اتوار , 16 مئی 2021

پاکستانی جیلوں میں ذہنی امراض میں مبتلا قیدیوں میں اضافہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے مختلف حراستی مراکز میں ذہنی امراض کے شکار قیدیوں کی تعداد میں اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ ملک کی مختلف جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کی تعداد 4 ہزار 6 سو 88 ہے جن میں صرف پنجاب کی جیلوں میں قید ذہنی مریض قیدیوں کی تعداد ایک سو 88 ہے۔

یہ تفصیلات جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال نے ایک پروگرام میں خطاب کے دوران بتائیں جس کا موضوع تھا ‘قید میں ذہنی صحت کی سہولیات’۔یہ پروگرام نیشنل اکیڈمی فار پریزنس ایڈمنسٹریشن اور انٹر نیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) اور جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا تھا۔

سارہ بلال کا کہنا تھا کہ ‘ذہنی امراض کا اشکار افراد کیے گئے جرائم کے ذمہ دار نہیں کیونکہ اس صورت میں ان کا ارادہ شامل نہیں ہوتا’۔اس موقع پر ذہنی امراض کی ڈاکٹر اسما ہمایوں نے بتایا کہ قید کرنے سے قبل ذہنی امراض کا شکار یا اس کی جانب بڑھنے والے افراد کی نشاندہی کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہوسکتا ہے کہ بہت سے قیدی ذہنی امراض کا شکار نہ ہوں لیکن وہ معذوری کی تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہوں، بہت سے قیدی عام سے ذہنی امراض کا شکار ہوتے ہیں جن کا علاج غیر ماہر افراد بھی کرسکتے ہیں’۔

علاوہ ازیں آئی جی جیل خانہ جات اور جیل سپرنٹنڈنٹس پر مشتمل پینل نے ذہنی امراض کا شکار ہونے والے قیدیوں کو سنبھالنے، جیل میں قیدیوں کے ذہنی امراض کے لیے علاج، فرانزک اوررپورٹس کے محدود ہونے اور ذہنی امراض کے علاج کے لیے قانون سازی کے حوالے سے چیلنجز پر بات چیت کی۔

یہ بھی دیکھیں

اسرائیلی ائربیس” حتسریم” بھی حملے کا نشانہ بن گیا

غزہ: فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق القسام بریگیڈ نے اپنے ایک بیان میں ہفتے …