پیر , 17 مئی 2021

ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں

ایران کی تاریخ میں پہلی با ر امریکہ کی جانب سے انتہائی سخت قسم کی اقتصادی پابندیاں لگائی گئی ہیں جو ماضی میں لگائی جانے والی تمام پابندیوں سے زیادہ سخت قسم کی ہیں ۔لیکن ایران جو کہ مسلسل اس قسم کی پابندیوں کا سامنا کرتاآیا ہے ان پابندیوں کا بھی سامنا کرنے کی ہمت جُتا رہا ہے اور وہ ان پابندیوں کے مقابلے کے لئے کمر بستہ دکھائی دے رہا ہے ۔

یقیناً اس وقت ایرانی معیشت مشکلات کا سامنا کررہی ہے اور ان مشکلات میںکچھ عرصے تک مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور اگر ایران اپنے تمام منصوبوں پر مکمل عمل درآمد کرسکے تو بتدریج معیشت ان مشکلات سے نہ صرف باہر نکل آئے گی بلکہ اسے ایک ایسا استحکام بھی ملے گا کہ جس کے بعد اس قسم کی پابندیاں زیادہ موثر واقع نہیں ہونگی ۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت بھی پابندیوں کا نفسیاتی اثر اس کے حقیقی اثرات سے بہت زیادہ ہے ،خواہ یہ نفسیاتی اثر خود ایران پر ہوں یا اس سے ٹریڈ کرنے والوں پر ۔

الف:ایران کے لئے ایک اہم مارکیٹ ہمسایہ ممالک خاص کر عراق، ترکی اور شام کی ہے جس تک رسائی اس کے لئے کسی طور پر مشکل نہیں ۔ اس سلسلے میں ترک وزیر خارجہ مولوداوغلو نے کھلے لفظوں کہا کہ ’’ہم ایک طرفہ پابندیوں کو قبول نہیں کرتے ہیںاور نہ ہی ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر ڈکٹیشن قبول کرتے ہیں ‘‘

اسی طرح عراق کا شمار بھی ان ملکوں میں ہوتاہے جو کسی بھی قسم کی امریکی پابندیوں کو خاطر میں نہیں لارہے اوراسی لئے امریکہ کو استثنی دینا پڑرہا ہے ۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عراق و افغانستان جیسے ممالک کے لئے استثنی کی وجہ امریکی افواج کی موجودگی اور ضرورتیں ہیں جو مقامی مارکیٹ سے پوری ہوتی ہیں لیکن کیونکہ مقامی مارکیٹ کی کھپت ایران پوری کرتا ہے لہٰذا امریکی مجبوری ہے کہ وہ استثنیٰ دے ،لیکن بات اس سے کئی گنازیادہ گہری ہے ،عراق کسی بھی لحاظ سے ایران کے ساتھ اپنی تجارت بند نہیں کرنا چاہتا اور اگرامریکہ عراق پر پابندیاں لگاتا ہے تو اس کا نتیجہ عراق کی جانب سے بیرونی افواج کے انخلا کے مطالبےاور ان کی قانونی حیثیت پر سوال کی شکل میں سامنے آسکتا ہے ۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ عراقی پارلیمان میں کسی جانب سے ایک غیر ملکی افواج کے اخراج کا بل پیش اور پھر پاس ہوجائے جس کا مطلب واضح ہے کہ عراق سے غیر ملکی افواج کو جانا ہوگا یا پھر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

ب:ایران اور عراق شلمچہ سے لیکر بصرہ تک ٹرین کی پیٹری بچھانا چاہتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ منصوبہ میز پر رہا جو اب عملی ہونے جارہا ہے ۔ایران کے شلمچہ سے لیکر عراق کے بصرہ تک ٹرین پٹری کا مطلب ایران اور عراق کا ٹرین نیٹ ورک میں وسیع طور پر جڑ جانا ہے جو کہ بعد میں شام اور دیگر ممالک تک بھی رسائی دلا سکتا ہے ۔

واضح رہے کہ شلمچہ سے بصرہ تک یہ فاصلہ صرف70کلومیٹر سے کچھ زائد بنتا ہے جبکہ عراق سے شام تک ٹرین کی پٹری بچھائی جائے تو 120کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے ۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ ایران کے بندر عباس سے لیکر شام کے لاذقیہ پورٹ تک ٹریڈ کی ایک وسیع چین بن جائے گی ۔
اور بندر عباس پورٹ اور لاذقیہ پورٹ ٹریڈڑز کو دنیا سے جوڑنے کے لئے سستا ترین روٹ بن سکتا ہے، ،اور دوسری چیز یہ ایک جیوپولیٹکل اہمیت کا بھی حامل ہوگا ۔

ج:ایران کے پاس دوسری اہم مارکیٹ چین، روس اورہندوستان کی ہے اگرچہ ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق وہ مئی میں لگائی جانے والی پابندیوں کی پاسداری کرنا چاہتا ہے لیکن ہمارے خیال میں ہندوستان کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔

حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے بعد پاکستان ایران ٹریڈ کی سطح بھی اوپر اٹھنے کا امکان ہے ،جس کی ضرورت دونوں ممالک کے لئے ہے ،اگرچہ یہ ایک انتہائی اہم دورہ اور انتہائی حساس وقت میں انجام پایا ہے کہ جس کے اثرات یقیناً علاقائی اور عالمی سطح پر بھی دونوں ملکوں کے لئے مثبت انداز سے سامنے آئیںگے ۔

اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس کی ٹریڈ اور تیل کی ترسیل کے راستوں میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو وہ آبنائے ھرمز پر سختی یا پھر پابندی لگاسکتا ہے ،لیکن ہمارے خیال میں یہ ایک آخری اور تنگ آمد بجنگ آمد آپشن ہوسکتا ہے کیونکہ ایران کے پاس اس سے پہلے بہت سے ایسے آپشنز ہیں جن کے ذریعے اپنی معیشت کو بہتر کرسکتا ہے ۔

یورپ کے ساتھ باوجود بہت سے قیل وقال کے ابھی تک تجارتی راستے کھلے ہیں اور مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں ایران اپنے بہت سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ٹریڈ بڑھا سکتا ہے جو اب تک نظر انداز رہے ہیں ۔

لیکن اگر صورتحال عسکری مداخلتوں کی جانب جاتی ہے کہ جس کا بظاہر کوئی خاص امکان نہیں تو یقینا یہ نہ صرف مغربی ایشیا کے لئے ایک بڑا بحران ہوگا بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

اچانک گنگا الٹی بہنے لگی؟

پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں حالیہ مثبت پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس …