جمعہ , 7 مئی 2021

2018 : پاکستان ملٹری اخراجات میں سر فہرست 20 ممالک میں شامل

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2018 میں 11 ارب 40 کروڑ ڈالر ملٹری اخراجات کے ساتھ دنیا کے سرفہرست 20 ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔سویڈین کے انسٹیٹیوٹ اسٹاک ہالم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (اسپری) کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2018 میں جی ڈی پی کا 4 فیصد حصہ فوجی اخراجات کیے جو 2004 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان کے فوجی اخراجات جی ڈی پی کا حصہ ہیں اور اس حوالے سے پاکستان دنیا کے سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہے’۔

غیرملکی ادارے کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ملٹری اخراجات میں 2009 سے سالانہ بتدریج اضافہ ہوا ہے اور 2009 سے 2008 کے دوران 73 فیصد اضافہ ہوا ہے اسی طرح 2017-18 میں 11 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ملٹری اخراجات میں دنیا میں سرفہرست امریکا ہے جو ہرسال 649 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے تاہم امریکی فوجی اخراجات میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران 17 فیصد کمی آئی ہے۔

اسپری کی رپورٹ کے مطابق امریکا کے بعد چین اور سعودی عرب کا نمبر آتا ہے جو بالترتیب 250 ارب ڈالر اور 67 ارب 60 کروڑ ڈالر کے اخراجات کرتے ہیں۔فوجی اخراجات میں چوتھے نمبر پر بھارت کا نام آتا ہے جس کے سالانہ اخراجات 66 ارب 50 کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ہیں جو پاکستان کا ہمسایہ ہے اور اکثر تعلقات بھی کشیدہ رہتے ہیں، بھارت کے فوجی اخراجات فرانس، روس اور جرمنی جیسے ممالک سے بھی زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں فرانس کا نمبر بھارت کے بعد آتا ہے جس کے فوجی اخراجات 63 ارب 80 کروڑ ڈالر ہیں جبکہ پانچ ممالک کے فوجی اخراجات دنیا کے تمام ممالک کے فوجی اخراجات کا 60 فیصد ہیں۔بھارتی اخراجات کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘بھارتی ملٹری اخراجات میں 2017 اور 2018 کے دوران 3 اعشاریہ ایک فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا کثیر حصہ پاکستان اور چین کے ساتھ حریفانہ اور کشیدہ تعلقات سے متعلق معاملات پر خرچ ہوتے ہیں’۔

اسپری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں بھارتی ملٹری اخراجات میں اضافے کے باوجود یہ 1960 کی دہائی کے مقابلے میں کم ترین ہے اور بھارت کی جی ڈی پی کا 2 اعشاریہ 4 فیصد ہے۔

یاد رہے کہ بھارت نے 2017 کے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافہ کر دیا تھا، وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 27 کھرب 40 ارب روپے دفاع کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ اس بجٹ میں ریٹائرڈ فوجیوں کی پینشن شامل نہیں ہوگی۔بھارتی حکومت نے مجموعی بجٹ کا 12.78 فیصد دفاع کے لیے مختص کیا تھا اور بھارت کا 18-2017 کے لیے مجموعی بجٹ 214 کھرب روپے تھا۔

ماہرین نے اس وقت بھارتی دفاعی بجٹ میں اضافے پر کہا تھا کہ سویت دور کے طیاروں، اسلحے اور دیگر ساز و سامان کو تبدیل کرکے بھارتی جنگی ساز و سامان کو جدید بنانے کے لیے دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافے کی ضرورت تھی۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …