جمعہ , 14 مئی 2021

امریکہ ہتھیاروں کی تجارت کے عالمی معاہدے سے دستبردار

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باراک اوباما کے دورِ حکومت کے دوران عالمی ہتھیاروں کی تجارت سے متعلق کیے گئے معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کردیا۔ امریکی صدر نے نیشنل رائفل ایسوسی ایشن (این آر اے) کے سالانہ اجلاس کے معاہدے سے دستبرادری کا اعلان کیا جسے 2013 میں کیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کے اراکین کو بتایا کہ وہ امریکا کی ‘ہتھیاروں کی تجارت کے معاہدے’ میں دستخط کنندہ کی حیثیت کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جسے امریکی سینیٹ نے کبھی منظور نہیں کیا۔اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دستخط واپس لے رہے ہیں جس سے متعلق اقوام متحدہ کو جلد باقاعدہ نوٹس ارسال کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ این آر اے اس معاہدے کی مخالفت کرتی رہی ہے جو امریکا کے 70 ارب ڈالر کے روایتی ہتھیاوں کو ریگولیٹ کرتا ہے اور انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں تک انہیں پہنچنے سے روکتا ہے۔تاہم اس حوالے سے این آر اے کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ سے مقامی سطح پر بندوق رکھنے کے حقوق زائل ہوتے ہیں جسے اوباما ایڈمنسٹریشن نے مسترد کردیا تھا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ نے اس معاہدے کو اپریل 2013 میں بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرلیا تھا جہاں دنیا کے سب سے بڑے ہتھیاروں کے برآمد کنندہ ملک امریکا نے این آر اے کی مخالفت کے باوجود حمایت میں ووٹ دیا تھا۔اوکسفم امریکا کے صدر ابے میکس مین کا کہنا ہے کہ ‘اس معاہدے سے باہر آکر امریکا اب ایران، شمالی کوریا اور شام جیسے ممالک کے ساتھ آکر کھڑا ہوگیا جو پہلے ہی ہتھیاروں کی تجارت کے اس معاہدے کے دستخط کنندہ نہیں تھے جس کا مقصد قیمتی انسانی جانوں کی حفاظت کرنا تھا۔’

ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکا کے ڈپٹی ڈائریکٹر اڈوتے اکوائے کا کہنا تھا کہ اس اعلان کے ساتھ ٹرمپ انتطامیہ کمزور انسانی حقوق کے معیار کی موجودگی میں ایک مرتبہ پھر ہتھیاروں کی فروخت کے سیلاب کو کھول رہی ہے۔خیال رہے کہ دنیا کے ایک سو ایک ممالک اس معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں جبکہ امریکا سمیت دیگر 29 ممالک اس کے دستخط کنندہ ہیں لیکن باقاعدہ طور پر اس میں شامل نہیں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …