اتوار , 19 مئی 2019

عالمی برادری امریکہ کے خود سرانہ اقدامات کے مقابلے میں ڈٹ جائے، وزیر خارجہ ظریف

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ عالمی برادری امریکہ کے یک طرفہ فیصلوں اور اقدامات پر ردعمل ظاہر کرے۔نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوترس کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ تہران تیل کی برآمدات جاری رکھے گا اورایران کے عوام امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے والے نہیں ۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ دباؤ کے ذریعے ایران کو کسی سمجھوتے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نہ صرف یہ کہ سلامتی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی کر رہا ہے بلکہ دیگر ملکوں پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈال رہا ہے۔

ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ایک ملک دوسرے ملکوں کو کھلے عام دھمکیاں دے رہا ہے کہ انہوں نے قانون پر عمل کیا تو، انہیں سزا دی جائے گی۔ایران کے وزیر خارجہ نے یاد دہانی کرائی کہ عالمی سمجھوتوں اور معاہدے کی پاسداری بین الاقوامی تعلقات کی اساس ہے لہذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ امریکہ کے خود سرانہ اقدامات اور پالیسیوں کے مقابلے میں پوری قوت کے ساتھ ڈٹ جائے۔

حکومت امریکہ نے ایران سے مخاصمت اور دشمنی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایران سے تیل خریدنے والے ملکوں کو تادیبی کارروائیوں کی دھمکی ہے۔درایں اثنا خـبر رساں ایجنسی رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے وزیر خآرجہ نے کہا ہے کہ ایران محاذ آرائی نہیں چاہتا لیکن بھرپور طریقے سے اپنے حق کا دفاع کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکی صدر بھی ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے لیکن بعض لوگ انہیں اس جانب دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی کوشش ہے کہ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ تنازعے میں الجھا دیا جائے۔

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی بنانے والے، معاملات کے مذاکراتی حل پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ لے آئیں جو کسی بڑے بحران کا باعث بن جائے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا نام امریکی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کو لاحاصل قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں امریکہ کی موجودگی عدم استحکام کا باعث بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ طالبان کو مذاکرات کے اخراجات دینے کے خواہشمند

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر طالبان پر مہربان ہو گئے، ٹرمپ امن مذاکرات کےلیے آنے …