ہفتہ , 8 مئی 2021

’ فوجی عدالتوں اور صدارتی نظام پر موقف نہیں بدلیں گے،جو چاہو کرلو:بلاول بھٹو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے اپنے موقف پر لچک نہ دکھانے کا عزم دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ نے جو کرنا ہے کریں، ہم دھمکیوں اور گرفتاریوں سےڈرنے والے نہیں، فوجی عدالتوں، 18ویں ترمیم اور صدارتی نظام پر موقف نہیں بدلیں گے‘۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’جتنا قرضہ موجودہ حکومت نے لیا ہے پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے نہیں لیا، تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کے 9 ماہ ضائع کردیے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت کو معاشی بوجھ ڈالنا ہے تو امیروں پر ڈالیں، ایسی پالیسی بنائیں کہ جس میں غریبوں پر مزید بوجھ نہ بڑھے‘۔انہوں نے کہا کہ ’موجودہ حکومت امیروں کے لیے ایمنسٹی اسکیم متعارف کراتی ہے جبکہ غریبوں کے لیے مزید مہنگائی کر رہی ہے‘۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ ’غریبوں پر ظلم کرنے والی حکومت کے لیے عوام کی طرف سے ردعمل آئے گا، عوام یہ ظلم کب تک برداشت کریں گے‘۔انہوں نے کہا کہ ’حکومت قرضہ لینے پر خوشی مناتی ہے، اگر پیٹھ پیچھے جاکر آئی ایم ایف کی ڈیل کی جاتی ہے تو اسے ہم اور عوام نہیں مانے گی، آئی ایم ایف کی ڈیل کو پارلیمنٹ میں لانا ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کا کالا قانون اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے، تاجروں کو، ملز مالکان کو اگر اس ہی طرح تنگ کیا جائے گا تو اس صورتحال میں معیشت کیسے چل سکتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’اگر ملک میں 2 کروڑ لوگ ٹیکس دیتے ہیں اور باقی نہیں دیتے تو وہ چور ڈاکو نہیں، کمی بیشی ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں چور، ڈاکو کہا جائے‘۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پرویز مشرف نے سیاسی انتقام کے لیے نیب کا ادارہ بنایا تھا‘۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ’ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے سپاہی ہیں، ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے کارکن ہیں، آپ پوری جماعت کو جیل بھیج دیں، ہم جیل جانے کو تیار ہیں لیکن ہم اپنا اصولی موقف نہیں بدلیں گے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’18ویں ترمیم، صدارتی نظام، فوجی عدالتوں، جمہوریت، میڈیا کی آزادی اور سینسر شپ پر اپنا موقف نہیں بدلیں گے، بھلے آپ پورے خاندان، پوری پارٹی کو جیل بھیج دیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم کسی کی دھمکیوں سے، نیب گردی سے اور گرفتاری سے ڈرنے والے نہیں، ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نیب کو جواب دینا ہوگا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف کیسز میں ان کو نہیں پکڑا جاتا یہ دوغلی پالیسی کیوں ہے؟‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’نیب کو جواب دینا ہوگا کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف کیسز میں ان کو نہیں پکڑا جاتا یہ دوغلہ پالیسی کیوں ہے؟‘۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’وزیر داخلہ داخلی امور پر بیانیہ دیں، وزیر خارجہ خارجی امور پر بیانیہ دیں، سیاسی بیانیہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ذریعے نہیں دلوانا چاہیے ورنہ ادارے متنازع ہوں گے‘۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’راؤ انوار سے متعلق آصف زرداری وضاحت دے چکے ہیں، بات راؤ انوار سے کافی دور نکل گئی ہے، پورا پاکستان جانتا ہے راؤ انوار اکیلا نہیں تھا جو انکاؤنٹرز کر رہا تھا، آج تک پورے پاکستان میں جو انکاؤنٹرز ہورہے ہیں وہ راؤ انوار نہیں کر رہا‘۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …