جمعہ , 7 مئی 2021

‘اب وقت ختم ہوا’،آرمی کی پی ٹی ایم رہنماؤں کو تنبیہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت ختم ہوا اور ساتھ ہی ان سے 5 سوال پوچھے ہیں جن کے جواب قانونی دائرے میں رہ کر مانگنے کا اعلان بھی کردیا۔راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ملک کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال، پاک-بھارت کشیدگی، پشتون تحفظ موومنٹ، مدارس اور دیگر امور پر بات چیت کی۔

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب یہ موومنٹ شروع ہوئی تو سب سے پہلے ان سے بات ہوئی تھی اور اس وقت آرمی چیف نے کہا تھا کہ یہ غلط بات بھی کہیں تو ان پر سخت ہاتھ نہیں رکھنا کیونکہ یہ ان نوجوان کی بات کرتے ہیں جنہوں نے شروع سے جنگ دیکھی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے ساتھ ملاقات ہوئی تو محسن داوڑ نے اگلے دن کہا کہ آپ نے اعلان کردیا ہے، ان کی محسن داوڑ اور ان کے رہنماؤں سے بات چیت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ان کے 3 مطالبات ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ قبائلی علاقوں میں بارودی سرنگیں (مائنز) ہیں چونکہ ان علاقوں میں جنگ ہوئی ہے، وہاں دیسی ساختہ بم پڑے ہیں، یہ جائز مطالبہ تھا، اس پر ہم نے کام بھی کیا اور 48 ٹیمیں تعینات کیں اور انجینئرز نے 45 فیصد علاقے میں مائنز کو صاف کردیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج جن علاقوں کو کلیئر کروانے جاتی ہے وہ علاقے موت ہیں اور اس حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی گئی کہ یہاں دیسی ساختہ بم موجود ہیں یہاں کا رخ نہ کریں، بچوں اور جوانوں کو بتایا گیا کہ اس کی ساخت کیا ہے، نظر آئے تو اسے ہاتھ نہ لگائیں اور ہمیں اطلاع دیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ جب سے ان 48 ٹیموں نے یہ کلیرنس آپریشن شروع کیا ہے اس کے باوجود پاک فوج کے 101 جوان شہید ہوئے ہیں، یہ کس لیے شہید ہوئے، یہ سب اپنا کام کرتے ہوئے شہید ہوئے لیکن اس لیے کام کیا کیونکہ مطالبہ بھی جائز تھا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کا دوسرا مطالبہ چیک پوسٹ سے متعلق تھا، وہاں چیک پوسٹیں پاک فوج کی ہوتی ہیں اس میں ہم یہ نہیں کہتے کہ اس صوبے کا فوجی ہے، ان آپریشنز کے دوران 6 ہزار سے زائد فوجی شہید ہوئے وہ تمام کسی ایک صوبے کے نہیں تھے، ان میں کراچی کا جوان بھی تھا، سیالکوٹ کا تھا، لیاری، کشمیر، بلوچستان کا بھی تھا، اس کا خاندان وہاں نہیں تھا، جب اس نے خیبر میں شہادت دی یا اس کا بازو گیا یا وہ چیک پوسٹ پر کھڑا تھا اور دھماکا ہوگیا تو وہ اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے وہاں نہیں کھڑا تھا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہ جو پشتون تحفظ کی بات کرتے ہیں وہ اس وقت کہاں تھے جب وہاں لوگوں کے گلے کٹ رہے تھے اور وہاں فٹ بال کھیلا جارہا تھا، تب محسن داوڑ، منظور پشتین اور علی وزیر کہاں تھے، ذرا پوچھیں ان سے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس وقت تو پاک فوج نے جاکر دہشت گردوں سے لڑائی کی اور انہیں وہاں سے نکالا تھا، آج جب حالات ٹھیک ہوگئے ہیں، جب ترقیاتی کام اور بحالی کا کام شروع ہوگیا ہے تو تحفظ کی بات ہورہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کا تیسرا مطالبہ لاپتہ افراد سے متعلق تھا، یہ ابتدائی طور پر 6، 7 ہزار لاپتہ افراد کی فہرست لے کر آئے، اس پر بہت کام ہوا، اس حوالے سے قانونی طریقے سے جو کمیشن بنا وہ روزانہ کی بنیادوں پر ان کی بات سنتا ہے اور اب یہ فہرست میں تعداد کم ہوگئی ہے جبکہ 2500 کیسز ایسے ہیں جو حل نہیں ہوئے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ 3 مطالبات ان کے نہیں ہیں نہ ہی تکالیف ان کی ہیں، یہ مطالبات اور تکالیف ان پٹھان بھائیوں کی ہیں جو دن رات وہاں رہتے ہیں یہ لوگ تو وہاں رہتے بھی نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج سے زیادہ کس کی خواہش ہوگی کہ وہ علاقے بحال ہوں، وہاں روزگار آئے، لوگ وہاں خوش رہیں کیونکہ وہاں کے مقامی لوگوں کے مسائل جائز ہیں۔اس موقع پر میجر جنرل آصف غفور نے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) سے 5 سوالات کیے۔

پی ٹی ایم سے پاک فوج کے سوالات
انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی ویب سائٹ پر چندے کی تفصیل دی گئی ہے کہ یہ بیرون ملک، جہاں بھی پٹھان مقیم ہیں، ان سے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ جو آپ نے ویب سائٹ پر تفصیل دی ہے اس سے بہت زیادہ پیسہ اکٹھا ہوا ہے؟

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پی ٹی ایم بتائے ان کے پاس کتنا پیسہ ہے اور یہ کہاں سے آیا ہے؟ مالی معاملات سے متعلق 22 مارچ 2018 کو این ڈی ایس نے انہیں احتجاج جاری رکھنے کے لیے کتنے پیسے دیے؟ کہاں دیے اور وہ کہاں ہیں؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ اسلام آباد میں سب سے پہلے دھرنے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ نے پی ٹی ایم کو کتنے پیسے دیے، کس طریقے سے پہنچے اور انہوں نے کہاں استعمال کیے؟ 8 اپریل 2018 کو قندھار میں قائم بھارتی قونصل خانے میں منظور پشتین کا کون سا رشتے دار تھا جو وہ اس قونصل خانے میں گیا، اس سے ملاقات ہوئی ساتھ میں ایک دوست بھی تھا، انہیں کتنے پیسے دیے اور وہ پاکستان کیسے آئے؟ 8 مئی 2018 کو جلال آباد میں قائم بھارتی قونصل خانے نے طورخم میں احتجاجی ریلی کے لیے کتنے پیسے دیے، وہ پیسے کس طریقے سے آئے اور کہاں ہیں؟

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ محمد اسمٰعیل بون ژوندون ٹی وی کا پشتون تحفظ موومنٹ سے کیا تعلق ہے؟ مئی 2018 میں بھارتی سفارت کاروں نے کتنے ڈالر دیے، کس لیے دیے اور کیسے آپ تک پہنچے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پوچھا کہ پی ٹی ایم بتائے کہ حوالہ، ہنڈی کے ذریعے افغانستان سے کتنا پیسہ آرہا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ کابل میں حاجی میر افغان صافی اور دبئی میں نصیر زادران ان دونوں کا پی ٹی ایم سے کیا تعلق ہے؟ کیا وہ آپ کو سپورٹ کرتے ہیں، کیسے کرتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ 31 مارچ 2019 کو ارمان لونی کے جہلم اور پشاور کے جلسے کے لیے این ڈی ایس نے کتنے پیسے دیے؟ وہ پیسے کیسے پہنچے اور کیسے آپ نے استعمال کیے؟ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ مشعل خان کینیڈا سے کابل کیوں آیا ہے؟ پی ٹی ایم اور بلوچ علیحدگی پسندوں کا کیا تعلق ہے؟

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایس پی طاہر داوڑ افغانستان میں شہید ہوتے ہیں، حکومتِ پاکستان، حکومتِ افغانستان سے ان کے جسدِ خاکی کی واپسی کے لیے بات چیت کررہی ہے اور اس کے لیے ایک طریقہ کار ہے لیکن پی ٹی ایم کس بنیاد پر وہاں بات کررہی ہے کہ ہمیں قبیلے کی سطح پر جسدِ خاکی دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کا کام ہے، 2 ممالک کا کام ہے یا آپ کا ذاتی کام ہے؟ کیوں منع کیا گیا کہ طاہر داوڑ کا جسدِ خاکی حکومتی نمائندوں کو نہیں دینا، آپ پاکستان کے ایم این اے ہیں، آپ پر پاکستان کا قانون لاگو ہوتا ہے، آپ کیسے زبردستی سرحد پار کرکے افغانستان جاسکتے ہیں اور ساتھ لوگوں کو بھی لے کر جائیں؟ کون سا قانون اجازت دیتا ہے کہ آپ اشتعال انگیزی کرائیں لوگوں کو پکڑیں ایک جلوس بنائیں اور کہیں کہ مجھے آج افغانستان جانا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ جو اس علاقے میں حکومت یا فوج کے حق میں بولتا ہے وہ مارا جاتا ہے کیوں مارا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کا امیر مفتی نور ولی وہ پی ٹی ایم اور ٹی ٹی پی ایک چیزیں، تحریک طالبان پاکستان، پی ٹی ایم کے حق میں بیان کیوں دیتی ہے؟ ٹی ٹی پی کے خلاف ہم نے آپریشن کیے، اس کے خلاف جنگ کرتے ہوئے ہمارے کئی شہری اور جوان شہید ہوئے، زخمی ہوئے تو ان کا اور پی ٹی ایم کا بیانیہ ایک کیوں بنتا ہے؟ وہ پی ٹی ایم کے حق میں بیان دیتا ہے۔

‘پیسہ کہاں سے آتا ہے’
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ میں نے مالی معاملات کی بات کی، جو بھی اعداد و شمار ہیں، پشتون تحفظ موومنٹ نے آواز اٹھائی کہ وہاں کے لوگوں کو تکلیف ہے، وہاں کے لوگوں کی ترقی ہونی چاہیے، اگر اتنا پیسہ اکٹھا کرلیا ہے اور وہ جائز طریقے سے پوری دنیا کے لوگوں سے چندہ اکٹھا کیا ہے تو سب سے بہتر استعمال تو یہ ہے کہ جہاں ضرورت ہے وہاں پیسہ لگا کر ترقیاتی کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما جو پیسہ اکٹھا کرتے ہیں اور جلسہ کرتے ہیں کوئٹہ میں، لاہور میں، باہر ملک سے 10،10، 15 ،15 لوگوں کو اکٹھا کروا کر پاکستان کے خلاف نعرے لگواتے ہیں،وہ پیسہ جو آپ کے پاس ابھی بھی ہے کیوں نہیں خرچ کرتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کتنے دن عوام کے ساتھ رہتے ہیں وہاں پر پھر آپ ملک سے باہر جاتے ہیں اچھی بات ہے آپ کا حق ہے باہرجانا لیکن آپ ہر اس بندے سے کیوں ملتے ہیں جو پاکستان اور پاکستان کی افواج کے خلاف بات کرتا ہے، کبھی کسی ایسے بندے سے ملے ہیں جو حکومتِ پاکستان، ریاستِ پاکستان اور افواج پاکستان کے حق میں بات کرتا ہو۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہر وہ بندہ جو ہمارے خلاف بولتا ہے اور باہر ہی رہتا ہے پی ٹی ایم والے ان سے ملتے ہیں، ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لورالائی میں ارمان لونی وفات ہوگئے، 800 بچے پولیس میں بھرتی کا امتحان دینے بیٹھے تھے وہاں دہشت گردوں نے حملہ کیا، پولیس اور ایف سی کے 10 جوان شہید ہوئے، ان کی نمازِ جنازہ ہوئی وہ پی ٹی ایم قیادت تو پڑھنے نہیں گئے انہوں نے 8 سو بچوں کی جان بچائی تھی۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان 10 کا جنازہ نہیں پڑھا نہ ہی افغانستان میں ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ہوئی، جب ارمان لونی کی وفات ہوئی تو پی ٹی ایم نے الزام لگایا کہ پولیس اور فوج نے مارا یہاں زخم تھے وہاں زخم تھے، پھر اس کا جنازہ پڑھنے جلوس کی شکل میں اتنی تکلیف کرکے وہاں گئے تو ان فوجیوں کا جنازہ بھی پڑھ دینا چاہیے تھا اور پھر ارمان لونی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی کہ وہ دل کا مریض تھا اور ہارٹ فیلیئر سے اس کی موت واقع ہوئی، پھر کوئی بات نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ارمان لونی کی وفات پر افغان صدر بیان دیتے ہیں، اس پر پی ٹی ایم قیادت کہتی ہے کہ بہت مہربانی آپ نے فوج کی جانب سے ہمارے بندے کے مارے جانے پر بات کی، ہمارے وزیراعظم انہیں کوئی تجویز دیتے ہیں تو پی ٹی ایم ان کے خلاف بیان دیتی ہے، پشتون تحفظ موومنٹ ریاست پاکستان کا حصہ ہے یا افغانستان کا حصہ ہے، پاکستان کی پالیسی پر چلیں گے یا افغانستان کی پالیسی پر۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن سے متعلق جو پی ٹی ایم کے مطالبات تھے ان پر کام ہورہا ہے اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے، پشتون تحفظ موومنٹ، فوج سے کس بدلے کی بات کررہی ہے کہ ہم بدلہ لیں گے لِٹا دیں گے، آپ لِٹا سکتے ہیں فوج کو؟ کوئی ریاست سے نہیں لڑسکتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر آرمی چیف نے پہلے دن یہ بات نہ کی ہوتی کہ بیٹا ان کے ساتھ پیار سے نمٹنا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو پی ٹی ایم ورغلا رہی ہے ہمیں ان کا خیال ہے، ان کی پریشانی، ان کے دکھوں کا احساس ہے ورنہ آپ سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جب آپریشن نہیں ہورہا تھا جو بھی وجوہات تھیں تب سب کہہ رہے تھے کہ آپریشن کریں، اب جب آپریشن ہوگیا تو کہہ رہے ہیں کہ آپریشن کیوں کیا، آپ تب غلط تھے یا اب غلط ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ ہتھیار ساتھ لیں، وانا میں زبردستی داخل ہو کر لوگوں کو دھمکیاں دیں کہ جو فوج کے حق میں بات کرے گا اس کا گھر گرا دیں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پی ٹی ایم جن افراد کے مسائل کو بنیاد بنا کر کام کررہی ہے ، ان مسائل پر پیش رفت سے متعلق میں نے بتایا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم وہاں کے عوام کے لیے ہر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ جو لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، ان کا وقت ختم ہوچکا ہے لیکن آرمی چیف کی ہدایت پر پورا عمل ہوگا لوگوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی غیرقانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہر کام قانونی طریقے سے ہوگا، پی ٹی ایم نے جتنی آزادی لینی تھی لے لی، پشتون تحفظ موومنٹ نے لاپتہ افراد کی فہرست دی تھی اس پر پیش رفت بھی آپ کو بتادی، میری آپ سے درخواست ہے کہ جو ٹی ٹی پی کی افرادی قوت افغانستان میں بیٹھی ہے، ان کی جو بھی تعداد ہے 3 ہزار، 4 ہزار ہمیں وہ فہرست دیں تاکہ میں اس کا تقابلی جائزہ لوں کہ جو لاپتہ افراد کی فہرست آپ نے مجھے دی ہے ان میں سے کوئی بندہ ٹی ٹی پی میں شامل تو نہیں ہے اور جتنی بھی ان کی تعداد افغانستان میں ہے پھر ہم ڈھونڈیں گے کہ باقی لاپتہ افراد کہاں گئے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بہت سی تنظیمیں ہیں جس میں دوسرے ملکوں کے لوگ شامل ہیں ان میں بھی شامل پاکستانیوں کی فہرستیں لادیں ہوسکتا ہے کوئی بھی نہ ہو یا ہوسکتا ہے کچھ ہوں لہٰذا پشتون تحفظ موومنٹ کے بہت وسائل ہیں وہ فہرستیں ہمیں لادیں تاکہ ہم اپنے لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجائیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران پشتو زبان میں بھی گفتگو کی جس میں انہوں نے پختون عوام سے ملک مخالف ایجنڈے پر عمل کرنے والوں پر نظر رکھنے کی بات کی۔

صحافیوں کے سوالات
دوران گفتگو سیکیورٹی صورت حال سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا منظم نیٹ ورک موجود نہیں ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان میں دہشت گرد یا دہشت گردی کی بالکل موجودگی نہیں تو غلط ہوگا ابھی ہمیں بہت کام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنی دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کیا ان کی باقیات سہولت کاروں کی صورت میں موجود ہوں یا وہ تنظیم تبدیل کر دیں یا کل وہ ٹی ٹی پی کے تھے اور آج داعش کے بن جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں داعش کا وجود ہے، ہماری کوشش ہے کہ کسی تنظیم کا نیٹ ورک یہاں منظم نہ ہوسکے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک-افغان بارڈر کا پاک-ایران بارڈر کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتا، افغانستان کی 40 سال کی تاریخ ہے جہاں بہت جنگ ہوئی، دوسری جانب ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر کی سرحد ہے جس پر سیکیورٹی موجود نہیں ہے کیونکہ وہاں خطرہ نہیں ہے لیکن اس سرحد پر بھی اب کچھ جگہوں پر چیک پوسٹ پر باڑ لگائی جائے گی تاکہ دہشت گرد اسے استعمال کرنے کی کوشش نہ کریں۔

لاپتہ افراد سے متعلق پی ٹی ایم سے الیکٹرانک میڈیا پر ہونے والے سوالات پر انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد سے ہمارا دلی لگاؤ ہے ہمارا دل نہیں کرتا کہ کوئی بھی لاپتہ ہو، جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں بہت سے کام ہوتے ہیں، جنگ بڑے رتبے سے ہوتی ہے اور افواج پاکستان اسے فرض سمجھ کر لڑتی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے جلسے میں آپ بھی گئے اور وزیراعظم جب اس عہدے پر نہیں تھے تو وہ بھی گئے لیکن میں نے جو سوالات اٹھائے ہیں اس کا کسی کو نہیں پتا تھا، ان سے کھل کرمیڈیا پر بات ہوسکتی ہے لیکن جو سوشل میڈیا پر بات چیت کرتے ہیں کوئی ایم این اے فوج کے خلاف ایسی زبان کیسے استعمال کرسکتا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ان سوالات پر میڈیا میں مباحثہ نہیں کروائیں گے بلکہ قانونی طریقے سے جواب لیں گے، اس پر میری درخواست ہے کہ آپ ہفتے میں 7 دن شو کرتے ہیں ایک دن مجھے دے دیں، میں موضوع تجویز کرتا ہوں اس پر بات کریں، جوڈیشل اصلاحات پر بات کریں، تعلیمی، پولیس، فاٹا کی بحالی پر بات کریں جو آج تک نہیں ہوا، ہر کوئی مسائل کی بات کرتا ہے ان کے حل کی بات نہیں کرتا۔

