جمعرات , 13 مئی 2021

جبری گمشدگان کی بازیابی کی تحریک کا دھرنا

(تحریر: ارشاد حسین ناصر)

ایسا لگتا ہے کہ ہماری ملت کا موسم ٹھہر سا گیا ہے، عرصہ ہوا ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے، تبدیلی کے جھانسے ملتے ہیں مگر تبدیلی نہیں آتی۔ امن کا راگ الاپا جاتا ہے، امن جھلک دکھلا کے کہیں گم ہو جاتا ہے۔ ہم بہلائے جاتے ہیں، مگر پھر ستائے جاتے ہیں، کیا عجب ہے کہ ہم خون میں نہلائے جاتے ہیں اور بے جرم و خطا اٹھائے بھی جاتے ہیں۔ کیسی بے بسی ہے کہ ہمارے لوگ اپنے پیاروں کی ایک جھلک دیکھنے بلکہ ان کی زندگی کے آثار دیکھنے کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں، کوئی بتلا دے کہ انکا پیارا زندہ ہے، کوئی یہ خوشخبری سنا دے کہ وہ جی رہا ہے، کوئی امید دلا دے کہ ان کے لاڈلے کی سانسوں کی ڈور چل رہی ہے، کوئی معصوم، کم سن بچیوں کو دلاسا دے دے کہ ان کا بابا کسی شام اچانک سے گھر میں داخل ہو جائے گا اور تمھاری گالوں پہ بوسہ دے گا۔ کوئی بوڑھی ماں کو بتا دے کہ وہ اپنے جگر گوشے کو سانسوں کی ڈور کٹنے سے پہلے دیکھ پائے گی۔

کیا عجیب دنیا ہے، کیسے انصاف کے چیمپئن بنتے ہیں، شرم نام کی کوئی چیز نہیں جن میں، احساس تو ان کے پاس سے نہیں گذرا، بھلا وہ منظر کیسا ہوگا کہ جب ایک بوڑھی ماں نے اس وقت کے ٹارزن چیف جسٹس کو روک کے پوچھا کہ میرے بیٹے کے مرنے یا جینے کی خبر ہی بتا دیں، تاکہ میں ایصال ثواب کی مجلس ہی کروا سکوں۔ کتنا بے ضمیر تھا جسے ایسا دردناک منظر بھی ہلا نہ سکا اور اس نے الٹا ان درد کی ماری خواتین کو توہین عدالت کی دھمکی دے ڈالی، تاکہ یہ خاموش ہو جائیں۔ آج کفن پوش بوڑھی مائیں اور کم سن بیٹیاں، جوان بہنیں اور درد کی ماری مائیں، میدان میں اتر آئی ہیں اور کراچی میں صدر مملکت کے گھر کے باہر دھرنا دے دیا ہے۔ میں نے تو ایک مہینہ ہوا یہی لکھا تھا کہ اب زلزلہ برپا کرنا پڑے گا، اپنے پیاروں کو بازیاب کرنے کیلئے، اپنے بے گناہ مقتولوں کے خون کا حساب لینے کیلئے۔

اپنے منظر نامے کو بدلنے کیلئے حکمرانوں کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کرنا پڑتا ہے، اگر حکمرانوں کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کرنے والے نہ ہوں تو عوامی طاقت سے شاہراہوں پہ باہر نکلنا پڑتا ہے، اپنی آواز کے آہنگ کو بلند کرنا پرتا ہے کہ حکمرانوں کے کان بہت میلے ہوتے ہیں اور اس ملک کے اصلی حکمرانوں کے کان تو بہت زیادہ میلے ہیں۔ ان تک آواز بلند کرنے کیلئے تو بہت شدت سے چیخنا پڑے گا، جبری گمشدگان اور شہداء کے خانوادے کے لوگ جس جذبے کیساتھ میدان میں اترے ہیں، خدا اس کو سلامت رکھے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر بڑے شہروں بالخصوص لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، ڈیرہ اسماعیل خان، سکردو، گلگت، ملتان اور پشاور وغیرہ میں بھی ان خانوادگان شہداء کی حمایت میں دھرنے دیئے جائیں اور اس آواز کو ملک و بیرون ملک تک پہنچایا جائے۔

ملکی میڈیا اگرچہ ہمارے اداروں کے کنٹرول میں ہے، مگر جب ایک تحریک ملک گیر سطح پر نظر آئے گی تو عالمی میڈیا اسے ضرور کور کرے گا، جس سے یقیناً حکمرانوں اور پھر بااختیار و مقتدر حلقوں کو مجبور کیا جا سکے گا کہ وہ جبری غائب کیئے گئے بے گناہوں کو سامنے لائیں، اس سے قبل کراچی میں چلنے والی اسی تحریک کی وجہ سے کئی نوجوانوں کو سامنے لایا گیا ہے، جبکہ کئی ایک پر ناجائز طور پہ اندھے قتل ڈال دیئے گئے ہیں۔ ذرا سوچیں تو سہی کہ کسی گھر کا جوان گذشتہ چھ برس سے اٹھایا گیا ہے اور آج تک اس کی کوئی خبر نہیں، کسی گھر کا واحد کفیل تین برس سے غائب کیا گیا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں، کسی ماں باپ نے اپنے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوائی، ان کے خواب پورے ہونے کے دن آئے تو ان کی آس و امید کو ان سے چھین لیا گیا۔

