اتوار , 19 مئی 2019

"جبل الریسان” اور "النبی عنیر” میں فلسطینی اراضی پر غاصبانہ قبضے!

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں میں فلسطینی اراضی اور فلسطینیوں کی املاک ہتھیانے کے مکروہ صہیونی حربے مسلسل جاری ہیں۔ یہودی آباد کار اور قابض صہیونی حکام ملی بھگت کے تحت غرب اردن کی فلسطینی زمینوں پر قبضے کرتے چلے جا رہے ہیں۔ فلسطینی سرزمین کو یہودیانے اور ان میں یہودیوں کو بسانے کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا استعمال روز کا معمول بن چکا ہے۔

غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ کے نواحی قصبے جبل الریسان اور النبی عنیر اس وقت یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کا مرکز ہیں۔ ان دونوں قصبوں کی اراضی پر قبضےکے لیے یہودی آباد کاروں نے خیمے اور شیلٹرز لگا کر وہاں‌ پر توڑ پھوڑ شروع کر رکھی ہے۔ اراضی میں‌ موجود قیتمی درخت کاٹے جا رہے ہیں اور سڑکوں کی تعمیر کی آڑ میں‌ بھاری مشینری اور تعمیراتی سامان وہاں منتقل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی شہریوں‌ کو جو اراضی کے اصل مالک ہیں، وہاں‌ پر کسی قسم کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔جبل الریسان اور النبی عنیر نامی دونوں قصبے رام اللہ کےخوبصورت مقامات میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ دونوں قصبے ہرے بھرے جنگلوں، کھیتوں کھلیاں، پھل دار پودوں کے باغات اور پانی کے ابلتے چشموں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صہیونی اس سرزمین پر ایسے پل پڑے ہیں جیسے بھوکے بھیڑے اپنے شکار پر پل پڑتے ہیں۔

فلسطینیوں کی قیمتی اراضی ہتھیانے کے لیے طاقت کے استعمال جیسے مکروہ ہتھکنڈے استعمال کیےجاتے ہیں حالانکہ فلسطینیوں کے پاس زمینوں کی ملکیت کے تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔جبل الریسان کےایک مقامی باشندے نے بتایاکہ تین ماہ قبل جبل الریسان کےایک قطعہ اراضی پر صہیونی حکام نے قبضہ کیا اور 500 دونم قیمتی زمین فلسطینیوں سے ہتھیانے کے بعد اس پر شیلٹرز نصب کر دیے۔اس کے بعد یہودی آباد کاروں کا مقامی فلسطینی آبادی کو ہراساں کرنا اور ان کی املاک، زمینوں، جائیدادوں، کھیتوں اور پانی کےچشموں پر قبضے کرنا معمول بن چکا ہے۔

فلسطینی شہری کا کہنا ہے کہ جب وہ غاصب یہودیوں اورصہیونیوں کے خلاف اپنی ارضی اورجائیدادوں کے دفاع کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں صہیونی حکام کی طرف سے طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور تشدد کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 25 دونم اراضی کے مالک ہیں اورصہیونی دھمکیوں کے ذریعے اس کی اراضی اس سے چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں‌نے کہا کہ جبل الریسان اور النبی عنیرکی اراضی میں کھجور، انجیر، زیتون، صنوبراور انگورکے درخت ہیں۔ صہیونی اور یہودی آباد کار فلسطینی اراضی پر قبضے کے لیے آئے روز ان درختوں کو کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

راس کرکر کے مقامی فلسطینی شہری نعمان نوفل نے بتایا کہ فلسطینی املاک پر قبضے کے لیے یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی فوج کا مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ حال ہی میں انہوں‌نے النبی عنیرمیں راس کرکر کی 12 دونم اراضی پر قبضہ کر لیا۔

النبی عنیر میں پانی کے 25 چشمے ہیں جو مقامی اراضی کو سیراب کرنے، مویشیوں اورشہریوں کے زیر استعمال ہیں۔راس کرکر بلدیہ کے مقامی فلسطینی راضی ابو فخیدہ نے کہا کہ النبی عنیر قصبے میں زیادہ تر کاشت کار ہیں، یہاں کے لوگوں کے زیادہ تر مکانات کچے ہیں جو پتھر اور مٹی کے بنےہوئے ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

کیا مشرق وسطیٰ میں وسیع جنگ کی تیاری ہو رہی ہے

(عبد الباری عطوان) جو بھی اسرائیلی جرنلز اور اسی طرح فلسطینی گروہوں کے ترجمان کے …