اتوار , 19 مئی 2019

حجاز پر مسلط گروہ چہرہ اسلام پر بدنما داغ ہے

(تحریر: سید اسد عباس)

وہ خطہ زمین جہاں سے اسلام یعنی دین امن و سلامتی کا نور پھوٹا، وہ خطہ جو اسلام کا مرکز و محور ہے، جہاں دنیا بھر کے انسانوں کا قبلہ و کعبہ ہے اور جس کے شہر مدینہ میں رحمت للعالمین کا جسد اطہر مدفون ہے، بجا طور پر اہل اسلام کے لیے مقدس اور لائق تعظیم ہے۔ اس خطے سے منسلک ہر ہر چیز ہمارے لیے روحانی کیف و سرور کا سامان لیے ہوئے ہوتی ہے۔ اس سرزمین کی کھجور، پانی حتیٰ کہ مٹی کے ڈھیلے بھی دنیا بھر کے مسلمانون کے لیے خاص حیثیت و مقام کے حامل ہیں۔ یہ خطہ اور اس میں ہونے والے واقعات جہاں مسلمانوں کے لیے اہم ہیں، وہیں اس کی ایک عالمی حیثیت بھی ہے۔ دنیا سعودی عرب کو فقط ایک ریاست کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے مسلمانوں کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ مرکز اسلام کا نظام حکومت، سیاست، انسانی حقوق، طرز حکمرانی، رعایا سے رویہ، اس ریاست کا عالمی معاملات میں طرز عمل، حکمرانوں کا رہن سہن سب اسلامی ریاست جو کہ مرکز امت مسلمہ ہے، کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے فلسطین میں حضرت عمر فاروق کے ورود کو دیکھا گیا، جیسے حبشہ میں مسلمانون نے اپنے کردار و عمل سے اپنے دین کا تعارف کروایا، جیسے رسالت ماب کے پاس باہر کی دنیا سے آنے والے دیکھتے تھے۔

بقیہ تمام اسلامی ریاستوں کا ریاستی رویہ ایک جانب، مرکز طلوع اسلام بیرونی دنیا کو کیا پیغام دے رہا ہے، یہ بات تمام مسلمانوں کے سوچنے کی ہے۔ اگر ہم نے اس بات پر غور نہیں کرنا تو پھر تاریخ اسلام سے وہ واقعات حذف کر دینے چاہیئں جو مسلمان حاکمون کے رعایا سے حسن سلوک، خدا ترسی اور سادگی پر مشتمل ہیں۔ اگر ان واقعات کو تاریخ میں زندہ رکھنا ضروری ہے تو دنیائے اسلام کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس وقت مرکز طلوع اسلام پر وہ لوگ حاکم ہیں، جن کا رویہ اسلام سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بہرحال تب بھی مسلمانوں کی ذمہ داری کسی طور کم نہیں ہوگی بلکہ دو چند ہو جائے گی کہ ان کا مرکز کس اذیت سے دوچار ہے۔ آل سعود کی حاکمیت کے آغاز کے وقت مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی نیز سید سلمان ندوی کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ مرکز طلوع اسلام کو ایسے لوگوں کے تصرف میں نہیں ہونا چاہیئے، جو اسلام کی ابجد سے آگاہ نہیں ہیں، اسی لیے انہوں نے سفارتی و سیاسی ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے حجاز مقدس کا کنٹرول موتمر عالم اسلامی کو دینے کی بات کی، اس تمام کاوش کو حاکم اول ال سعود کی جانب سے ایک سازش قرار دے کر ختم کر دیا گیا۔

آج کا سعودیہ جو درحقیقت غیروں کی نظر میں مرکز طلوع اسلام ہے، اپنے حاکموں کی عیاشیوں، عظیم الشان محلات، شہزادوں کی شاہ خرچیوں، سونے و چاندی کے انبار، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، قتل و غارت، اغوا، خواتین پر پابندیوں اور سیاسی آزادیوں کے سلب کرنے کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ بین السطور آج کا سعودیہ غیروں کو پیغام دیتا ہے کہ اسلام جب اپنے مرکز طلوع کو نہ بدل سکا تو پھر دنیا میں تبدیلی کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے۔ اسلام کے انسانی سربلندی کے وعظ، سادگی کے بھاشن، انسانی اقدار کے احیاء کے دعوے فقط زبانی جمع خرچ ہیں، حقیقت وہ ہے جو مرکز طلوع اسلام میں ہر روز دنیا کے سامنے ظاہر ہوتی ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ سعودیہ میں 37 شہریوں کو دہشت گردی و انتہا پسندی کے جرم میں قتل کیا، قتل کرنے کے لیے طریقہ قدیم عربوں والا یعنی سر کو بدن سے جدا کرنا۔ یاد رہے کہ اجتماعی گردن زدنی کا یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے، اس سے قبل بھی کئی ایک ایسے واقعات ہوئے، جن میں ایک ہی دن درجنوں افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ یہ بدو اپنے خیال میں تو شاید اپنے شہریوں پر اپنی دھاک بٹھا رہے ہیں، لیکن انہیں نہیں معلوم کہ ان کا یہ عمل باقی دنیا میں کس عنوان سے دیکھا جا رہا ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر ادارے چلا رہے ہیں کہ ان ملزموں کو عدالت نے صفائی کا موقع نہیں دیا، ریاستی جبر کے تحت ان سے اعتراف جرم کروایا گیا، الی الاخر۔۔ جو بات عالمی انسانی حقوق کے ادارے نہیں کہتے اور جو بین السطور دنیا کو پیغام دیتی ہے، وہ یہی بات ہے کہ مرکز طلوع اسلام کا ایسا رویہ وہاں ظاہر ہونے والے دین کا رویہ و وطیرہ ہے۔ ساری دنیا نہ تو دانشور ہے اور نہ ہی حقائق کی اس قدر چھان پھٹک کرتی ہے کہ حقیقت تک پہنچ سکے۔ ان کے لیے تو دو جمع دو چار ہے، جیسے فلسطینی فقط یہ دیکھ کر متاثر ہوگئے کہ مسلمانوں کا خلیفہ اونٹ کی لگام تھامے تنہا شہر میں داخل ہو رہا ہے اور اس کا غلام اونٹ کی پشت پر سوار ہے۔ ان فلسطینیوں نے تو قیصر و کسریٰ کی جانب سے متعین حاکموں کا شان و شوکت دیکھا تھا، مسلمانوں کے خلیفہ کی اس سادگی کو دیکھ کر ان کے لیے اسلام کی حقانیت پر ایمان لانا مشکل نہ رہا۔ اس کے برعکس اگر خلیفہ دوئم قیصر و کسریٰ کا وطیرہ اپناتے تو اسلام کی تعلیمات کا جو تاثر فلسطینیوں کے اذہان میں جاتا، وہ موجودہ تاثر سے قطعاً مختلف ہوتا۔ ہم نے اکثر پڑھا اور سنا ہے کہ داعش اور شدت پسند گروہ اسلام کے فطرت سے ہم آہنگ چہرے پر ایک بدنما داغ ہیں، جو حقیقت بھی ہے، کیا مرکز طلوع اسلام یعنی حجاز مقدس پر قابض گروہ اسلام اور اس کی آفاقی و انسانی تعلیمات کو دنیا میں متعارف کروانے کے لیے سازگار و مناسب ہے۔ اس سوال کا جواب قارئین محترم کے اذہان پر چھوڑتا ہوں۔

یہ بھی دیکھیں

غزہ میں فلسطینی مزاحمتی اسلحہ اسرائیلی حکمت عملی کی راہ میں بڑی رکاوٹ!

فلسطینی تجزیہ نگار اور فیوچر اسٹڈی سینٹر کے رکن ڈاکٹر ولید عبدالحی نے کہا ہے …