یہ سب کچھ سننا شائد آسان ہو مگر جن پر بیت رہی ہے، ان سے کوئی پوچھے ان کے دن بلکہ ایک ایک لمحہ کیسے گھٹ گھٹ کے گذرتا ہے، یہ لوگ ہر لمحہ جیتے ہیں اور ہر لمحہ مرتے ہیں، خفیہ اداروں کا ایسا خوف و دہشت بنائی گئی ہے کہ کوئی رشتہ دار اور عزیز بھی ان کے قریب نہیں پھٹکتا، مبادا ان کا نام بھی نہ آجائے اور وہ بھی کسی ان دیکھی مصیبت میں پھنس نہ جائیں۔ ایسے حالات میں جینا کس قدر مشکل اور دشوار ہوتا ہے، کیسے مایوسی کے بادل آپ کو گھیرتے ہیں، یہ تو صرف جبری گمشدگان کی فیملیز ہی جانتی ہیں۔ ویسے تو پورے ملک کے لوگ جھوٹے اور غلط الزامات کے تحت اٹھائے گئے ہیں، مگر کراچی میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے، افسوس کہ کراچی جیسے شہر میں ہی ہمارے انتہائی قیمتی افراد بے گناہ مارے گئے، مگر ان کے قاتل آزاد پھرتے ہیں بلکہ بعض تو حکومتی سرپرستی اور اسکواڈ میں چلتے ہیں۔

علی رضا عابدی سابق ایم این اے، خرم ذکی سوشل ورکر، کئی علماء کرام، شعرائے کرام، وکلاء، ڈاکٹرز کے قاتل کھلے عام پھرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایک مخالف فرقے کے عالم دین جن پر قاتلانہ حملہ ہوا اور خود انہوں نے کہا کہ ان پر حملہ مخالف فرقے کی سازش نہیں بلکہ عالمی کردار ملوث ہیں، ان پر حملے کو بہانہ بنا کر پوری ملت پر یلغار کر دی گئی۔ کراچی کی شیعہ آبادیوں سے چادر اور چار دیواری کا تقدس پائمال کرتے ہوئے سادات و غیر سادات گھرانوں سے بیسیوں جوانوں کو اٹھا لیا گیا، بہت سوں کو پرانے کیسز میں ملوث کر دیا گیا ہے اور بہت سے غائب ہیں، اس کیساتھ ساتھ کراچی کی کئی امام بارگاہوں پر حملے بھی کروائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح کوئٹہ و بلوچستان کی صورتحال ہے، جہاں سینکڑوں افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے والا دہشت گرد آزاد چھوڑ دیا گیا اور اس نے آتے ہی ہزار گنجی میں معصوم سبزی فروش ہزاروں کو چن چن کے قتل کروایا۔

اس قتل و غارت کے خلاف بھی کوئٹہ میں بھرپور احتجاج ہوا، سیاسی قیادتیں اور حکمران پہنچے مگر احتجاج کرنے والوں نے کسی کو اہمیت نہ دی اور بالآخر صدر مملکت وہاں گئے تو کچھ یقین دہانیاں کروائی گئیں اور دھرنا ختم ہوا۔ اب اہل کراچی نے بھی ہر دروازہ کھٹکٹا لیا ہے، یہ لوگ وزیراعلیٰ، گورنر اور چیف جسٹس تک سے مذاکرات کرچکے ہیں، ان کی شنوائی نہیں ہوئی۔ اب کراچی میں صدر مملکت عارف علوی کے کیمپ آفس پہ دھرنا دیا گیا ہے اور ابھی تک کسی سے بھی مذاکرات نہیں کئے گئے بلکہ ورثاء کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو لیکر اٹھیں گے، مذاکرات بھی صرف صدر مملکت سے ہونگے، اگر ایسا ہو جائے تو کیا ہی بات ہے، پاکستان عملی طور پہ جنگل کا قانون ہے، یہاں لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے، طاقت کے مراکز سے کوئی بات منوانا ہو تو اس قسم کی تحریک اور بابصیرت قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، ہمیں امید ہے کہ دھرنا دینے والوں کی قیادت کرنے والے اس تحریک کو بصیرت اور سمجھداری سے آگے بڑھائیں گے اور مشکلات و مسائل میں گھری ملت اور دربدر پھرنے والے متاثرین خاندانوں کی امید کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …