پیر , 17 مئی 2021

کوئی واقعہ ہواتو دہشتگری کا مقدمہ موبائل کمپنی سربراہ پر ہوگا،سپریم کورٹ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سیکیورٹی کے نام پر موبائل سروس بند کرنے سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ موبائل کمپنیوں والے بھی حوصلے سے کام لیں ، اگر کوئی واقعہ ہوا تو موبائل کمپنی کے سربراہ پر دہشتگری کا مقدمہ ہوگا۔تفصیلات کے مطابق، جمعے کو جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے سیکیورٹی کے نام پر موبائل سروس بند کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

موبائل کمپنی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ معمولی معمولی باتوں پر سروس بند کر دی جاتی ہے، ترکی کا صدر دورہ کرے یا وزیراعظم کا جلسہ ہو سروس بند کر دی جاتی ہے، کوئی بڑا ایونٹ ہو تو سروس بند کرنا سمجھ بھی آتا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قانونی موقف سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے، ایک ماہ کا وقت دیا جائے، پیشرفت سے آگاہ کریں گے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم بھی یہی کہتے ہیں چھوٹے ایونٹ پر سروس بند نہ کریں، موبائل کمپنیوں والے بھی حوصلے سے کام لیں، اگر کوئی واقعہ ہوا تو موبائل کمپنی کے سربراہ پر دہشتگری کا مقدمہ ہوگا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون میں ترمیم ہونے دیں پھر دیکھیں گے۔بعدازاں سپریم کورٹ نے سیکیورٹی کے نام پر موبائل سروس بند کرنے سے متعلق کیس کی سماعت جون کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی دیکھیں

’غزہ کا معاملہ تنازع نہیں، اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کا قتل عام ہے‘: شیریں مزاری

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ غزہ کا …