منگل , 11 مئی 2021

کوئی ماں کا لعل ہم سے فیصلے کا ایک نقطہ بھی ادھر سے ادھر نہیں کرو اسکتا، لاہور ہائیکورٹ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ہمارا سسٹم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور صرف 2 فیصد وکلا نے پورے سسٹم کو مفلوج کررکھا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے ایک کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر جوڈیشل سسٹم ختم کردیں تو ملک جنگل بن جاتا ہے، ہمارا سسٹم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے اور صرف 2 فیصد وکلا نے پورے سسٹم کو مفلوج کررکھا ہے، کسی کو عدالتوں کو ہائی جیک نہیں کرنے دیں گے، روس کی تباہی کی بڑی وجہ وہاں اہم عہدوں پر نااہل افراد کو تعینات کیا گیا۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کا کہنا تھا کہ وکلاء کی بہتر تربیت نہیں ہورہی جڑانوالہ میں وکیل نے جج کو کرسی مار کر زخمی کردیا، 98 فیصد وکلاء کا فرض ہے کہ وہ اس سسٹم کی بہتری اور عوام کے حق کے لئے اپنا کردار ادا کریں، یہاں چند لوگ بیٹھے ہوئےعزت کررہے جو شائد اللہ کا کرم ہے ورنہ حالات بہت خراب ہیں۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ تاخیری حربوں کے حوالے سے عدالتوں کو یہ معاملہ دیکھنا چاہیے، اگر ہائیکورٹ میں لمبی تاریخیں نہیں دیتے تو ٹرائل کورٹس کو بھی اعلی عدلیہ کو تقلید کرنی چاہیے، کوئی ماں کا لعل ایسا پیدا نہیں ہوا جو ہم سے فیصلہ کا یک نقطہ بھی ادھر ادھر کرواسکے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …