ہفتہ , 8 مئی 2021

ایران کے تیل کا محاصرہ

تفصیلات اور ممکنہ نتائج
ہم اپنے گزشتہ مضمون میں کہہ چکے تھے کہ ایران کی معیشت پر موجود دباؤ حقیقی سے زیادہ نفسیاتی ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز بھی یہ نہیں کہ ایران کی معیشت دباؤ کا شکار نہیں یا مزید نہیں ہوگی ۔پابندیاں ایک ایسا ایشو ہے کہ جس کا ایران کو تقریباً نوے کی دہائی سے ہی سامنا رہا ہے کہ جس وقت ملک کا پورا نظام ایک گہرے اور عمیق انقلاب کےذریعے بدلا گیا تھا ،یہ بدلاؤ ایک جامع اور مکمل انقلاب تھا کہ جس کے اثرات ایرانی قوم کی زندگی کے ہر حصے میں دیکھے جاسکتے ہیں ،بلکہ اس انقلاب نے ایک حدتک عالمی سطح پر انسانی معاشرے پر بھی اپنے اثرات مرتب کئے ہیں۔

امریکی موجودہ صدر اور اس کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایران کی معیشت میں مرکز ی کردار کی حیثیت چونکہ تیل کو حاصل ہے لہٰذا وہ ایران کیخلاف ایسے اقدامات کرنا چاہتا ہے کہ اس کی تیل کی فروخت صفر کو جا پہنچے ۔ٹرمپ کی جانب سے یک طرفہ غیر قانونی پابندیوں کا اعلان گذشتہ سال نومبر میں کیا گیا اور اس اعلان میں آٹھ کے قریب ملکوں کو یہ سہولت دی گئی کہ وہ اگلے آٹھ ماہ یعنی 2مئی 2019تک اپنے لئے تیل کے متبادل ذرائع تلاش کریں ۔اسی دوران ٹرمپ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے تیل کی کمی کو عالمی مارکیٹ میں سعودی عرب اور ابوظہبی پورا کریںگے ۔

چند نکات کی جانب توجہ ضروری ہے
الف:ایرانی تیل کی چار اہم مارکیٹیں ہیں کہ جہاں وہ اپنا 95فیصد تیل فروخت کرتا ہے، جن میں چین 35فیصد ،ہندوستان 33فیصد ،یورپ 20فیصد ،ترکی 7فیصد ،جبکہ باقی ماندہ 5 فیصد جاپان اور جنوبی کوریا میں فروخت ہوتا ہے ۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ان چار مارکیٹوں میں فروخت ہونے والے تیل کی مطلوبہ مقدار میں کمی واقع ہوئی ہے خاص کر یورپ کی بہت سی کمپنیوں نے تیل کی خریداری روکی ہے کیونکہ اس کے ڈیل کا کوئی نظام موجود نہیں لیکن یورپ اور ایران کے درمیان اس وقت تجارتی تبادلے کے لئے ایک سسٹم لانچ کیا گیا ہے جو کہ فی الحال پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر کام کررہا ہے جیسے Intex trading exchanges کا نام دیا گیا ہے ۔

امید ظاہر کی جارہی ہے کہ سوئفٹ سے بچنے کے لئے قائم کردہ یہ نظام آگے جاکر مزید فعال ہوگا اور کمپنیوں کے اعتماد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا ،گرچہ سیاسی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس پر پورا بھروسہ کیا جانا ابھی تک ممکن نہیں .

ہندوستان اور جنوبی کوریا میں ایرانی تیل کی ترسیل کا سلسلہ بتدریج رک سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک اس وقت متبادل ذرائع کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں ،جبکہ چین کیونکہ کھل کر امریکی یک طرفہ پابندیوں پر تنقید کرچکا ہے اور یہ ظاہر کرچکا ہے کہ اس کا کوئی ارادہ نہیں کہ وہ تیل کی اس مقدار میں مزید کمی کرے ۔

ب:مئی کے بعد جن جن مارکیٹوں میں ایرانی تیل کی فروخت ہوگی یقیناً ان مارکیٹوں میں یہ تیل عالمی قیمت سے بہت کم قیمت پر فروخت ہوگا ۔

جیسا کہ ایران میں ڈاکٹر روحانی کی حکومت کی جانب سے پیش کردہ سن 2019-2020بجٹ میں بھی تیل کی قیمت کو 50سے 54ڈالر فی بیرل کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔واضح رہے کہ ایرانی بجٹ کا 33فیصد حصہ تیل پر انحصار کرتا ہے جوکہ 112 ارب ڈالر ہے .

ڈاکٹر روحانی کی حکومت کا خیال ہے کہ وہ اگلے بارہ مہینے میں تیل سے کم ازکم 21ارب ڈالر حاصل کریںگے، انکے خیال میں وہ روزانہ دس لاکھ سے پندرہ لاکھ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب ہوپائیںگے ۔

عالمی بینک کا خیال ہے کہ ایران میں کساد بازاری ضرور ہوگی کیونکہ اس وقت ایران کی جی ڈی پی میں 3.8فیصد کمی دیکھنے کو آئی ہے لیکن اس کے باوجودماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی معیشت تباہی کے دہانے پر نہیں ہوگی ۔

جس کی بنیادی وجہ ایران کا وہ طویل ماضی ہے ،خاص کر سال 2012سے سال 2016تک کا کٹھن عرصہ بھی ہے جس کو ایران نے بڑی آسانی کے ساتھ گزارا ہے ،ماہرین کہتے ہیں کہ ایرانی پابندیوں کی رکاوٹوں کو عبور کرنا جانتے ہیں اور اب ان کے پاس اس کا ایک وسیع تجربہ موجود ہے ۔

ج:گھوسٹ ٹینکروں کے بیڑے
وسیع و عریض سمندروں میں روزانہ ایسے سینکڑوں جہاز چلتے ہیں جن کے بارے کوئی اس قدر تفصیلات سے واقف نہیں ہوتا اور انہیں گھوسٹ ٹینکروں کے بیڑے کہا جاتا ہے جو جہاں ضرورت پڑے اپنے خودکار سسٹمAutomatic Transmitter Identification System کو بند کردیتے ہیں اور اپنی منزل کی جانب چلتے بنتے ہیں ۔ایسے ممالک اور کمپنیوں کی کوئی کمی نہیں جو بلیک مارکیٹ میں عالمی مارکیٹ سے سستا تیل خریدنے کے لئے بیتاب رہتی ہیں۔

د:بہت سے ممالک کہ جن میں روس ،چین ،یورپی یونین سے مربوط ممالک ،عراق ،شام ،پاکستان ،افغانستان ۔۔۔شامل ہیں، ایران کے ساتھ چھوٹے بڑے پیمانے پر مختلف قسم کی تجارت رکھتے ہیں اور رکھنا چاہتے ہیں جو نہ تو ماضی میں کبھی بند ہوئی اور نہ آئندہ بند ہوسکتی ہے ۔

جب ہم تجارت کی بات کرتے ہیں تو یہاں دو پہلو اہم ہیں ایک وہ تجارت جو قانونی یا عام راستوں سے انجام پاتی ہے اور دیگر وہ تجارت جو سستی مگر گھوسٹ راستوں یا انداز سے انجام پاتی ہے ۔

ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس کے تجارتی راستوں میں روکاوٹ ڈالی گئی تو وہ بھی ایسے اقدامات اٹھاسکتا ہے جس سے عالمی تیل کی تجارت ڈسٹرب ہوگی جیسے آبنائے ہرمز پر سختی یا پھر بندش ۔۔۔
ظاہر ہے اس قسم کی خبر سے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں زبردست قسم کا چڑھاؤ آجائے گا ۔یہاں یہ نکتہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا عالمی مارکیٹ سے ایران کے تیل کی سپلائی کی غیر موجودگی قیمتوں میں تلاطم ایجاد نہیں کرے گی ؟

چند نکات کی جانب توجہ ضروری ہے ۔
الف:ٹرمپ کا کہنا تو یہ ہے کہ سعودی عرب و ابوظہبی تیار بیٹھے ہیں کہ اس کمی کو پورا کریں لیکن کیا یہ عملی طور پر ممکن بھی ہے یا یہ صرف ایک سیاسی و تشہیراتی پروپیگنڈہ ہے ۔
سعودی عرب اور ابوظہبی کچھ مہینوں کے لئے تو شائد ایک حد تک اپنی پیداوار بڑھاسکیں اور قیمتوں کو برقراررکھنے کو کوشش کی جائے لیکن ایک طولانی عرصے کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ گرم موسم میں تیل کی پیداوار سعودی عرب میں کم ہوجاتی ہے، جس کی وجہ Cooling devices کو آن کرنے کے بعد سعودی آئیل پروڈکشن سسٹم کی پرفارمنس میں کمی واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا روازنہ کم ازکم دس لاکھ اضافی بیرل کی پیداوار ایک مشکل کام ہوگا ۔

دوسری جانب سعودی عرب کی مقامی ضرورت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ آئیل ریفائنری بھی لگا چکا ہے ،جہاں مختلف قسم کی پٹرولیم مصنوعات بنتی ہیں ظاہر ہے کہ اسے ان کارخانوں کی بھی مطلوبہ مقدار کو پورا کرنا ہے ۔

ب:ابوظہبی بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے کہ جس کی مجموعی پیداوار33لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ نہیں ہے کہ جس میں سے تقریباً دس لاکھ اس کی اپنی داخلی ضرورت ہے ۔

ج: مئی میں اگر اضافی پابندیاں لگتی ہیں تو اس کا فوری نفسیاتی اثر تیل کی مارکیٹ پر پڑے گا اور قیمتیں یکدم اوپر جاسکتی ہیں کہ جنہیں واپس پرانی جگہ پر بحال کرنے میں زیادہ وقت درکار ہوگا ۔امریکہ کی اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایران کیخلاف جاری اقتصادی جنگ میں ایرانیوں کے لئے نیا کچھ نہیں ہوگا لیکن اب اس جنگ کے جو اثرات دنیا کی معیشت اور خاص کر کمزور معیشت کے حامل ممالک پر پڑیںگے کہ جس کا نتیجہ مجموعی طور پر عالمی معیشت پر منفی اثرات کی شکل میں نکلے گا، کیا اسے دنیا برداشت کرسکے گی ؟اور اگر خدا نخواستہ مسائل مزید تناؤ اور بحران کی شکل میں ڈھل جاتے ہیں تو ا س صورت میں کیا ہوگا ؟

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …