بدھ , 12 مئی 2021

لیبیا میں خانہ جنگی کے پیچھے کون ہے؟

(پہلا حصہ)

سن 2012 میں لیبیا کے سابق ڈکٹیٹر کرنل قذافی کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک اور پھر کرنل قذافی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والاخلفشار ہے کہ اب تک کنٹرول نہیں ہو پایا ہے ۔واضح رہے کہ لیبیا کی عوامی تحریک اس وقت سے کسی خاص قیادت کی عدم موجودگی اور بیرونی مداخلتوں کے سبب اسی وقت سے ہی بحرانوں کا شکار ہوکر اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی تھی ۔

دوسرا اہم مسئلہ لیبیا کے مسئلے کو لیکر نہ صرف عرب ممالک بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک قسم کی تقسیم شروع سے چلی آرہی ہے، خاص کر عرب خلیجی ممالک کی باہمی کشمکش بھی لیبیا کے میدان میں پوری قوت کے ساتھ نمودارہوئی اور موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ اسی کشمکش کو قرار دیا جارہا ہے ۔قطری تجزیہ کار علی الھیل کا کہنا ہے کہ لیبیا اس وقت پراکسی وار کا شکار ہے اور اس پراکسی وارکو ابوظہبی اور مصر کی جانب سے مسلط کیاگیا ۔

لیبیا میں جہاں ایک جانب قطر اور ترکی کھڑے ہیں تو دوسری جانب ابوظہبی، سعودی عرب اور مصر کھڑے ہیں جو سابق جرنیل حفتر کی حمایت کررہے ہیں ۔قذافی کے بعد عوامی تحریک کے فعال افراد نے فوری طور پر ایک قومی عبوری کونسل تشکیل دی تھی کہ جس کا مقصد ملک کو نئے آئین کے مطابق اگلے مراحل کی جانب گامزن کرنا تھا ،لیکن عوامی تحریک کی تشکیل کردہ یہ کونسل بہت سے سیاسی افراد اور سابق سرکاری افراد سمیت لیبیا میں مداخلت کرنے والے ممالک کو قابل قبول نہیں تھی ۔

یوں قذافی کی باقی ماندہ افواج اور عوامی تحریک کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا اور سن 2011مارچ کے مہینے میں نیٹو افواج نے لیبیا میں داخل ہونا شروع کردیا ،جن کا کہنا یہ تھا کہ وہ اس تصادم میں سویلین آبادی کو بچانا چاہتے ہیں ۔

یوں لیبیا کی فوج اور سیاسی شخصیات کے درمیان قذافی کے بعد کے لیبیا کو لیکر اختلافات اس قدر شدید ہوگئے کہ مختلف گروہ تشکیل پا گئے اور دہشتگردتنظیموں نے بھی مختلف حصوں میں اپنے وجود کا اعلان کردیا ۔

انہی مسلح گروہوں میں سے ایک گروہ کرنل قذافی کے انتہائی وفادار ساتھی سابق جرنیل حفتر کا گروہ تھا ،قومی عبوری کونسل نے اندرونی اختلافات اور مسلح گروہوں کے خاتمے کے لئے تمام گروہوں کو وزارت دفاع کے انڈر لاکر ایک رسمی شکل دینے کی کوشش کی ۔

سن 2012میں ایک مسلح گروپ نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بول دیا اور یہیں سے ان مسلح ملیشیا گروہوںکیخلاف اقدامات شروع ہوئے، جنہوں نے ابھی تک اپنی مستقل شناخت برقرار رکھی ہوئی تھی البتہ امریکی قونصل خانے پر حملے کی ذمہ داری القاعدہ لیبیا نامی دہشتگرد گروہ نے قبول کرلی تھی ۔

داخلی انتشار کا نتیجہ یہ نکلا کہ لیبیا کے مشرقی حصے میں سابق کرنل حفتر ہ کی قیادت میں ساحلی شہر طبرق سے ایک حکومتی ڈھانچے کا اعلان ہوا جسے طبرق سرکار کا نام دیا گیا جبکہ دوسری جانب طرابلس میں جنرل نیشنل کانگریس کے نام سے ایک سرکار نے اپنے وجود کا اعلان کردیا ۔

کرنل حفترہ کو متحدہ عرب امارات ،مصر اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہوئی اور تجزیہ کاروں کے مطابق قذافی کے وفادار کرنل کو شروع سے ہی ان ممالک کی حمایت حاصل تھی اور وہ ان سے پوری طرح ہم آہنگی کے ساتھ چل رہا تھا ۔

جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ طرابلس کی سرکار میں اخوان المسلمون کی ایک بڑی تعداد شامل ہے اور کسی حدتک اسے اسلامی حکومت کا نام بھی دیا جاتا ہے اور طرابلس حکومت یا جنرل نیشنل کانگریس کو قطر اور ترکی حمایت حاصل ہے ۔

ان دو بڑے گروہوں کے علاوہ بہت سے چھوٹے مسلح اور غیر مسلح گروہ بھی ہیں جو لیبیا کے مختلف حصوں میں اپنا کنٹرول یا اثر ورسوخ رکھتے ہیں کہ جن میں انصار شریعہ کی قیادت میں مجلس ثوار بن غازی نامی قدرے شدت پسند گروپ ہے جسے طرابلس حکومت کی حمایت حاصل ہے ۔
ان گروپوں کے درمیان مصالحت کی کئی کوششیں کی گئیں جو اب تک بے سود رہی ہیں،حتی کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی مصالحت کی کوشش بغیر کسی نتیجہ کے رہی ہے۔

طرابلس حکومت نے اس عرصے میں تیل کے دو اہم ذخائر پر مشتمل علاقے پر اپنا کنٹرول حاصل کرلیا ، جبکہ حفترہ اب بھی تیل کے اہم اور بڑے ذخائر پر کنٹرول رکھتا ہے ۔

حال ہی میں کرنل حفترہ کی جانب سے مزید علاقوں پر قبضے اور ائرپورٹس کو نشانہ بنائے جانے کے بعد قطر کی جانب سے حفترہ کے لئے اسلحے کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ سامنے آیاہے ۔

جبکہ طرابلس حکومت کے سربراہ سراج کی جانب سے حفترہ کے حملوں کے بعد یورپ کے لئے یہ دھمکی سامنے آئی ہے کہ اگر وہ فوری طور پر حفترہ کو نہیں روکتے تو وہ ان آٹھ لاکھ افریقی مہاجرین کے لئے دروازہ کھول سکتا ہے جو لیبیا میں یورپ جانے کے لئے بے تاب ہیں ۔

واضح رہے کہ طرابلس حکومت کو عالمی سطح پر قانونی حثیت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے ممالک اور قوتیں کرنل حفترہ کی خود ساختہ سرکار سے بھی نہ صرف روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان کی حمایت بھی کئےجارہی ہے ۔تیل سے مالامال یہ عرب افریقی ملک اس وقت بہت سی علاقائی اور عالمی قوتوں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے کہ جس کی قیمت یہاں کی مظلوم اور فقیر عوام اداکررہی ہے ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …