جمعہ , 7 مئی 2021

بھارت جو تبدیلی پاکستان میں چاہتا ہے وہ کبھی نہیں کرسکتا،میجر جنرل آصف غفور

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارت جو تبدیلی پاکستان میں چاہتا ہے وہ کبھی نہیں کرسکتا لیکن ہم نے ان میں تبدیلی کردی ہے۔راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال، پاک- بھارت کشیدگی اور دیگر امور پر بات چیت کررہے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میں آپ کو ماضی کا کچھ حوالہ دوں گا اور پھر آپریشن رد الفساد کی کارکردگی سے متعلق بات چیت کروں گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت سے کشیدگی سے متعلق 22 فروری کو بات چیت کی تھی جب انہوں نے ہم پر پلوامہ کے الزامات عائد کیے تھے، میں نے اس وقت وجوہات کا ذکر کیا تھا کہ پاکستان کس طرح اس حملے کے ساتھ ملوث نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے تحقیقات کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں، اس کے بعد 26 فروری کی صبح انہوں نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جسے ہم نے ناکام بنایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں میں نے نوٹس بھی دیا تھا کہ اب ہمارے جواب کا انتظار کریں کیونکہ میرا مطلب تھا کہ ہم جواب دینے کے لیے مجبور ہوں گے،27 فروری کو بھرپور جواب دینے کے بعد ان کے 2 جہاز گرانے اور ایک پائلٹ گرفتار کرنے کے بعد بات چیت کی اور تفصیلات بتائی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ آج 27 فروری کو گزرے 2 ماہ ہوگئے لیکن بھارت ان گنت جھوٹ بولے جارہا ہے، ہم نے ذمہ دار ملک کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی لفظی اشتعال انگیزی کا بھی جواب نہیں دیا، یہ نہیں کہ ہم جواب نہیں دے سکتے، وہ جھوٹ بولیں اور ہم ان کا جواب دیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جھوٹ کو سچ کرنے کے لیے بار بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے، سچ ایک مرتبہ کہا جاتا ہے تو ہم نے ان کے ان جھوٹوں کا بھی جواب نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے ان کو بار بار جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے، حقیقت یہ تھی کہ پلواما میں ایک واقعہ ہوا اور وہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا پولیس کے خلاف اس قسم کے حملے وہاں 3،4 سال سے جاری ہیں،اسی قسم کے واقعات ایک مقامی ایکشن کے طور پر پولیس کے خلاف پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کی فضائی کارروائی ناکام بنائی، ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ ہم نے میڈیا کو بھی اس جگہ کا دورہ کروایا اور اگر اب بھی انہیں تسلی نہیں تو بھارت اپنا میڈیا یہاں بھیج دے۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ نے بھارت کے 2 طیارے گرائے لیکن بھارت جھوٹ بولتا رہا لیکن ہم نے ان کے جھوٹ کا جواب نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا کوئی جھوٹ ثابت نہیں ہوا، انہوں نے ہمارے ایف 16 گرانے کا دعویٰ کیا جبکہ ایسا کچھ تھا ہی نہیں کیونکہ جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔

بالاکوٹ پر بھارتی دعووں پر ان کا کہنا تھا کہ آپ نے رات میں کارروائی کی کوشش کی ہم نے دن میں کارروائی کی اور جہاں ہمارے میزائل گرے وہاں کون موجود تھا یہ بھی بتایا جائے، آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کا رویہ تبدیل کرنا ہے لیکن آپ تو یہ نہیں کرسکے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم نے آپ میں تبدیلی ڈال دی ہے لیکن کو آپ ہمارے اندر تبدیلی ڈالنا چاہتے ہیں وہ کبھی نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے جو کردار ادا کیا اگر وہ نہ کرتا تو آج مشرق پاکستان الگ نہ ہوتا جبکہ ہمارے میڈیا نے ذمہ داری کا ثبوت دیا لیکن آپ کے میڈیا کو رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی 25 سے 30 سال کے درمیان ہے، ان بچوں نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد ملک میں دہشت گردی، آپریشن اور امن و امان کی صورتحال دیکھی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا، ہماری جی ڈی پی بہت اچھی تھی، ہمارے یہاں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر تھی، بین المذاہب ہم آہنگی تھی لیکن پھر ایسا ہوا جس کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات ہوئیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ 4 ایسی وجوہات ہیں جس سے یہ سب ہوا، پہلا یہ کشمیر کا معاملہ کیونکہ کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے اور یہ ہمارے نظریے کے ساتھ ہے، ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ کشمیر کو ہم نے آزاد کرانا ہے، اس کے لیے کئی جنگیں ہوئیں، دوسرا یہ پاکستان کی ایک جغرافیہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطے میں افغانستان میں 40 سال سے پہلے سوویت یونین آئی پھر نائن الیون کے بعد امریکی فورسز آئیں تو خطے کے اندر بین الاقوامی پراکسیز چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں 1979 کے بعد افغان جنگ کے ساتھ ایک جہاد کی ترویج شروع ہوئی، ساتھ ہی ایران میں انقلاب آیا جس کا ہمارے معاشرے پر یہ اثر ہوا کہ مدرسے بڑھنے شروع ہوگئے ان میں جہاد کی تر ویج زیادہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جو جنگ چل رہی تھی اسے جائز قرار دے کر اس حساب سے فیصلے لیے گئے اور اس طریقے سے پاکستان میں ایک جہاد کی فضا قائم ہوگئی، اس کے علاوہ خطے میں دوسری پراکسیز تھیں، سعودی عرب اور ایران ان کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے اور عسکریت پسندی اور انتہا پسندی ہمارے معاشرے میں شامل ہونا شروع ہوگئی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ11 ستمبر کے بعد جب عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا اس سے ہمارے خطے میں طاقت کی بنیاد پر مقابلہ جیوپولیٹیکس کے ساتھ ساتھ جیو اکانومی پر بھی شروع ہوگئی، امریکا کے اپنے مفادات ہیں، چین کے اپنے، بھارت کے اپنے اور ہمارے اپنے مفادات ہیں تو بین الاقوامی قوتوں نے چاہا کہ ان کی سوچ اور ان کے فائدے کے مطابق پاکستان کی پالیسی بنانے پر مجبور کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس حساب سے ایک ماحول بنتا ہے کہ کس طریقے سے بین الاقوامی قوتیں اس فریم ورک میں لانے کے لیے کوشش کرتی ہیں طاقت کے کیسے حربے استعمال کرتے ہیں، کس کس قسم کے حملے ہوتے ہیں جنہیں ہم ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار کہتے ہیں وہ چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں جو اسلام کے خلاف باتیں شروع ہوئی ہیں، اس پر یہاں کے عوام کے دل میں درد ہوتا ہے، ان چیزوں کی وجہ سے 4 دہائیاں پاکستان کو اس دہانے پر لے کر آئیں۔

ان تمام چیزوں پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان میں جب دہشت گردی آئی تو پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 2014 میں نیشنل ایکشن پلان بنایا جبکہ 2016 میں آرمی چیف نے کہا کہ ہم نے جو 40 سال پہلے بویا وہ کاٹا بھی، جس پر کہا گیا کہ فوج نے اپنی غلطی تسلیم کرلی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان بہت عرصہ پہلے فیصلہ کرچکے تھی کہ ہم نے اپنے معاشرے کو انتہاپسندی سے پاک کرنا ہے، جو کالعدم تنظیمیں ہیں ان سے متعلق یکم جنوری کو فیصلہ ہوگیا تھا لیکن مالیاتی مسائل تھے، جس کے بعد فروری میں اس کا دوبارہ اعلان کیا گیا اور فنڈز بھی جاری کیا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ان تنظیموں کا ہسپتال، مدرسے اور فلاحی کاموں کو حکومت نے اپنے زیر اثر لینے کا فیصلہ کیا، پاکستان کا تعلیمی نظام یہ ہے کہ ہمارا نمبر دنیا میں 129 پر ہے اور ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 30 ہزار سے زائد مدرسے ہیں جس میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، جس میں 70 فیصد ایسے مدرسے ہیں جہاں ایک ہزار ماہانہ خرچ ہوتا ہے جبکہ 25 فیصد ایسے ہیں جس میں تھوڑا زیادہ خرچ ہوتا ہے اور 5 فیصد مدرسوں کا انفرااسٹرکچر زیادہ اچھا ہے جہاں 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ خرچ کیے جاتے ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان مدرسوں کو قومی دھارے میں لایا جائے گا اور حکومت نے ان تمام مدرسوں کو وزارت تعلیم میں لانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تمام علما کرام اس بات سے متفق ہیں کہ انہیں قومی دھارے میں لایا جائے اور ایسا نصاب بنایا جائے گا جس میں منافرت کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔

پراکسیز کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس میں اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے، ہمارا دفتر خارجہ بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے، ہم نے پاکستان میں وہ ماحول دینا ہے جس سے سوشل اکنامک سرگرمیاں ہوں۔

اپنی بات چیت کے دوران پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب یہ موومنٹ شروع ہوئی تو سب سے پہلے ان سے میری بات ہوئی، آرمی چیف نے کہا کہ یہ غلط بات بھی کہیں تو ان پر سخت ہاتھ نہیں رکھنا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ان کے 3 مطالبات تھے، پہلا یہ کہ وہاں بارودی سرنگیں ہیں، جن کو ہٹانے کیے 48 انجینئرز کی ٹیم نے 45 فیصد علاقے کو صاف کردیا لیکن اس کے باوجود 101 پاک فوج جوانوں کی شہادت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ چیک پوسٹیں ختم کی جائیں، اس پورے آپریشن کے دوران 6 ہزار پاک فوج کے جوانوں نے جانوں کا نظرانہ دیا، یہ جو پشتونوں کے تحفظ کی بات کرتے ہیں یہ اس وقت کدھر تھے جب لوگوں کے گلے کاٹے جارہے تھے، آج جب بحالی کا کام شروع ہوگیا تو تحفظ کی بات کر رہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ تیسرا ان کا مطالبہ لاپتہ افراد کا تھا، اس سلسلے میں کمیشن بنایا گیا جس کے کیسز سنے جارہے ہیں، یہ مطالبات ان کے نہیں بلکہ ان بھائیوں کے ہیں جو ان علاقوں میں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی ویب سائٹ پر چندے کی تفصیلات دی گئی ہیں لیکن اس تفصیل سے ان کے پاس بہت پیسہ ہے، انہیں این ڈی ایس، را نے کتنے پیسے دیے وہ بتایا جائے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …