ہفتہ , 8 مئی 2021

پٹرول پمپوں پر ہیرا پھیری کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب میں سرکاری محکموں کے پاس وسائل اور تربیت یافتہ عملہ کی قلت کے سبب پٹرول پمپس پر خریداروں کو ان کی ادا کردہ رقم سے کم پٹرول ڈال کر روزانہ کروڑوں روپے کا ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔حکومت نے آئندہ چند روز میں پنجاب بھر میں کم ناپنے اور تولنے والے کاروباری افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پٹرول پمپس کی مشینوں کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال اور بھاری جرمانوں اور سزاؤں کیلیے قانون میں ترمیم کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔

پٹرول پمپس پر جو طریقہ سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے وہ مشین سے نکلنے والے پٹرول کی کچھ مقدار کو گاڑی میں جانے سے روک کر نوزل میں بچا لینا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ جو طریقہ استعمال کیا جاتا ہے وہ گاڑی کی فرنٹ سکرین صاف کرنے کیلئے وائپر لے کر خریدار کو مخاطب کرنا ہے۔ وائپر والے کے آنے سے پہلے پٹرول پمپ کا ملازم خریدار کو’’زیرو‘‘ میٹر دکھا کر پٹرول ڈالنا شروع کر چکا ہوتا ہے جوں ہی خریدار وائپر والے کی جانب متوجہ ہوتا ہے تو پٹرول ڈالنے والا ملازم مشین کے اندر نصب مخصوص بٹن کو دبا کر میٹر پر پٹرول کی مقدار میں’’جمپ‘‘ لگا کر دو یا تین سو روپے کی ڈنڈی مار چکا ہوتا ہے۔

پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات خواجہ عاطف نے بتایا کہ لاہور میں اس وقت 350 جبکہ پنجاب بھر میں 5500 کے لگ بھگ پٹرول پمپ موجود ہیں، لاہور کی یومیہ پٹرولیم مصنوعات کی فروخت 25 لاکھ لٹر سے زائد ہے جبکہ صوبہ پنجاب میںروزانہ پونے 2 کروڑ لٹر سے زائد پٹرول اور ڈیزل فروخت ہوتا ہے۔

صوبائی وزیر صنعت و تجارت پنجاب میاں اسلم اقبال نے کہا کہ کم ناپنا اور تولنا صرف قانونی اعتبار سے جرم نہیں بلکہ ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ بہت بڑا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے پنجاب بھر میں کریک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جرمانے اور سزائیں بھی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت نے تیل و گیس کی پیداوار کی ریئل ٹائم نگرانی شروع کردی

اسلام آباد: صوبوں کی جانب سے شفافیت کے مطالبات سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت …