اتوار , 9 مئی 2021

افغان امن عمل: امریکی اور پاکستانی وفود کی ملاقات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی اور امریکی حکام کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے جس میں افغان امن مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی خصوصی مشیر برائے افغان امن مذاکراتی عمل زلمے خلیل زاد اور پرنسپل ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ایلس ویلز آج (بروز پیر) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تھے تاکہ حکومت کے وفد سے ملاقات کی جاسکے جس کی سربراہی امریکا کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری آفتاب کھوکھر کررہے تھے۔

ذرائع کے مطابق دونوں وفود نے افغان امن عمل اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔خیال رہے کہ امریکی اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کو آئندہ کچھ روز میں قطر میں ہونی والے امن مذاکراتی عمل سے متعلق طالبان سے بات چیت کے تناظر میں ہم تصور کی جارہی ہے۔اس سے قبل دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا تھا کہ یہ ملاقات ‘معمول کی دو طرفہ تعلقات اور افغان امن مذاکراتی عمل کے حوالے سے مشاورت کا حصہ ہے’۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان آمد سے قبل زلمے خلیل زاد نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا جب تک طالبان تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتے جو 2001 میں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک میں سامنے آئی ہے۔

یاد رہے کہ زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان آئندہ کچھ روز میں دوحہ کے مقام پر ملاقات متوقع ہے لیکن اس وقت تک امن مذاکراتی عمل تنازع کا شکار ہے کیونکہ گذشتہ ہفتے طالبان نے افغان حکومتی وفد سے ملنے سے انکار کردیا جسے وہ ایک کٹھ پتلی سمجھتے ہیں۔

زلمے خلیل زاد کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن ‘افغانستان میں ہونے والے اخراجات کو ختم کرنا چاہتا ہے اور سیکیورٹی فورسز کو ہونے والے خطرات کو بھی لیکن ساتھ ہی واشنگٹن یہ بھی چاہتا ہے کہ اس طویل جنگ کا اختتام ہو اور وہ یہاں سے ایک اچھی مثال چھوڑ کر جائے۔امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ ’افغانستان میں پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب طالبان خطے کی موجودہ تبدیلیاں کو تسیلم کرلے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر طالبان حکومتی نظام کے پرانے طریقہ کار کو اپنانے کا سوچ رہے ہیں، تو میری ذاتی رائے کہ امن کی گنجائش نہیں بنتی اور جنگ کا سلسلہ جاری رہے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’ہم نے افغانستان میں سے امریکی فوجیوں کی بے دخلی پر تبادلہ خیال شروع کردیا لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے میری تمام تر کوششیں انٹرا افغان مذاکرات کے لیے ساز گار ماحول پیدا کرنے پر مرکوز تھی‘۔زلمے خلیل زاد نے کہا کہ’ واشنگٹن افغانستان میں ہونے والے اخراجات سے چھٹکارہ اور ذمہ دارانہ طریقے سے جنگ بندی چاہتے ہیں تاکہ ساخت برقرار رہے‘۔

یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے افغان حکومت سے مذاکرات سے مسلسل انکار کے بعد امریکا نے افغان امن مذاکراتی عمل کے لیے روس اور چین کی حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔واشنگٹن نے اس اُمید کا اظہار کیا تھا کہ تنیوں ممالک کی جانب سے جاری کیا جانے والا مشترکہ اعلامیہ طالبان کو افغان حکومت کے وفد سے ‘جہاں تک ممکن ہوسکے’ بات چیت کرنے پر حوصلہ فراہم کرے گا۔

اس سے قبل جمعے کو زلمے خلیل زاد نے وزیراعظم کی جانب سے افغان امن مذاکراتی عمل کے حوالے سے دیئے گئے بیان کر سراہا تھا جس میں وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں تشدد میں اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اس سے حیران ہے۔

ایک جاری بیان میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘گذشتہ 40 سال میں افغانستان تنازع کے باعث دونوں، افغانستان اور پاکستان، کو شدید نقصان ہوا ہے’ اور اب طویل انتظار کے بعد افغانستان امن مذاکراتی عمل کے ذریعے خطے میں قیام امن کے لیے ایک تاریخی موقع مل رہا ہے اور پاکستان اس کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس میں آئندہ ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات بھی شامل ہیں اور ان کا مقصد افغانستان کے شہریوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اس منظر نامے میں، پاکستان، افغانستان میں تمام فریقین کی جانب سے تشدد میں اضافے پر تشویش ہے، یہ نام نہاد حملے قابل مذمت ہیں اور امن عمل کی راہ میں مشکلات کا باعث ہوسکتے ہیں’۔

یہ بھی دیکھیں

میزائل تجربے پر تنقید : شمالی کوریا نے اقوام متحدہ پر چڑھائی کردی

شمالی کوریا نے میزائل ٹیسٹ کے بعد پابندیوں کی تجویز پر اقوام متحدہ پر چڑھائی …