ہفتہ , 8 مئی 2021

ویزا پابندی کا معاملہ امریکا کے ساتھ اٹھائے جانے کا امکان

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے کچھ شہریوں پر نئی ویزا پابندیاں عائد کیے جانے کا معاملہ حل نہ ہونے کی صورت امریکی اور پاکستانی حکام مل کر اس کے حل کے لیے کام کریں گے۔میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا، جو بے دخل کیے جانے والے شہریوں کو واپس لینے کے لیے تیار نہیں تھے اور ان پر ویزا پابندیاں لگا دی گئیں تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ ہفتے امریکی فیڈرل رجسٹر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان پاکستانی حکام کو ویزا فراہم نہیں کیا جائے گا جو ملک بدر کیے جانے والے شہریوں کے معاملات کو دیکھتے ہیں۔تاہم اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے نے وضاحت کی کہ پاکستان میں قونصلر آپریشن معمول کے مطابق اور بغیر کسی تبدیلی کے جاری رہے گا۔

امریکی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ‘یہ معاملہ فیڈرل رجسٹر میں نوٹ ہوا ہے جو پاکستان اور امریکی حکومت کے درمیان جاری دو طرفہ بات چیت کا حصہ ہے، ہم اس معاملے کے مخصوص حصوں میں نہیں جانا چاہتے’۔

دوسری جانب پاکستانی حکام نے بھی کچھ ایسا ہی رد عمل دیا، ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد بے دخل کیے جانے والے پاکستانیوں کو واپس لینے کے لیے 100 فیصد مخلص ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ 18 ماہ کے دوران امریکا نے 100 سے زائد بے دخل کیے جانے والے پاکستانیوں کو 2 مختلف فلائٹس کے ذریعے پاکستان واپس منتقل کیا تھا، اس کے علاوہ تیسری فلائٹ آئندہ ماہ کے لیے شیڈول ہے جس میں 50 سے زائد بے دخل کیے جانے والے پاکستانی وطن واپس بھیجے جائیں گے۔

پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ حکومت ان شہریوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے جس کی شہریت کی تصدیق ہوجائے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ جو خود کو پاکستانی شہری ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں ان کے دعوؤں کی تصدیق کے لیے متعلقہ دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

ان دعویداروں میں افغان مہاجرین بھی شامل ہیں جو امریکا جانے سے قبل پاکستان میں مقیم تھے اور وہ ایسے پاکستانی بھی جو کئی نسلوں سے مشرق وسطیٰ کی مختلف ریاستوں میں مقیم تھے۔

پاکستانی حکام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ‘امریکا کی جانب سے ویزا پابندی کا اطلاق اگر ہوا تو وہ وزارت داخلہ کے کچھ حکام پر ہوگا، اس سے شہری متاثر نہیں ہوں گے’۔تاہم واشنگٹن میں موجود سفارتی ماہرین کا کہنا تھا کہ ‘پابندی سے بہت ہی کم تعداد متاثر ہوگی لیکن اس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا جو اس وقت مثبت پیش کی جارہی تھی’۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …