کہ شاہی ملوک اور نام نہاد مسلمان حکمرانوں کا اقتدار حرص و ہوس اور لالچ و مفاد پرستی پہ مبنی اصولوں پہ قائم ہے، انہیں نہ تو اپنے ملکوں کی عوام کے دکھ درد اور مشکلات و پریشانیوں کی کوئی فکر ہے نہ دنیا میں مسلمانوں کی زوال پذیر زندگی سے کوئی غرض۔ وہ اپنی ہی زمینیوں پر اپنے ہی لوگوں پر جائز و ناجائز طریقوں سے اقتدار قائم رکھنے کیلئے عالمی طاقتوں کی غلامی میں مصروف ہیں۔ آج بھی یہ عیاش حکمران صرف انقلاب اسلامی اور فکر امام خمینی کی بدولت امت مسلمہ کی بیداری سے خائف ہیں، لیکن اللہ کے نور کو بجھانا اور اسکی روشنی کو روکنا انکے بس میں نہیں۔

عرب ملوک کے انتہائی قریب سمجھے جانیوالے پاکستانی وزیراعظم کی طرف اس حقیقت کا اعتراف کہ انقلاب اسلامی کی بدولت قائم ہونیوالا نظام ہی بنیادی انسانی اقدار کی پاسداری کرسکتا ہے، اسکا ثبوت ہے۔ یہ اسلام حقیقی کے نورانی پیغام کی طاقت ہے، جو دلوں پہ اثر رکھتی ہے، ذہنوں کو روشن کرتی اور حقائق کو منکشف کرتی ہے۔ علوی حکومت کے جلووں سے منافقت کی موت ہوتی رہیگی، دنیا کے فرعونوں کے اقتدار اور قاروںوں کے کاروبار بڑھانے والوں کے نفسیاتی، سیاسی، معاشی داؤ پیچ اور نرم اور گرم جنگوں کے نام پہ استعمال کیے جانے والے حربے، غدیر خم سے بلند ہونیوالی صداؤں کی تاب نہیں لاسکتے، فتح حق کی ہوگی۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں کہ جب مہدیؑ آخرالزمان ظہور فرمائیں گے اور جس انقلاب کی بنیاد امام خمینی کے ہاتھوں ہوئی، وہ پوری دنیا پر جلوہ گر ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

کیا مشرق وسطیٰ میں وسیع جنگ کی تیاری ہو رہی ہے

(عبد الباری عطوان) جو بھی اسرائیلی جرنلز اور اسی طرح فلسطینی گروہوں کے ترجمان کے …