جمعہ , 14 مئی 2021

لیبیا کی قومی حکومت کے خلاف سازش، مغرب اور عرب ملک شریک

طرابلس (مانیٹرنگ ڈیسک)بعض بڑی مغربی طاقتوں، عرب ملکوں اور اقوام متحدہ نے لیبیا کے درالحکومت طرابلس پر خلیفہ حفتر کی فوج کے حملے پر خاموشی اختیار کر کے خلیفہ حفتر کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔لیبیا کی قومی حکومت کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر کی جانے والی بمباری میں بیرونی ملکوں کے جنگی طیارے شامل رہے ہیں۔الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کے وزیر داخلہ فتحی باشاغا نے کہا ہے کہ طرابلس پر کی جانے والی بمباری میں غیر ملکی جنگی طیاروں کی شمولیت کے بارے میں ان کے پاس دستاویزات بھی موجود ہیں اور جس طرح سے ٹھیک نشانے کے ساتھ یہ حملے کئے گئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بمباری دو عرب ملکوں کے طیاروں نے کی ہے۔

خلیفہ حفتر نے جب سے لیبیا میں مداخلت شروع کی ہے اور بحران کھڑا کیا ہے انھیں مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل رہی ہے اور پہلے مرحلے میں طرابلس پر حملے کا ذمہ دار سعودی عرب کو قرار دیا جا رہا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے سربراہ محمد بن زائد اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی پر بھی الزام ہے کہ وہ خلیفہ حفتر کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کے رابطے کے پس پردہ، اس کی حمایت کرتے رہے ہیں۔فتحی باشاغا کا کہنا ہے کہ خلیفہ حفتر کی زیر کمان فوج کے طرابلس پر حملے کے نتیجے میں لیبیا میں دہشت گرد گروہ ایک بار پھر فعال ہو گئے ہیں۔

انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ طرابلس پر ہونے والے فضائی حملوں پر عالمی برادری کی شرمناک خاموشی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، کہا ہے کہ لیبیا کی قومی حکومت، فرانس کی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان اقدار کی پابندی کرے کہ جن کی وہ دعویدار بنی رہی ہے اور وہ خلیفہ حفتر کے ساتھ مفاہمت اور یا اس کی حمایت کرنے سے باز رہے۔

لیبیا کی قومی حکومت نے اسی طرح ایک بیان میں کہا ہے کہ طرابلس پر خلیفہ حفتر کی زیر کمان فوج کے ہوائی حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی اس بات کا باعث بنی ہے کہ خلیفہ حفتر کی فوج، ان حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

فرانس، لیبیا میں خلیفہ حفتر اور اس کے منصوبوں کا سب سے بڑا حامی ہے اور اس پر خلیفہ حفتر کی مالی و اسلحہ جاتی حمایت کرنے کا بھی الزام ہے اور تیونس سے ملنے والی لیبیا کی سرحدوں سے تیرہ فرانسیسی فوجی ماہرین کی گرفتاری اس دعوے کا کھلا ثبوت ہے کہ فرانس خلیفہ حفتر کی بھرپور مدد و حمایت کر رہا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے بھی حال ہی میں خلیفہ حفتر سے ٹیلیفون پر بات کر کے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک طرابلس پر خلیفہ حفتر کی فوج کے حملے کی حمایت کرتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …