ہفتہ , 8 مئی 2021

اردنی صحافی فلسطینی ‘کاز’ کی حمایت میں سعودی عرب میں پابند سلاسل

انسانی حقوق اور فلسطینی کاز کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی طرف سے سعودی عرب پر فلسطینیوں کی حمایت کرنے والوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ ان دنوں عرب ممالک کے ابلاغی حلقوں میں سعودی عرب میں فلسطینیوں‌ کے حقوق کی حمایت اور صہیونی ریاست کے مجرمانہ مظالم پر تنقید کی پاداش میں قید اردنی صحافی عبدالرحمان فرحانہ کا چرچا ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بار بار فرحانہ کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

عبدالرحمان فرحانہ کو دو ماہ قبل سعودی عرب کےشہر دمام سے نامعلوم افراد نے اغواء‌ کیا۔ یہ اغواء دراصل سعودی انٹیلی جنس اداروں کی کارستانی تھی۔ اس کےبعد سے فرحانہ کی زندگی اور ان کی خیریت کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں ہیں۔ اردن میں عوامی اور ابلاغی سطح پر فرحانہ کی رہائی کے لیے مُہم جاری ہے جب کہ سعودی حکام ابھی تک اس حوالے سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

فرحانہ کی گرفتاری کی پہلی بار خبر گذشتہ منگل کو اس وقت باقاعدہ سامنے آئی جب ان کے ایک قریبی عزیز حلمی الاسمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ’فیس بک’ پر اردنی وزیرخارجہ ایمن الصفدی کے نام مکتوب شائع کیا۔الاسمر نے لکھا کہ سعودی عرب میں گرفتاری کی وجہ ان کا فلسطینی کاز کے لیے بے لوث حمایت کرنا ہے۔ سعودی عرب ایسے لوگوں بالخصوص صحافیوں اور کارکنوں‌ کو چن چن کر گرفتار کر رہا ہے جو فلسطینیوں کی حمایت میں سرگرم ہیں۔ عبدالرحمان فرحانہ کی گرفتاری ان کی قضیہ فلسطین کی بے لاگ حمایت ہے۔

نامعلوم گرفتاری
حلمی الاسمر نے بتایا کہ انہیں استاد عبدالرحمان محمد عبدالرحمان فرحانہ کی گرفتاری کی اطلاع ان کے ایک قریبی عزیز نے دی۔ فرحانہ عمان میں پریس کلب کے رکن ہیں اور ان کا رکنیت نمبر 9571007537 ہے۔ انہیں دو ماہ قبل دمام سے حراست میں لیا گیا اور گرفتاری کے بعد سے اس کے بارے میں کوئی علم نہیں‌ ہے۔انہوں‌ نے بتایا کہ 63 سالہ عبدالرحمان فرحانہ اردنی سے شائع ہونے والے ڈیلی ‘السبیل’ کے نامہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

وہ ذیابیطس کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے عوارض کا بھی شکار ہیں۔ گرفتاری کے وقت انہیں دوائی ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سعودی حکام کے ساتھ جب جب بھی بات اس حوالے سے بات کی گئی تو انہوں‌ نے کوئی مثبت جواب دیا اور نہ ہی تعاون کیا۔ گرفتاری کے بعد سے فرحانہ کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں‌ مل سکی ہیں۔

فلسطینیوں کی حمایت کا الزام
عبدالرحمان فرحانہ کی گرفتاری کا واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دوسری جانب سعودی سماجی کارکنوں‌ نے سعودی عرب میں مقیم فلسطینی صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈائون پر آواز بلند کرنا شروع کی ہے۔بیرون ملک مقیم سعودی تجزیہ نگار سعید بن ناصر الغامدی نے ٹویٹر پر پوسٹ ایک ٹویٹ‌ میں لکھا کہ حالیہ ایام میں سعودی عرب میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے واقعات اور ان کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے فلسطینیوں کو بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا ہے اور ان کے بنک کھاتے تک منجمد کر دیئے گئے ہیں۔

انہوں‌ نے کہا کہ عبدالرحمان فرحانہ سمیت گرفتار کیے گئے دیگر تمام کارکنوں پر فلسطینیوں کی حمایت، القدس کے امور میں دلچسپی رکھنا، غزہ اور اسلامی تحریک مزاحمت’حماس’‌ کی حمایت کرنا ہے۔

خلیجی ممالک کے اخبارات کے مطابق سعودی عرب میں اخوان المسلمون کے نظریات رکھنے والےافراد کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ حراست میں لیے جانے والوں میں صحافی ہیں یا وہ سعودی عرب میں امدادی اداروں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دعوت دین کے لیے کام کرنے والے علماء کو بھی حراست میں لیا جا رہا ہے۔عبدالرحمان فرحانہ کی گرفتاری کے بعد ان کی حمایت میں وسیع پیمانے پر اردن میں عوامی اور ابلاغی مہم جاری ہے۔ اردن میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم اور آزادی صحافت کی علم بردار تنظیموں نے عبدالرحمان فرحانہ کی فوری رہائی اور باعزت وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں فلسطینیوں کے حقوق کے علم بردار اردنی صحافی کی گرفتاری سعودی حکومت کی فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کے دعوئوں‌ پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر سعودی حکومت حقیقی معنوں میں فلسطینی کاز کی حامی ہے تو اسے کسی ایسے صحافی کو حراست میں نہیں لینا چاہیے جو صہیونی ریاست کے جبرو تشدد اور مظالم پر آواز اٹھاتا ہے اور گر اسے حراست میں لیا گیا ہے تو سعودیہ کو وضاحت کرنا ہوگی کہ آیا اسے کیوں گرفتار کیا گیا ہے اور اسے کہاں اور کس حال میں رکھا گیا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …