اتوار , 19 مئی 2019

عمران خان ناکام ہو رہا ہے؟؟

(تحریر: تصور حسین شہزاد)

عمران خان کے حوالے سے بہت سے حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ اگر عمران خان ناکام ہوگئے تو کیا ہوگا؟ یہ بحث یا ایسی باتیں میڈیا اور شوشل میڈیا پر دو طبقے پھیلا رہے ہیں۔ ایک طبقہ سیاسی ہے، ظاہر ہے کہ عمران خان نے آکر جن سے اقتدار چھینا، جنہیں جیلیں دکھائیں یا جن کو قید ہونے کے خواب آرہے ہیں، وہ چین سے تھوڑا بیٹھیں گے، ان کی طرف سے یہ بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں کہ کسی طرح عمران خان اقتدار سے باہر ہو جائے اور وہ دوبارہ حکومت میں آکر لوٹ مار کا سلسلہ شروع کرسکیں۔ دوسرا طبقہ میڈیا ہے۔ میڈیا مالکان کو ماضی میں اندھا دھند نوازا جا رہا تھا، تاکہ وہ حکومت کی بڑی بڑی کرپشن، منی لانڈرنگ اور دیگر کرتوتوں سے صرفِ نظر کرتے رہیں اور ماضی میں یہی کچھ ہوتا بھی رہا۔ آج بھی "پٹواری” مزاج لوگ یہی کہتے ہیں کہ اگر نواز شریف اور زرداری نے کرپشن کی ہے تو ثبوت دیں، وہ یہ نہیں دیکھتے کہ سائیکل پر پھرنے والوں کے پاس لینڈ کروزرز کیسے آگئیں۔ لاہور کی شاہدرہ جیسی آبادی کے مکین بحریہ ٹاون اور ڈیفنس میں کیسے پہنچ گئے۔ اب یہ دونوں طبقے (سیاسی و صحافتی) مل کر زور لگا رہے ہیں۔ ان کے شور شرابے کے برعکس، حکومت بہت کچھ بہتر کرچکی ہے۔ مگر ان کی یہی رٹ ہے کہ "عمران خان نے ابھی تک ڈلیور کیا کِیا ہے؟” یہ طبقہ یہ بھی کہتا ہے کہ عمران خان نے آکر مہنگائی میں اضافہ کیا ہے۔ عوام کے مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ ڈاون ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

ہماری معیشت کیساتھ ہوتا کیا رہا ہے، اس کی مثال میں اس واقعہ سے دوں گا کہ ایک صاحب ہمارے محلے میں کرائے دار آئے۔ لیسکو کا میٹر ریڈر اس کا قریبی عزیز تھا۔ کرائے دار صاحب نے میٹر ریڈر کو کہا کہ میں نے 6 سے 7 ماہ اس گھر میں رہنا ہے، میرا بل 200 روپے سے زیادہ نہیں آنا چاہیئے، میٹر ریڈر نے "جی بہتر” کہہ کر ریڈنگ کرنا شروع کر دی۔ ہر ماہ 200 سے زائد یونٹ استعمال ہوتے، میٹر ریڈر ریڈنگ میں چند یونٹ ڈال کر بل کی قیمت 200 روپے تک ہی رکھتا۔ میٹر پر یونٹ کی تعداد بڑھتی رہی، مگر ریڈنگ بک میں اندراج چند یونٹس کا ہی ہوتا رہا۔ کرائے دار کو ہر ماہ صرف 200 روپے ہی بل آتا۔ 7 ماہ بعد کرائے دار نے گھر چھوڑ دیا۔ میٹر ریڈ نے ایک ماہ تو بل 200 ہی بھجوایا، جب اسے پتہ چلا کہ مکان کا مکین بدل چکا ہے، اس نے میٹر کی اصل ریڈنگ کے مطابق بل ڈال دیا۔ اب 200 روپے ماہانہ آنیوالا بل اچانک 20 ہزار سے بھی تجاوز کر گیا۔ نئے کرائے دار نے تو سر پکڑ لیا۔ میٹر ریڈر نے میٹر دکھایا، ریڈنگ درست تھی، میٹر بتا رہا تھا کہ اتنے ہی یونٹ خرچ ہوچکے ہیں جتنے ریڈنگ بک میں میٹر ریڈر نے درج کئے ہیں۔ یوں نئے کرائے دار پر یہ افتاد آن پڑی کہ جیسے بھی ہو، یہ بل تو دینا ہی ہے۔

ماضی میں پاکستانی معیشت کے "میٹر” کیساتھ اسحاق ڈار جیسا میٹر ریڈر یہی سلوک کرتا رہا ہے۔ اب چیخیں عمران خان اور عوام کی نکل رہی ہیں اور شور یہ مچایا جا رہا ہے کہ حکومت ناکام ہوگئی۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ نواز شریف کو یقین ہوگیا تھا کہ آئندہ انہیں حکومت نہیں ملے گی، انہوں نے ملکی معیشت کو اس انداز میں تباہ کیا کہ رہے نام اللہ کا، اتنے زیادہ قرضے لئے گئے اور اتنی زیادہ شرح سود پر لئے گئے کہ اب ان کی ادائیگی کا معاملہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر حکومت کے سامنے کھڑا ہوگیا ہے۔ عمران خان تو کیا کوئی بھی اقتدار میں آجاتا اس کیلئے یہ مسائل لازمی تھے۔ اب ان مسائل کے پیش نظر ہی اسد عمر نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ ظاہر ہے کہ اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ مسائل کو حل کرنا آسان نہیں، یہی وجہ ہے کہ خود کو بے بس دیکھ کر اسد عمر نے استعفیٰ دیدیا۔ یہ بھی ایک اچھی روایت ہے کہ اگر کام نہیں ہو رہا تو الگ ہو جاو، بجائے اس کے کہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عہدے سے چمٹے رہو اور ملکی معیشت کا کباڑہ کر دو۔ اسد عمر نے مستعفی ہو کر اچھی مثال قائم کی ہے۔

اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عمران خان ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا؟ اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا ہے تو اس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ عمران خان کی ناکامی کی صورت میں وہی کرپٹ طبقہ دوبارہ اقتدار میں آجائے گا اور پھر وہ جی بھر کر بغیر کسی خوف کے لوٹ مار کریں گے۔ انہیں پتہ ہوگا کہ ان کے سوا پاکستان کے پاس کوئی اور حکمران نہیں، اس لئے وہ کرپشن میں شیر ہو جائیں گے اور جی بھر کر کرپشن کریں گے۔ ان کے تیور ہی تبدیل ہو جائیں گے۔ اس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ دوسری جانب یہ اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں کہ اگر عمران خان ناکام ہوتے ہیں تو ایک نئی سیاسی جماعت میدان میں اُتار دی جائے، جو پی پی پی اور پی ایم ایل این کا متبادل ہو۔ اس کاز کیلئے محمد علی درانی فعال ہوچکے ہیں۔ محمد علی درانی پی ایم ایل این اور پی پی پی کے ارکان کیساتھ رابطے کر رہے ہیں۔ محمد علی درانی انہیں یہ کہہ کر قائل کر رہے ہیں کہ زرداری اور نواز شریف کا شو ختم ہوچکا ہے۔ دونوں پر کریشن کے الزامات ہیں اور دونوں ہی ملکی سیاست سے آوٹ ہونے جا رہے ہیں۔ نواز شریف اگر عدالتوں سے بچ بھی جاتے ہیں تو وہ بیمار ہیں اور اپنی جسمانی حالت کے باعث وہ ملک چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے جبکہ شہباز شریف پر بھی کرپشن کے کیسز ہیں، پی ایم ایل این کی قیادت مریم نواز کی گود میں آجائے گی، جو پی ایم ایل این کے بہت سے ارکان کو پسند نہیں، کیونکہ لاہوری ارکان کے علاوہ کوئی لیگی رہنما نہیں چاہتا کہ پارٹی کی قیادت مریم نواز کو ملے۔

چودھری نثار کی نواز شریف سے دوری اور پارٹی سے علیحدگی کی وجہ بھی مریم نواز کی فعالیت ہی تھی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے کچھ ارکان بھی موروثی سیاست سے جان چھڑوانے کیلئے کوشاں ہیں۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ایسے ارکان جو موروثیت کیخلاف ہیں، انہیں محمد علی درانی ایک پلیٹ فارم پر جمع کر رہے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ وہ قوتیں جو پاکستان میں اقتدار کے فیصلے کرتی ہیں، ان کی حمایت بھی محمد علی درانی کیساتھ ہے۔ یہ تیسری سیاسی قوت عمران خان کے متبادل کے طور پر بہرحال تیار ہو رہی ہے، مگر یہ صرف امکانی صورت میں ہی فعال ہوگی، کہ اگر عمران خان ناکام ہوگئے تو۔ اب عمران خان کی پوزیشن دیکھیں، عمران نے عالمی سطح پر پاکستان کی حیثیت کو تسلیم کروا لیا ہے، سعودی عرب، ملایشیا، ترکی، یو اے ای، ایران اور چین سمیت دیگر ممالک عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ اب تک جتنے غیر ملکی حکمران پاکستان آئے ہیں یا عمران خان نے اب تک جتنے بھی غیر ملکی حکمرانوں سے رابطے کئے ہیں، وہ حوصلہ افزاء رہے ہیں۔

پاکستان کا اُمت مسلمہ میں جو مصالحانہ اور مثبت کردار ہے، وہ اجاگر ہو رہا ہے۔ اس امر کے بھی مثبت نتائج ہی برآمد ہوں گے۔ جہاں تک اندرونی مسائل کی بات ہے تو پاکستانی قوم کیلئے ابھی کچھ ماہ سخت ضرور ہوں گے، مگر بہتری کی اُمید اب بھی موجود ہے۔ جیسے ایک مریض کو تندرستی کیلئے انجکشن کی تکلیف سہنا پڑتی ہے، اسی طرح پاکستانی عوام کو بھی یہ درد سہنا ہی پڑے گا۔ اس درد کا کریڈٹ بھی ماضی کے حکمرانوں کو ہی جاتا ہے۔ عمران خان کا مضبوط ارادہ بتا رہا ہے کہ وہ ناکام نہیں ہوگا، کیونکہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جس کو، آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
تو پاکستان کے عوام اب طے کرچکے ہیں کہ انہوں نے اپنی حالت بدلنی ہے اور ملک کی مقتدر قوتیں بھی جانتی ہیں کہ اگر اب حالات تبدیل نہ ہوئے تو پھر کبھی بھی حالت تبدیل نہیں ہوگی، اس لئے وہ نہیں چاہیں گے کہ عمران خان ناکام ہو اور مرادیں نیتوں کی بل بوتے پر ہی ملتی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا مشرق وسطیٰ میں وسیع جنگ کی تیاری ہو رہی ہے

(عبد الباری عطوان) جو بھی اسرائیلی جرنلز اور اسی طرح فلسطینی گروہوں کے ترجمان کے …