منگل , 18 مئی 2021

ایران سے تیل خریدنے پر امریکی پابندیاں اور درپردہ اہداف

(تحریر: علی احمدی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے ممالک پر ایران سے تیل خریدنے پر شدید پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان ممالک کو ان پابندیوں سے مستثنی قرار دینے کا سلسلہ بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے جو اس سے پہلے امریکہ کی اجازت سے ایران سے تیل خریدنے میں مصروف تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایران کی معیشت مکمل طور پر تباہ کرنا ہے تاکہ وہ جوہری پروگرام، میزائل پروگرام اور خطے میں اپنی سرگرمیوں کے بارے میں امریکہ سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اسی طرح امریکی صدر نے اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایران میں مہنگائی کی شرح میں شدید اضافہ اور ایرانی کرنسی کی گراوٹ ہے تاکہ موجودہ سیاسی نظام سرنگون ہو جائے۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کی نظر میں ایران کی آمدن کا واحد ذریعہ خام تیل برآمد کرنا ہے اور ایران کی تیل کی برآمدات کو صفر کی حد تک لا کر اسے شدید اقتصادی دباو کا شکار کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ اہداف ہیں جو خود امریکی حکام کی جانب سے بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن بعض اہداف ایسے بھی ہیں جو درپردہ ہیں اور انہیں خفیہ رکھا گیا ہے۔ ان میں سے چند اہم اہداف درج ذیل ہیں:

1)۔ ایران کے خلاف تیل برآمد کرنے پر پابندیوں کے اصل اہداف میں سے ایک امریکہ کی جانب سے اپنی کمپنی شیل کے تیل کی فروخت میں اضافہ کرنا ہے۔ امریکہ کے بین الاقوامی اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی تیل برآمد کرنے والی کمپنی "شیل” اس وقت نئی منڈیاں تلاش کر رہی ہے اور خاص طور پر ایشیا میں مارکیٹ اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے کوشاں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایشیائی منڈیاں یورپی منڈیوں کی نسبت زیادہ تیزی رکھتی ہیں۔ لہذا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے تیل خریدنے پر پابندی عائد کرنے کے ذریعے ایشیائی منڈیوں میں اپنی کمپنی "شیل” کی مارکیٹ بڑھانے کی کوشش میں ہیں۔

2)۔ امریکی صدر کے اس اقدام کا ایک اور مقصد ایران کی گیس اور تیل کی صنعت میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور ایرانی گیس کی یورپ ترسیل کو روکنا ہے۔ یہ بات اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے روس پر بھی گیس برآمد کرنے پر پابندی کا مقصد بھی روس کے ذریعے یورپی ممالک کو گیس کی فراہمی روکنا تھی۔ یوں امریکہ زیادہ قیمت پر اپنی گیس یورپی ممالک کو فروخت کر سکتا ہے۔ جبکہ یورپی ممالک اب تک کم قیمت پر روس سے گیس خرید رہے تھے۔ دوسری طرف یورپی ممالک بھی روس کی جگہ امریکہ سے گیس خریدنے پر زیادہ رضامند دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح امریکہ ایران اور روس سے یورپی ممالک گیس کی ترسیل روک کر یورپ میں روس کے اثرورسوخ کو بھی کم کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ساتھ ان ممالک کو اپنی گیس پر منحصر کر کے یورپی یونین پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

3)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بے سابقہ پابندیاں عائد کرنے کا تیسرا مقصد آئندہ صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس اقدام کے ذریعے خود کو ایک انتہائی طاقتور امریکی صدر کے طور پر متعارف کروانا چاہتا ہے۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ اس اقدام کے ذریعے اسرائیل اور امریکہ میں موجود یہودی لابی کو خوش کر کے ان کی حمایت بھی حاصل کرنے کے درپے ہے۔ یاد رہے 2020ء میں امریکہ میں آئندہ صدارتی انتخابات کا انعقاد ہونے والا ہے۔

4)۔ امریکہ کی جانب سے ایران کی تیل کی برآمدات کے خلاف حالیہ پابندیوں کا اہم ترین مقصد دنیا کے انرجی کے ذخائر پر اپنا اسٹریٹجک تسلط اور قبضہ قائم کرنا ہے۔ اس قبضے میں تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ، عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمت پر کنٹرول اور تیل اور گیس کی سپلائی کے تمام خطوط اور روٹس پر کنٹرول شامل ہے۔ امریکہ اس قبضے کو چین کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں اپنے لئے نفع بخش تصور کرتا ہے۔ چین ایک ایسا ملک ہے جو تیزی سے اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی روز برقز انرجی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر مشرق وسطی سے تیل اور گیس خریدنے کا شدید محتاج ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں اور ماہرین کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ بالا اہداف کا حصول ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے اتنا بھی آسان نہیں جتنا وہ تصور کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر امریکہ ایران سے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر حد سے زیادہ دباو ڈالتا ہے تو ایسی صورت میں وہ امریکہ کے خلاف بغاوت پر اتر سکتے ہیں۔ امریکہ کے خام تیل کی تجارت کے ماہر اسکاٹ موڈائیل بلوم برگ نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خام تیل درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک امریکی صدر کے اس فیصلے پر شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس فیصلے کے ذریعے ایران سے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کو بہت مشکل صورتحال میں ڈال دیں گے۔ دوسری طرف امریکی صدر کی جانب سے ان ممالک پر ایران سے تیل نہ خریدنے کیلئے دباو آزاد بین الاقوامی تجارت کے اصولوں اور قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لہذا امریکی وزارت خارجہ میں ایران ڈیسک کے سربراہ برائن ہوک یہ کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ دنیا کے ممالک کو ایران سے تیل خریدنے یا امریکہ سے تجارت کرنے میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیل زمین پر خدا بن رہا تھا لیکن…

حسیب اصغر 22 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ناجائز ریاست اسرائیل کی کل آبادی تقریباً …