ریاستی اقدامات سے پی ٹی ایم کے نظریے کو تحفظ ملنے اور راؤ انوار سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کوئی اعلان جنگ نہیں ہے، ان سے 4، 5 سوالات پوچھے ہیں اور ان سے بات چیت طریقے سے ہوگی۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ میں نے پی ٹی ایم سے ملاقات کی تھی، ان سے فوج، حکومت اور کمیٹیاں بات چیت کرنا چاہتی ہیں اور یہ بھاگ بھاگ کر جرمنی، امریکا جاتے ہیں مسئلہ تو فاٹا اور کے پی میں ہے، انہیں چاہیے کہ یہ کیمپ لگا کر اپنے حلقے میں بیٹھ جائیں اور کہیں کہ یہ مسائل ہیں حکومت میرے پاس آئے فوج آئے، آپ دیکھیں کون نہیں جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تو وہاں جارہے ہیں، کام بھی کررہے ہیں لیکن یہ کہیں اور ہی گھوم رہے ہیں، اگر ان کی دلچسپی مقامی مسائل پر ہے تو وہاں جاتے کیوں نہیں ہیں، لیڈر تو وہ ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کا وہاں بیٹھ کر فیصلہ کرے، مسئلے ہیں تو پھر یہ نعرہ کہاں سے آگیا، کبھی ان کو مشورہ دیا کہ کبھی پوچھا کہ شروع کی 3 باتوں میں راؤ انوار کہاں سے آگیا، ایک جماعت ان کی حمایت کر رہی ہے کہ پی ٹی ایم بالکل ٹھیک کررہی ہے، راؤ انوار تو ان کا بچہ تھا۔

‘کالعدم تنظیموں سے متعلق فیصلہ پہلے ہوچکا تھا’
کالعدم تنظیموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے پوائنٹ 3 میں ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی بات کی گئی تھی حالانکہ اس وقت نہ پلوامہ ہوا تھا اور نہ ایف اے ٹی ایف آیا تھا اور نہ ہی کوئی آئی ایم ایف کا دباؤ تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاست پاکستان نے فیصلہ کیا تھا کہ ہمارے کائنیٹک آپریشنز کامیاب ہورے ہیں تو ہمیں اس حصے کو بھی دیکھنا چاہیے، 2016 میں آرمی چیف نے جرمنی میں بات کی ہم نے جو کاٹا ہے وہ آج سے 40 سال پہلے بویا تھا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات پر بہت بحث ہوئی کہ فوج نے اپنی غلطی مان لی، یہ تو کام ہی غلط ہوا تھا جبکہ آرمی چیف نے کہا تھا کہ ہم نے جو 40 سال پہلے فیصلہ لیا وہ اس وقت کی کال تھی، کس نے منع کیا تھا کہ ان لوگوں کو قومی دھارے میں نہ لایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج جب کالعدم تنظیموں کی بات ہوئی تو لوگ کہنے لگے کہ یہ دباؤ میں کیا جارہا ہے تاہم ریاست پاکستان بہت پہلے یہ فیصلہ کرچکی تھی کہ ہم نے اپنے معاشرے کو عسکریت پسندی اور انتہا پسندی سے پاک کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان بہت عرصہ پہلے فیصلہ کرچکی تھی کہ ہم نے اپنے معاشرے کو انتہاپسندی سے پاک کرنا ہے، جو کالعدم تنظیمیں ہیں ان سے متعلق یکم جنوری کو فیصلہ ہوگیا تھا لیکن مالیاتی مسائل کا معاملہ تھا تھے، جس کے بعد فروری میں اس کا دوبارہ اعلان کیا گیا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت پاکستان نے اس کام کے لیے فنڈز بھی جاری کیا۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان تنظیموں کے ہسپتال، مدرسے ہیں، اگر عسکریت پسندی کی طرف راغب لوگوں کی تعداد 10 فیصد ہے تو باقی 90 فیصد پاکستان میں مقامی طور پر فلاحی کام کررہے ہیں، جسے حکومت پاکستان نے کنٹرول کرنے کے لیے وہ طریقہ کار بنایا ہے کہ جو ایسے ادارے پرتشدد کارروائیوں میں شامل نہیں ہیں انہیں حکومتی عمل داری میں لایا جائے، ان کے اوپر حکومت کا بندہ نظر رکھے گا۔

سرحد پر باڑ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا (کے پی) اور بلوچستان پر یہ کام جاری ہے اور ایک ہزار کلو میٹر کے قریب باڑ مکمل ہوچکی ہے اور اسی رفتار سے جاری رہا تو جلد اسے مکمل کرلیں گے، اس باڑ سے ہمیں بہت فائدہ ہورہا اور سرحد پار حملوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور بارڈر سیل ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری ہوگی۔

پاک-بھارت کشیدگی
پریس بریفنگ کے دوران پاک فوج کے ترجمان نے پاک-بھارت کشیدگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس پر 22 فروری کو بات کی تھی جب انہوں نے ہم پر پلوامہ واقعے کے الزامات عائد کیے تھے، میں نے اس وقت وجوہات کا ذکر کیا تھا کہ پاکستان کس طرح اس حملےمیں ملوث نہیں، ساتھ ہی بھارت کو یہ بھی کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تحقیقات کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کریں، اس کے بعد 26 فروری کی صبح انہوں نے ہماری فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جسے ہم نے ناکام بنایا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں میں نے نوٹس بھی دیا تھا کہ اب ہمارے جواب کا انتظار کریں کیونکہ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ہم جواب دینے کے لیے مجبور ہوں گے، پھر 27 فروری کو بھرپور جواب دینے کے بعد ان کے 2 جہاز گرائے اور ایک پائلٹ گرفتار کرنے کے بعد بات کی اور تفصیلات بھی بتائی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ آج 27 فروری کو گزرے 2 ماہ ہوگئے ہیں لیکن بھارت ان گنت جھوٹ بولے جارہا ہے، ہم نے ذمہ دار ملک کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی لفظی اشتعال انگیزی کا بھی جواب نہیں دیا، یہ نہیں کہ ہم جواب نہیں دے سکتے، وہ جھوٹ بولیں اور ہم ان کا جواب دیں، جھوٹ کو سچ کرنے کے لیے بار بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے جبکہ سچ ایک مرتبہ کہا جاتا ہے تو ہم نے ان کے ان جھوٹ کا بھی جواب نہیں دیا اور ذمہ دار رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے ان کو بار بار جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے، حقیقت یہ تھی کہ پلوامہ میں ایک واقعہ ہوا اور وہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا، پولیس کے خلاف اس قسم کے حملے وہاں 3، 4 سال سے جاری ہیں، اسی قسم کے واقعات ایک مقامی ایکشن کے طور پر پولیس کے خلاف پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کی فضائی کارروائی ناکام بنائی، نہ ہمارا کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان پہنچا، یہ صرف مقامی میڈیا ہی نے نہیں بلکہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی دیکھا، ہم نے تو میڈیا کو بھی اس جگہ کا دورہ کروایا اور بین الاقوامی میڈیا سے کہا کہ بھارت جو یہ کہتا ہے کہ ہم نے انفراسٹرکچر کو تباہ کردیا اور 300 لوگوں کو ماردیا تو اس سے کہیں کہ ایک مرتبہ اس کا ڈیمو دے دیں اگر ایسا ہوگیا تو ہم مان لیں گے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اگر انہیں اب بھی تسلی نہیں ہوئی تو میں کہتا ہوں کہ اپنا میڈیا پاکستان بھیج دیں، میں انہیں سہولت دوں گا کہ جاکر دیکھیں کہ کہاں اسٹرائیک کی؟ تاہم پاک فضائیہ نے بھارت کے 2 طیارے گرائے اور اس کا ملبہ پوری دنیا نے زمین پر دیکھا جبکہ بھارتی فضائیہ نے ہماری فضائیہ کے ڈر سے اپنا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر گرابدیا اور اس کا بلیک باکس بھی گم کردیا۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے اسٹوری بنائی کہ پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے 2 پائلٹ بتائے جو بعد میں ایک ہوگیا تو میں بتادوں کہ جنگ کے دوران ایسی رپورٹس آتی ہیں اور اس وقت 2 کی رپورٹس تھیں تاہم بعد ازاں یہ بتایا گیا کہ ایک ہی پائلٹ کی رپورٹ 2 جگہ سے ہوئی اور میں نے بعد میں اس کی تصحیح بھی کی لیکن بھارت دوسری بات کو ہی لے کر بیٹھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے دعویٰ کیا کہ ہمارا ایف-16 طیارہ مار گرایا ہے، آج کل موٹرسائیکل گرجائے تو خبر نہیں چھپتی ایف-16 تو بہت بڑی بات ہے، بعد ازاں امریکا نے پاکستان کے ایف-16 کی گنتی کی جو سب نے پڑھی، لہٰذا جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے۔

بالاکوٹ پر بھارتی دعوے پر ان کا کہنا تھا کہ آپ نے رات میں کارروائی کی کوشش کی ہم نے دن میں کارروائی کی، آپ نے ایک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے 4 میزائل گرائے، ہم نے 4 ہدف کو انگیج کرنے کے لیے 6 میزائل گرائے، وہ میزائل جس گولہ بارود کے ڈپو کے پاس گرے اس کے بارے میں بتائیں کہ وہ استعمال کے قابل ہے یا نہیں جبکہ ہماری اسٹرائیک جس بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے پاس گئی وہاں کون موجود تھا یہ بھی بتایا جائے، آپ کہتے ہیں کہ پاکستان کا رویہ تبدیل کرنا ہے لیکن آپ تو یہ نہیں کرسکے لیکن ہمارے اچھے رویے کو دیکھتے ہوئے کچھ چیزیں آپ نے شروع کردی ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہمیں اچھا لگتا ہے کہ آپ ہماری اچھی باتیں اپنائیں، آپ کے رویے میں ہم نے تبدیلی ڈال دی ہے لیکن آپ جو رویے کی تبدیلی ہم میں چاہتے ہیں وہ کبھی ممکن نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ جب 28 فروری کو بھارت میزائل کی تیاری کررہا تھا تو اس کے جواب میں دیکھا کہ ہم نے کیا کیا وہ بھی میڈیا کو بتائیے جبکہ اس رات لائن آف کنٹرول پر کیا ہوا اور ہم نے آپ کی کتنی گن پوسٹوں کو نشانہ بنایا، کتنے جوان بھارت کے مارے گئے یہ باتیں بھی سامنے لائیں اور ہم خواہش کرتے ہیں کہ آپ ہمارے اس اچھے پیغام کو دیکھ کر امن کی جانب چلیں گے۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارت میں انتخابات چل رہے ہیں اور اس میں بہت ساری باتیں ہوتی ہیں، ہم نے جوہری باتیں بھی سنیں اور ان کے آرمی چیف نے بھی بات کی تھی لیکن ہم نے کہا تھا کہ جس کے پاس جوہری طاقت ہوتی ہے تو اس کے استعمال کی بات نہیں کی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ جب بات ملکی دفاع اور سلامتی کی بات ہوتی ہے تو تمام صلاحتیں استعمال ہوتی ہیں اور پاکستان بھی ہر صلاحیت کے استعمال کا حق رکھتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیے، اگر بھارت کا دل ہے تو آزما لے لیکن 27 فروری کی ہماری اسٹرائک اور گرنے والے جہازوں کا حساب بھی اپنے ذہن میں رکھیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ آپ ہمارا آزمائشی امتحان نہیں لیں، ہم 20 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی حمایت سے اپنا بھرپور دفاع کریں گے اور 27 فروری کو دہرائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی یاد رکھیں کہ یہ 1971 نہیں ہے، نہ وہ فوج ہے اور نہ وہ حالات اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر اس وقت ہمارا آج کا میڈیا ہوتا تو بھارت کی سازشوں کو بے نقاب کرتا، وہاں کے حالات کی رپورٹنگ کرسکتا، وہاں ہونے والی مقامی زیادتیوں کی رپورٹنگ کرتا تو آج مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ میڈیا نے جو کردار گزشتہ 2 دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور یہ جو 3 دن کی جنگ تھی اس میں ادا کیا، اس سے بہتر ان کا کردار نہیں ہوسکتا، ہمارا میڈیا اسی طرح ذمہ دار رہے گا اور بھارت کے میڈیا کو رویے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

بھارت کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں‘، ساتھ ہی انہوں نے حالیہ حالات میں کامیابی پر اللہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قوم، سیاسی قیادت، میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستانی نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا۔

ملک کی سیکیورٹی صورت حال
ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی 25 سے 30 سال کے درمیان ہے، ان بچوں نے اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد ملک میں دہشت گردی، آپریشن اور امن و امان کی صورت حال دیکھی تو ان کے خیال میں یہی پاکستان ہے، اگرچہ ہم اس جنگ میں کامیاب ہورہے ہیں لیکن بہت سا کام کرنا باقی ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان سوچتے ہوں گے کہ آج کا پاکستان ایسا کیوں ہے، یہاں ایسے حالات کیوں ہوئے؟ 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا، ہماری جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد سے اوپر تھی، روپے کی قدر بہت اچھی تھی، زراعت کا حصہ 42 فیصد سے زائد تھا، بڑے اچھے سوشل معاملات تھے، پولیس بہت موثر تھی، امن و امان کی صورت حال بہت بہتر تھی، بین المذاہب ہم آہنگی تھی ایک ماڈریشن کا دور تھا لیکن پھر کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ پاکستان ان حالات میں چلنا شروع ہوگیا جو آپ آج محسوس کرتے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ماحول کے حساب سے 4 ایسی بنیادی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے آج کا یہ پاکستان ہے، پہلا یہ آزادی کے بعد سے کشمیر کا مسئلہ ساتھ آیا، ہمارا اس کے ساتھ نظریاتی اور اسلامی تعلق ہے، کشمیر ہماری رگوں میں دوڑتا ہے اور یہ ہمارے نظریے کے ساتھ ہے، ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے کہ کشمیر کو ہم نے آزاد کرانا ہے، اس کے لیے 1948، 1965، 1971 اور 1998 کی جنگیں ہوئیں اور یہ کشمیریوں کی حمایت میں ایک مسلسل جدوجہد ہے تاکہ انہیں اپنا حق مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا معاملہ پاکستان کا جغرافیہ ہے، خطے میں افغانستان میں 40 سال سے پہلے سوویت یونین آئی پھر 11 ستمبر کے بعد امریکی فورسز آئیں تو خطے کے اندر بین الاقوامی پراکسیز چل رہی ہیں جس کے نتیجے میں 1979 کے بعد افغان جنگ کے ساتھ ایک جہاد کی ترویج شروع ہوئی، ساتھ ہی ایران میں انقلاب آیا جس کا ہمارے معاشرے پر یہ اثر ہوا کہ مدرسے بڑھنے شروع ہوگئے ان میں جہاد کی تر ویج زیادہ ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں جو جنگ چل رہی تھی اسے جائز قرار دے کر اس وقت کے حساب سے فیصلے لیے گئے اور اس طریقے سے پاکستان میں ایک جہاد کی فضا قائم ہوگئی، اس کے علاوہ خطے میں دوسری پراکسیز تھیں، سعودی عرب اور ایران اور پھر خطے میں ایک فرقہ وارانہ تصادم شروع ہوگیا اور عسکریت پسندی اور انتہا پسندی ہمارے معاشرے میں شامل ہونا شروع ہوگئی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ تیسری وجہ 11 ستمبر کے بعد جب عالمی منظرنامہ تبدیل ہوا اس سے ہمارے خطے میں طاقت کی بنیاد پر مقابلہ جیوپولیٹیکس کے ساتھ ساتھ جیو اکانومی پر بھی شروع ہوگیا، امریکا کے اپنے مفادات ہیں، چین کے اپنے، بھارت کے اپنے اور ہمارے اپنے مفادات ہیں تو بین الاقوامی قوتوں نے چاہا کہ ان کی سوچ اور ان کے فائدے کے مطابق پاکستان کو پالیسی بنانے پر مجبور کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس حساب سے ایک ماحول بنتا ہے کہ کس طریقے سے بین الاقوامی قوتیں اس فریم ورک میں لانے کے لیے کوشش کرتی ہیں طاقت کے کیسے حربے استعمال کرتے ہیں، کس قسم کے حملے ہوتے ہیں جنہیں ہم ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار کہتے ہیں وہ چل رہی ہے۔

چوتھی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جو تصور شروع ہوا ہے اور وہاں 20 کروڑ مسلمانوں کی زندگی خراب ہوئی ہے اور جو اسلام کے خلاف باتیں شروع ہوئی ہیں، اس پر پاکستان کے عوام کے دل میں درد ہوتا ہے کہ وہاں مسلمانوں کی کیا حالت ہے، ان چیزوں کی وجہ سے 4 دہائیاں پاکستان کو اس دہانے پر لے کر آئیں۔

ان تمام چیزوں پر بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب افغانستان میں بین الاقوامی فورسز نے آپریشن شروع کیا تو پاکستان میں دہشت گردی آگئی، پاکستان نے سب سے پہلے کائینٹک آپریشنز کیے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی اور القاعدہ، اے کیو آئی ایس، ٹی ٹی پی، داعش، ازبک جو پاک افغان سرحد سے کارروائی کرتے تھے ان کے خلاف کارروائیاں کیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 11 ستمبر سے اب تک 1237 کائینٹک آپریشنز کیے جبکہ ایک لاکھ کے قریب خفیہ اطلاعات پر آپریشنز کیے، 17 ہزار 531 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جبکہ اس دوران 450 ٹن دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا، تربیت گاہوں کو تباہ کیا اور آج پاکستان میں کسی قسم کا کوئی منظم دہشت گرد انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔

پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ریاست پاکستان نے پالیسی سے متعلق بھی بہت کام کیے، ہم نے انسداد دہشت گردی ایکٹ لایا، فوجی عدالتیں بنائیں، کالعدم تنظیموں پر پابندی لگائیں، بین الاقوامی برداری سے تعاون کیا، 70 ملکوں کے ساتھ خفیہ ایجنسیوں نے معلومات کا تبادلہ کیا، کچھ لوگوں کو گرفتار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سب کی ہم نے قیمت بھی ادا کی اور 81 ہزار پاکستانی شہری اور مسلح افواج کے جوان شہید ہوئے یا وہ زخمی ہوئے اور غازی بنے، یہ ہم نے قیمت ادا کی ہے جبکہ اس کا پاکستانی معیشت پر بہت اثر پڑا اور 300 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ان عناصر میں سے ایک یہ تھا کہ عسکریت پسندی اور انتہا پسندی معاشرے میں آگئی، جب پوری فوج دہشت گردوں کے خلاف کائینٹک آپریشن کر رہی ہے تو ہمیں 3 مرتبہ مشرقی سرحد پر کشیدگی کی وجہ سے جانا پڑا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …