جمعہ , 14 مئی 2021

راہول گاندھی الیکشن ہار گئے تو سیاست چھوڑ دوں گا، نوجوت سدھو

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست پنجاب کے وزیر اور کانگریس کے رہنما سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے اعلان کیا ہے کہ اگر راہول گاندھی انتخابات ہار گئے تو وہ سیاست ہی چھوڑ دیں گے۔ماضی میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں رہنے والے سابق کرکٹر اور ٹی وی سیلیبرٹی نوجوت سنگھ سندھو کا کہنا تھا کہ اگر کانگریس کے صدر راہول گاندھی ریاست اتر پردیش کے حلقے امیٹھی سے شکست کھا گئے تو وہ سیاست ہی چھوڑ دیں گے۔ہندوستان ٹائمز کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ بھارتی عوام کو حب الوطنی سونیا گاندھی سے سیکھنی چاہیے۔

انہوں نے سونیا گاندھی کو ان کے شوہر راجیو گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس کی سب سے اہم رہنما بھی قرار دیا اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت کی زیادہ تر معاشی ترقی کانگریس کے دور میں ہی ہوئی۔نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایئر کرافٹ سے لے کر ہر چیز کانگریس کے دور میں بنائی اور بھارت کی 70 سالہ معاشی ترقی میں کانگریس کا بڑا کردار ہے۔

نوجوت سنگھ سندھو کا کہنا تھا کہ بھارت میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جو بھی بی جے پی کے ساتھ ہوگا وہی حب الوطن ہوگا جب کہ دیگر پارٹیوں کے حمایتی افراد کو دشمن اور غدار مانا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ راہول گاندھی ریاست اتر پردیش کے حلقے امیٹھی سمیت ریاست کیرالا کے حلقے سے بھی لوک سبھا کے انتخابات لڑ رہے ہیں۔راہول گاندھی اس مرتبہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوں کے وزیر اعظم کے امیدوار ہیں اور وزارت عظمیٰ کے لیے ان کا مقابلہ نریندر مودی سے ہے۔نریندر مودی بھی 2 حلقوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں، نریندر مودی بھی ریاست اتر پردیش کے حلقے وارانسی سے لوک سبھا کے انتخابات لڑ رہے ہیں۔

علاوہ ازیں نریندر مودی ریاست گجرات سے بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔بھارت میں لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کے انتخابات 11 اپریل سے شروع ہوئے اور اب تک انتخابات کے 4 مرحلے ہوچکے ہیں۔چوتھے مرحلے کے لیے 29 اپریل کو بھارت بھر میں 72 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔لوک سبھا کے انتخابات 7 مرحلوں میں مکمل ہوں گے اور ووٹنگ کا آخری مرحلہ آئندہ ماہ 19 مئی کو ہوگا اور 23 مئی کو ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔

یہ بھی دیکھیں

میانمار مظاہرین کے جلوس جنازہ پر فوج کی فائرنگ

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں اور مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کا سلسلہ …