بدھ , 12 مئی 2021

سول ایوی ایشن کی مختلف ممالک کے ساتھ فضائی معاہدوں پر نظرثانی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے مختلف ممالک کے ساتھ اپنے فضائی سہولت کے معاہدوں (اے ایس ایز) پر نظر ثانی کرنا شروع کردی۔سیکریٹری سی اے اے شاہ رخ نصرت کا کہنا تھا کہ نظر ثانی کا مقصد ان معاہدوں میں ایسی شقوں کو تبدیل کرنا ہے جو مقامی ایئرلائنز کے لیے فائدہ مند نہیں ہیں۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی ایئرلائنز کو پاکستان کی مقامی فضائی حدود دینے سے اندورن ملک سفر کرنے والے مسافر بھی ان ایئرلائنز کی جانب متوجہ ہوں گئے۔

خیال رہے کہ حکومت نے نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2019 کی منظوری دے دی ہے، جسے مساوی فضائی پالیسی بھی کہا جاتا ہے، جس کے تحت دیگر ممالک کے ساتھ اے ایس ایز بھی تبدیلی کے مراحل میں ہے۔سی اے اے ہیڈ کوارٹر کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ رخ نصرت کا کہنا تھا کہ نئی فضائی پالیسی کے نفاذ کے لیے کام تیزی سے جاری ہے جس سے متعلق قواعد و ضوابط پر نظر ثانی کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیاحتی فروغ کے لائسنس کے اجرا کے لیے مطلوبہ شرائط کا مسودہ تیار کیا جاچکا ہے جبکہ سی اے اے کے ریگولیٹر فنکشن کو سروس فراہم کرنے والے کے کام سے علیحدہ کیا جارہا ہے۔سیکریٹری سی اے اے نے بتایا کہ سی اے اے کے امور کو فعال بنانے کے لیے ہدایات جاری کردی گئی ہیں جبکہ فضائی شعبے میں ٹیکسز پر نظر ثانی کے لیے تجاویز بھی تیار کرلی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی اے اے جب مقامی ایئرلائن کو ریلیف فراہم کرے گی تو اسے خسارہ نہیں ہوگا۔سیکریٹری سی اے اے نے بتایا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک بورڈ بنانے کے لیے بھی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ایوی ایشن اور سائٹ کمیٹی (اے او سی) کے پہلے اجلاس کے بارے میں شاہ رخ نصرت نے بتایا کہ اس اجلاس میں پی آئی اے، ایئر بلیو اور سیرین ایئر سمیت فضائی شعبے کے 50 سربراہان نے شرکت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں ایوی ایشن کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر زور دیا گیا جبکہ نئی ایوی ایشن پالیسی کے نفاذ پر بات چیت کی گئی۔شاہ رخ نصرت نے بتایا کہ ہر 3 ماہ بعد اے او سی کا اجلاس بلایا جائے گا کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ ایوی ایشن کے مسائل پر بات چیت کے لیے ایک مشاورتی پلیٹ فارم مہیا کیا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

حکومت نے تیل و گیس کی پیداوار کی ریئل ٹائم نگرانی شروع کردی

اسلام آباد: صوبوں کی جانب سے شفافیت کے مطالبات سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت …