جمعہ , 14 مئی 2021

مغربی طاقتوں کی لیبیا میں خانہ جنگی کی اعلانیہ حمایت

(تحریر: فاطمہ محمدی)

لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر گذشتہ چند ہفتوں سے فوجی طاقت کے ذریعے طرابلس فتح کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کی تاکہ اپنے آمرانہ اقدام میں امریکہ کی حمایت بھی حاصل کر سکیں۔ ان سے پہلے مصر میں جنرل السیسی بالکل یہی کام انجام دے چکے ہیں اور فوجی بغاوت کے ذریعے ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں سنبھالے ہوئے ہیں۔ مغربی طاقتیں لیبیا کے اس ریٹائرڈ جنرل سے اپنے تعلقات بڑھا کر وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے درپے ہیں لہذا جنرل حفتر کی بھرپور فوجی مدد کرنے میں مصروف ہیں۔ سابق ڈکٹیٹر معمر قذافی کی سرنگونی کے بعد لیبیا فوجی اور سیاسی قوتوں کے درمیان کشمکش کا میدان بن چکا ہے۔ دوسری طرف مغربی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو نئی خانہ جنگی کا کارزار بنا ڈالا ہے۔ معمر قذافی کو اقتدار سے علیحدہ ہوئے آٹھ برس کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن لیبیا میں اب تک امن و امان قائم نہیں ہو سکا۔ اس وقت بھی اس ملک میں مضبوط مرکزی حکومت نہ ہونے کے باعث طاقت کا خلا پایا جاتا ہے۔

اس وقت لیبیا میں عملی طور پر دو حکومتیں قائم ہیں۔ ایک جنرل خلیفہ حفتر کی سربراہی میں جس کا مرکز طبرق ہے جبکہ دوسری فائز السراج کی سربراہی میں دارالحکومت طرابلس میں براجمان ہے۔ یہ دونوں حکومتیں پورے ملک پر رٹ قائم کرنے سے قاصر ہیں اور محدود علاقوں پر کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے طرابلس میں فائز السراج کی حکومت کو قانونی حیثیت دے رکھی ہے۔ مغربی طاقتوں کی مسلسل مداخلت لیبیا میں ایک مضبوط مرکزی حکومت کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مغربی حکام کو شمالی افریقہ خاص طور پر لیبیا میں جو سب سے بڑی پریشانی لاحق ہے وہ مذہبی اور اسلامی قوتوں کا برسراقتدار آنا ہے۔ وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں لیبیا میں ایک اسلامی حکومت برپا نہ ہو جائے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جنرل خلیفہ حفتر نے لیبیا میں وہی حکمت عملی اپنا رکھی ہے جو مصر میں جنرل عبدالفتاح السیسی نے اپنائی تھی۔ کچھ ہفتے پہلے جنرل خلیفہ حفتر نے مصر کا دورہ کیا ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے ان سے ملاقات میں کامیاب فوجی بغاوت کے اپنے تمام تجربات انہیں منتقل کر دیے ہیں۔ امریکہ اور فرانس کی مدد سے مصر میں کامیاب فوجی بغاوت کا فارمولہ جنرل خلیفہ حفتر کو بھی فراہم کر دیا گیا ہے تاکہ وہ لیبیا میں مصر کی طرز پر ایک اور فوجی حکومت تشکیل دے سکیں۔

جنرل خلیفہ حفتر لیبیا آرمی کے سابق چیف کمانڈر رہے ہیں جو چاڈ کے ساتھ جنگ میں قیدی بنا لئے گئے اور آزادی کے بعد امریکہ چلے گئے تھے۔ انہوں نے مغربی طاقتوں کے بل بوتے پر لیبیا میں فوجی بغاوت کی کوشش بھی کی تھی لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ لیکن اس بار انہوں نے مختلف حکمت عملی اپنائی ہے اور اپنے مقاصد ملک میں خانہ جنگی کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکہ اور فرانس ان کی مکمل حمایت میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف خطے کی رجعت پسند عرب حکومتیں بھی ان کی بھرپور میڈیا اور فوجی مدد کر رہی ہیں۔ ان تمام کوششوں کا مقصد لیبیا میں اسلامی حکومت برسراقتدار آنے سے روکنا اور ماضی کی طرح مصر، لیبیا، تیونس، الجزائر، سوڈان اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک کو اپنی کالونیوں میں تبدیل کرنا ہے۔ امریکہ خطے میں اپنے اتحادی ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مدد سے جنرل خلیفہ حفتر کو بھرپور سیاسی مدد فراہم کر رہا ہے۔ مغربی ممالک کے دو اہم اہداف لیبیا میں انرجی کے ذخائر پر کنٹرول اور مغرب کی جانب نقل مکانی کے رجحان کو روکنا ہے۔ لہذا وہ اس ملک میں جمہوری طریقہ کار سے طاقت کی منتقلی میں رکاوٹیں ڈال کر غیر جمہوری قوتوں کو اوپر لانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

شمالی افریقہ کے ممالک لیبیا، الجزائر اور سوڈان میں ایسے وقت نئی سیاسی کشمکش کا آغاز ہوا ہے جب ایک اور افریقی ملک کانگو جو اسٹریٹجک لحاظ سے اہم تصور کیا جاتا ہے میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش طاقت پکڑ رہا ہے۔ حال ہی میں داعش نے کانگو میں کئی دہشت گردانہ اقدامات انجام دے کر اپنے وجود کا اظہار کیا ہے۔ کانگو کے صدر فلیکس ٹشسکیڈا کئی بار وارننگ دے چکے ہیں کہ داعش شام اور عراق میں عبرتناک شکست کھانے کے بعد اب افریقہ میں نئے اڈے تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ داعش نے اپنے میڈیا ذرائع سے اعلان کیا ہے کہ کانگو اور یوگنڈا کی سرحد پر واقع گاوں کمانگو میں انجام پانے والی دہشت گردانہ کاروائی ان کے افراد نے انجام دی ہے۔ امریکہ، مغربی ممالک اور خطے میں ان کی اتحادی حکومتیں شام اور عراق میں داعش کے توسط سے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں لہذا اب براعظم افریقہ میں اس گروہ کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ کر چکی ہیں۔ یوں وہ اس کالے براعظم کے تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضہ جمانے کے علاوہ اپنا اسلحہ بھی مزید فروخت کر سکتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …